منہ زور مہنگائی، حکومت خاموش تماشائی

منہ زور مہنگائی، حکومت خاموش تماشائی
منہ زور مہنگائی، حکومت خاموش تماشائی

  

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت کی بے بسی اب کوئی خفیہ بات نہیں رہی مگر اس کے باوجود کپتان نے پھر یہ خوشخبری سنائی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا، ایسی خوشخبریاں عوام نے گزشتہ دو سال میں متعدد مرتبہ سنی ہیں اور ایسی ہر خوشخبری کو ذخیرہ اندوزوں، مہنگائی مافیا اور راتوں رات قیمتیں بڑھانے والے کاریگروں نے اپنے لئے غنیمت جانا ہے بلکہ مہنگائی مزید بڑھانے کا اشارہ سمجھا ہے۔ اپوزیشن تو نجانے کس مٹی کی بنی ہوئی ہے، لا یعنی مطالبات پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے جا رہی ہے، حالانکہ اس کے پاس مہنگائی کا ایشو ہی کافی ہے، جو عوام کو بآسانی سڑکوں پر لا سکتا ہے۔ مگر یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن بھی مہنگائی کم نہیں کرانا چاہتی کیونکہ اس کے سارے فنانسرز تو اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں، چینی، آٹا، پٹرول سمیت کسی چیز کو بھی سستا نہیں ہونے دیتے اب یہی دیکھئے کہ سرکاری ملازمین نے مہنگائی میں کمی اور تنخواہوں میں اضافے کے لئے اسلام آباد میں مظاہرہ کیا دھرنا دیا تو مشہور دھرنوں کی یادیں تازہ ہو گئیں جب بغیر کسی سیاسی سپورٹ کے مہنگائی اور کم تنخواہوں کے ایشو پر اتنا بڑا مظاہرہ ہو سکتا ہے تو سیاسی حمایت کے بعد کیا کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اپوزیشن کا یک نکاتی ایجنڈا صرف یہی ہے کہ انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں، نیب کو ختم کیا جائے اور جتنے سیاسی رہنماؤں پر نیب کے کیسز ہیں انہیں بری الذمہ قرار دیا جائے۔

ہر صبح اٹھ کر کسی دکان پر جاؤ تو کوئی بری خبر سننے کو ملتی ہے۔ آج میرے ساتھ پھر یہی ہوا انڈے خریدنے بیکری پر گیا تو اس نے یہ خبر سنائی کہ انڈے ایک سو ستر روپے درجن ہو گئے ہیں میں نے کہا او اللہ کے بندے کل تو 120 روپے درجن تھے یہ پچاس روپے فی درجن ریٹ ایک رات میں کیسے بڑھ گیا۔ مسکرا کر کہنے لگا، ”اور لیں تبدیلی کے مزے“ اب تو یہ جملہ ان سب لوگوں کی چھیڑ ہی بن گیا ہے جنہوں نے تبدیلی آئی رہے کے نغمے کو سن کر امید باندھ لی تھی کہ ملک میں مثبت تبدیلی آئے گی حالات بہتر ہو جائیں گے، خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ یہاں تو سب کچھ الٹ ہو رہا ہے سبزی و فروٹ والے پہلے فی کلو کا بھاؤ بتاتے تھے اب پاؤ کا بتاتے ہیں کیونکہ عام آدمی کی سکت اب پاؤ بھر ہے یا پھل خریدنے کی نہیں رہی۔

کپتان دو کام بہت تسلسل سے کرتے ہیں کوئی فیصلہ اور دوسرا برہمی کا اظہار ان دونوں کا نتیجہ کچھ نہیں نکلتا البتہ اظہار ضرور ہو جاتا ہے۔ چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انہوں نے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تو ساتھ ہی گندم بروقت درآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہے ان دونوں باتوں سے عوام کو بھلا کیا غرض ہو سکتی ہے چینی کے ذخیرہ اندوزوں کو تو وہ پہلے بھی کئی مرتبہ لگام ڈالنے کا اعلان کر چکے ہیں، جسے انہوں نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا چینی کی قیمت نیچے آنی تھی نہ آئی۔ اس دوران اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکل کر اس مہنگائی مافیا کی تجوریوں میں چلے گئے اب تو لوگ چینی کی مہنگائی کو بھول گئے ہیں کیونکہ آٹا اس سے بازی لے گیا ہے۔ سبزیاں اس دوڑ میں آگے نکلنے کے لئے پورا زور لگا رہی ہیں کدھر ہیں مارکیٹ کمیٹیاں، کدھر ہیں نیلی بتی جلا کے شہر میں فیملی کو شاپنگ کرانے والے مجسٹریٹ، کہاں چھپے ہوئے ہیں ضلعوں کے ڈپٹی کمشنرز بہادر اور کہاں غائب ہیں ڈویژنوں کے کمشنر سب صرف زبان کی کھٹی کھا رہے ہیں اور خلقِ خدا کو ظالم اور بے خوف ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور کارٹل بنا کے اشیاء مہنگی کرنے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اب تو خود تحریک انصاف کے عہدیدار یہ دہائی دینے لگے ہیں کہ پیارے کپتان، پیارے وزیر اعظم خدارا مہنگائی پر کنٹرول کریں، کیونکہ لوگ گلی محلے میں ان کا گریبان تک پکڑنے کو آگئے ہیں ریٹائرڈ پروفیسر اعجاز رسول چشتی جو عمران خان کے ہمیشہ سپورٹر رہے ہیں، اب اکثر سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کو مخاطب کر کے دہائی دیتے ہیں کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، ان کے لئے بنیادی ضرورت کی اشیاء سستی کریں، ایسا نہیں کر سکتے تو اقتدار چھوڑ دیں۔ ایسے حالات میں کوئی اپنی پارٹی کا دفاع کر سکتا ہے، جب ہر شعبے میں اس کی ناکامی صاف نظر آ رہی ہو۔ جب وزیر اعظم کے چاہنے والے یہ خبر سنتے ہیں کہ  کسی کام کے نہ ہونے پر عمران خان نے برہمی کا اظہار کیا ہے تو انہیں یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم ایک بے بس شخص ہے، جس کی بات ماننے کو ہی کوئی تیار نہیں پنجاب میں سبزیاں، پھل، دالیں وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں یہاں یہ اشیاء اتنی مہنگی کیوں ہو گئی ہیں؟ اس کا جواب پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے پوچھا جانا چاہئے، مگر سب کی نظریں وزیر اعظم عمران خان پر جاتی ہیں پنجاب میں راتوں رات قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق کیسے پیدا ہو جاتا ہے اس کی جوابدہی کے لئے عثمان بزدار کو سامنے آنا چاہئے کیونکہ صوبے کی انتظامیہ ان کے ہاتھوں میں ہے۔

پنجاب میں اس حوالے سے اتنی بری گورننس کیوں ہے کہ سبزی منڈیوں میں قیمتوں کا جو تعین کیا جاتا ہے، وہ بازاروں میں اس قیمت پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ یہ کاغذی ریٹ لسٹیں جاری کرنا ہی کیا انتظامیہ کا کام رہ گیا ہے۔ نجانے حکمران کس خمار میں مبتلا ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ لوگ اب دیوار کے ساتھ لگ چکے ہیں ان کی قوتِ خرید بالکل ختم ہو چکی ہے اور دو وقت کی روٹی کا حصول ان کے لئے سوہانِ روح بن گیا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور بڑے بڑے دعوؤں کو چھوڑیں پہلے عوام کو بھوک سے بچائیں۔ اگر گندم درآمد کرنے میں تاخیر ہوئی ہے تو گوداموں میں موجود گندم کو باہر لائیں تاکہ آٹے کا خوفناک بحران پیدا نہ ہو۔ زرعی ملک میں لوگ اگر قحط جیسی صورتِ حال کا شکار ہو جائیں تو حکمرانوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے، وزیراعظم عمران خان کو بیورو کریسی نجانے کن ترجیحات کی طرف لے جا رہی ہے۔ غذائی قلت کے بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی بنانے کی بجائے انہیں لگژری گاڑیاں خریدنے کے مشورے دے رہی ہے، حالانکہ اقتدار میں آتے ہی وزیر اعظم نے وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کو نیلام کرا دیا تھا۔ صورتِ حال اگر ایسی ہی رہی تو اپوزیشن کو حکومت گرانے میں کچھ زیادہ دشواری پیش نہیں آئے گی۔

مزید :

رائے -کالم -