”گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا“

”گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا“

  

 بت کد ہ ہند میں لا الٰہ لااللہ کی پکار،تصوف اسلامی کے محسن عظیم، کفرستان ہند میں خلق محمد ی کا عملی نمونہ پیش کرنے والی عظیم شخصیت اور اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستی حضرت سید علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخشؒ کی حیات مبارکہ اوران کی تعلیمات وارشادات کو نوک قلم سے صفحہ ء قرطاس پر منتقل کرنے کے سعادت حاصل کرنے سے پہلے ضرور ی ہے کہ اس وقت کے حالات کا مختصر ساجائزہ لیا جائے، جب ہادی اعظم سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ لطف و کرم اور عنایت سے ولایت کے ارفع واعلیٰ اور بلند مقام پر فائز سلطان الا صفیا حضرت شیخ علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کا سرزمین لاہور میں ورود مسعود ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں لاہور بلاشبہ غزنوی سلطنت کا حصہ تھا،مگر اس وقت تک یہاں اسلام کا زیادہ پھیلاو نہیں ہوا تھا،نہ ہی لاہور میں اسلامی اثرات کی نمایاں جھلکیاں نظر آرہی تھیں۔ کہنے کو تو حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی آمد سے قریباً تین سو سات برس قبل محمد بن قاسم 92ہجری میں سندھ کی سر زمین پر قدم جما چکا تھا۔اس نو جوان سپہ سالار کی قیادت میں اسلامی لشکر کی فتح کے پھر یرے لہراتا ہوا 95 ہجری میں ملتان پر قابض ہوا اور 97ہجری میں خلیفہ سلطان بن عبدالمالک نے محمد بن قاسم کو معزول کردیا۔ دیبل (کراچی)سے لے کر ملتان تک کا وسیع وعریض علاقہ قریباًچھے برس تک مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔مگر بوجوہ اس کے نتائج دو ررس ثابت نہ ہوئے،نہ اس حوالے سے توحید کی اذانوں کی گونج لاہور یا ہندوستان کے دیگر ملحقہ علاقوں میں پہنچ سکی۔ اگر چہ محمد بن قاسم نے سندھ میں مختلف علاقوں کو فتح کرنے کے بعد وہاں مساجد بھی تعمیر کروائیں تھیں۔

قرآن پاک میں متعدد مقامات پر تبلیغ اسلام اور اعلاے کلمتہ الحق کی جس قدر تاکید کی گئی ہے اور کسی شے کی نہیں ہے،بلکہ اس چیز کو قوموں کے عروج و زوال کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اس مقدس فرض کی بجاآوری کی تلقین وتاکید کی روشنی میں ہندوستان کے بتکدے میں اولیاء کرام کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ بھی دیگر اولیاء اللہ اور سلف صالحین کی طرح اس فرض کی اہمیت وافادیت سے نہ صرف پوری طرح با خبر تھے بلکہ ان کی حیات پاک اس امر کی غماز ہے کہ حضرت نے اپنی ساری زندگی اسلام کی تبلیغ اور اعلائے کلمتہ الحق میں گزار دی۔اس فرض کو عظیم الشان اور بے مثال انداز میں پورا کیا اور اس فرض کی ادائی میں زندگی میں ایک لمحہ بھر بھی تغافل سے کام نہ لیا،اسی کو اپنا مقصد حیات بنائے رکھا۔اس سلسلہ میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کا وطن مالوف ہزاروں کوس دور تھا،انہوں نے حصول مقصد کی خاطر،وطن مالوف تو ایک طرف رہا،اپنے اعزہ واقربا تک کو الوداع کہا اور ہندوستان جیسے دور افتادہ اور اجنبی ملک میں صرف اور صرف توحید کی شمع روشن کرنے کے لیے تشریف لائے تو،لاہور کفرو باطل کے پھنکارتے ہوئے اڑدہوں کی آماجگاہ تھا،باب الا سلام سندھ او ر ملتان میں محمد بن قاسم کی فتو حات پر تین صدیوں کی گرد جم چکی تھی،اگر چہ چوتھی صدی ہجری میں سلطان محمود غزنوی کے حملوں نے اس گرد کی جھاڑ پونچھ کی تھی اور اس خطے میں جو مٹھی بھر پر ستاران تو حید وقت کی بے رحم آندھیوں سے نڈھال ہوچکے تھے،انھیں وقتی طور پر سہارا ملا تھا۔مگر ہندوستان کے شمالی خطہ پر اس کے قطعی طور پر کوئی اثرات نہیں تھے۔سومنات پر غزنوی کے سترہ حملوں اور اس کی فوجوں کی مار دھاڑ سے کالی دیوی کے پجاری لرزہ براندام ضرور تھے،مگر ان کا مسلمانوں کے بارے میں جذبہ مخاصمت پوری طرح بھڑک رہا تھا۔تاریخ میں یہ بات نقش ہے کہ حضرت سید علی ہجویر ی داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے سرزمین لاہور میں قدم رنجہ فرمایا تو،یہ خطہ ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح کفرو شرک اور جہالت و بربریت کا خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔ہر طرف بت پرستی کا دور دورہ تھا۔

ایک نہیں لاکھوں باطل خداؤں کی پرستش ہوتی تھی۔جمادات ونباتات کو اپنا مشکل کشاو حاجت روا سمجھا جاتا تھا۔یہ گمراہ کن،شرک و کفر اور فسق و فجور سے بھرا علاقہ تھا۔اس سرزمین کفر میں صرف اور صرف تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھانے کی غرض سے قدم رکھنا کوئی آسان کا م نہیں تھا۔یہ کارنامہ اور اس کے لیے کٹھن راہ کو اختیار کرنے کا شرف اسی عظیم اور برگزیدہ ہستی کو حاصل ہو سکتا تھا،جس کا عزم و یقین فولاد سے زیاد ہ پختہ،ایمان پہاڑ سے کہیں زیادہ محکم ہو،جو مرد حق آگاہ ہو،جس کی ہمت اور عزیمت کے آگے بڑے بڑے بت پرست سورماؤں کا پتا پانی ہو جائے اور وہ تھے،حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ!

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی گمراہ کن ماحول اور آماجگاہ فسق و فجور میں ڈیرے ڈال کر،جس صبرو استقامت اور پامردی سے اپنی شہد جیسی زبان کی شیرینی،نگاہ لطف وکرم اور جلال جمال کا امتزاج لیے ہوئے سیرت و کردار کی تاثیر سے کفرستان کے قلعہ میں دراڑیں ڈال کر اسے زمین بوس کیا۔انھیں کی بدولت لاہور کو اپنے بابرکت قدموں سے نوازنے والے ایک بہت بڑے ولی اللہ اور صاحب کشف و کرامت بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے تشریف لا کے چلہ کشی فرمائی اور وقت رخصت بے اختیار پکار اٹھے!

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

ناقصاں راپیر کامل کاملاں رارہنما

اس شعر کی معنوی حکمت و ماہیت کو حقیقی طور پر وہی قلب حق شناس پہچان سکتے ہیں جنھوں نے جذبہ عشق میں مستغرق ہو کر یہ نعرہ مستانہ لگایا تھا اور جو آج دنیا کے گوشے گوشے میں بسنے والے کروڑوں فرزندان اسلام کے دل و دماغ میں رچ بس کر لبوں سے ادا ہوتا رہتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی طویل مخلصانہ اور مجاہدانہ تبلیغی جدو جہد سے نہ صرف لاکھوں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے بلکہ خود مسلمانوں میں جو طبقہ شرک و بدعت سے بری طرح متاثر ہو رہاتھا وہ خالص اسلام اور توحید سنت کے خزائن سے مالا مال ہوگیا۔اس حوالے سے اختر حسین شیخ نے ”طلوع آفتاب فیض عالم“کے عنوان سے اپنے ایک تحقیق مضمون میں لکھا ہے کہ محمود غزنوی بصارت و بصیرت کی تاریکیوں کے خلاف علم بلند کرنے والا وہ مجاہد تھا جس نے سرزمین ہند کو نخل صداقت بونے کے لیے ہموار کیا۔البتہ اس سچائی سے انکار کی گنجا ئش نہیں کہ اس نخل صداقت کو سینچنے اور پروان چڑھانے والے زیادہ تر صوفیا کرام تھے۔اس نیک سرشت گروہ میں سید علی ہجویر ی رحمتہ اللہ علیہ سرفہرست دکھائی دیتے ہیں۔یہ سچائی کے علمبردار،شمشیروسناں کی زبان برعکس ہمدردی وخیر خواہی کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے،جو دلوں کی سلطنتیں تسخیر کرنے کا تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔سنت نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے خلق خدا کے اندر کی سلطنت کو تسخیر کیا۔

(مضمون نگار کی معروف تصنیف ”فیض عالم“سے اقتباس)

مزید :

ایڈیشن 1 -