صنعتی اور زرعی ترقی کیلئے ہائیڈ روپاور سٹیشنز کے ذریعہ سستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ 

صنعتی اور زرعی ترقی کیلئے ہائیڈ روپاور سٹیشنز کے ذریعہ سستی بجلی فراہم کرنے ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی کابینہ خیبر پختونخوا نے صوبے میں صنعتی و زرعی ترقی کو تیز تر کرنے کیلئے صنعتی یونٹو ں کو ملاکنڈ۔III، دارل خوڑ، رانولیہ اور مچئی ہائیڈروپاور سٹیشنز کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے پیہور پاور سٹیشن کی طرز پر (open competition) کا کامیاب ماڈل اپنایا جائے گا۔ حکومت نے پہلے ہی سے سپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں لایا ہے۔ اس اقدام سے صوبے میں بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی، سکل ڈویلپمنٹ، پیداوار میں اضافہ غربت کے خاتمے اور خوشحال خیبر پختونخوا کا ہدف یقینی بنایا جا سکے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ پاور سٹیشنز سے مجموعی طور پر137میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔یہ بجلی صنعتوں کیلئے استعمال میں لانے سے صوبے میں صنعتی انقلاب آئے گا۔کابینہ نے اپنے اجلاس میں خیبر پختونخوا سکول بیگز لمیٹیشن ویٹ ایکٹ۔2019ء کی منظوری بھی دی ہے۔ جس کا اطلاق تمام سرکاری و نجی پرائمری و ثانوی سکولوں پر ہوگا۔ واضح رہے کہ بھاری بھر کم سکول بیگز کی وجہ سے بچوں میں کم عمری میں کمر کی تکلیف جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں سرکاری سکولوں کے سربراہان کے خلاف قانون کے مطابق تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ نجی سکولوں کی انتظامیہ کو خلاف ورزی کی صورت میں 2لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔صوبائی کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف درجوں اور بچوں کی عمر کے مطابق بیگز کیلئے جو وزن متعین کیا گیا ہے وہ کلاس پری گریڈ۔1کیلئے1.5 kg،گریڈ۔1کیلئے2.4 kg،گریڈ۔2کیلئے2.6 kg،گریڈ۔3 کیلئے3.0 kg،گریڈ۔4کیلئے4.4 kg،گریڈ۔5کیلئے 5.3 kg،گریڈ۔6کیلئے5.4 kg،گریڈ۔7کیلئے5.8 kg،گریڈ۔8کیلئے5.9 kg،گریڈ۔9کیلئے6.0 kg،گریڈ۔10کیلئے6.5 kg،گریڈ۔11کیلئے7.0 kgاورگریڈ۔12کیلئے7.0 kgہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیر، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔اس موقع پروزیراعلیٰ نے ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے خصوصی ہدایات دیں اور وزراء اورضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ بازاروں کے دورے کریں۔اور نرخ چیک کریں۔جبکہ سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کیے جائیں۔وزیراعلیٰ نے نوشہرہ اور صوابی میں غیر قانونی مائننگ کے خلاف موثر آپریشن کرنے پر محکمہ معدنیات کی کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے محکمہ جنگلات کو بھی ہدایت کی کہ وہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کریں۔صوبائی کابینہ نے اپنی نوعیت کی پہلی کامرس اینڈ ٹریڈ سٹریٹیجی2019-23ء کی منظوری دیدی ہے۔ یہ حکمت عملی وفاقی حکومت کو بھجوائی جائے گی۔اس سٹریٹیجی کے تحت بارڈرایریا میں بازاروں کا قیام،بزنس سے وابستہ افراد کیلئے سہولیات اور آسانیاں پیدا کرنا، محکموں کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مربوط کرنا،ٹریڈ کی ترقی کیلئے پروموشن ایونٹس، ہنر میلوں کا انعقاد، تکنیکی و فنی اداروں کی کمرشل سرگرمیوں میں شمولیت کے امور قابل ذکر ہیں۔واضح رہے کہ سی پیک اور سنٹرل ایشیاء ریجنل اکنامک کو اپریشن کی وجہ سے اس سٹریٹیجی کی بہت اہمیت ہے کیونکہ مستقبل میں سی پیک اور سنٹرل ایشیاء میں تجارتی مواقعوں کے تناظر میں خیبر پختونخوا تجارتی حب کی حیثیت اختیار کر لے گا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ آپریشنل پلان اور تخمینہ لاگت فور ی طور پر تیار کریں تاکہ اس پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ کو گندم کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ واضح رہے کہ صوبے میں گندم کی کمی پوری کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے پاسکو اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 660000 میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کیلئے آرڈر دیدیا ہے جس میں سے 218000 میٹرک ٹن گندم موصول ہو چکی ہے جس میں سے 3000میٹرک ٹن گندم رعایتی قیمت پر ملوں کو 6اگست2020سے روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے اس پر حکومت عوام کو سبسڈی بھی دے رہی ہے۔باقی ماندہ گندم درآمد کرنے کاعمل دسمبر تک مکمل کر لیا جائیگا۔اس سلسلے میں کابینہ نے تیمور جھگڑا، میاں خلیق الرحمان، اکبر ایوب، اور کامران بنگش پر مشتمل فوڈ کمیٹی تشکیل دی ہے جوگندم کی ترسیل، رعایتی نرخوں پر عوام کو آٹے کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے گی۔صوبائی کابینہ نے سوات سرینہ ہوٹل کی لیز کے معاملات طے کرنے کیلئے قائم کمیٹی میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو شامل کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں لیز کے ریٹس کا تعین سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ  سال2015تا2020ء تک ریٹس کا تعین اور سالانہ بنیادوں پر لیز کے ریٹس مقرر کرنے کی سفارشات مرتب کرے گا۔صوبائی کابینہ نے پراونشل سروسز اکیڈمی پشاور کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو کیلئے کمیٹی تشکیل دی جو وزیر تعلیم شہرام ترکئی، وزیربلدیات اکبر ایوب، وزیر قانون سلطان محمد خان اور سیکرٹری اسٹبلشمنٹ پر مشتمل ہوگی جو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔صوبائی کابینہ نے بوائلرز اور پریشرویسلز رولز کی منظوری بھی دیدی۔صوبائی کابینہ نے بنک آف خیبر جو کہ صوبے کا واحد پبلک سیکٹر کا بنک ہے کو زیادہ سے زیادہ سپورٹ فراہم کرنے کیلئے اداروں کے سرپلس فنڈ بنک آف خیبر میں جمع کرنے کی شرح10فیصد سے بڑھا کر20فیصد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔صوبائی کابینہ نے سوات میں حالیہ سیلابوں میں ضلع شانگلہ، مٹہ، بحرین،ضلع سوات اور کوہستان میں ایمرجنسی مذکورہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔صوبائی کابینہ نے ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے لئے گریڈ 18 کے افسر جمال الدین کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے ہیلتھ کئیر کمیشن کے غیر سرکاری ممبران کے طور پر اکرام غنی، ڈاکٹر لبنیٰ حسن، عابد حیات اور ڈاکٹر سبینہ عزیز کے ناموں کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے محکمہ تعلیم کی طرز پر صوبے میں صحت کی سہولیات کی مانیٹرنگ، بہتری اور عوام کی شمولیت یقینی بنانے کے لئے پرائمری کئیر منیجمنٹ کمیٹیز اور ہاسپٹل منیجمنٹ کمیٹیز کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ کمیٹیز پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کئیر سہولیات میں بہتری کے لئے قائم کی جارہی ہیں۔ ضلعی سطح پر ان کمیٹیوں کے قیام سے شفافیت، احساس ذمہ داری اور عوامی شرکت سے نچلی سطح پر احتساب کا عمل عوام کی موثر نگرانی کے ذریعے موثر بنایا جاسکے گا۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا alternate dispute resolution bill 2020  کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے اس بل کو مزید بہتر بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جو وزیر قانون سلطان محمدخان،وزیر ریلیف اقبال وزیر اور وزیر زکوۃ انور زیب پر مشتمل ہوگی۔ بل کا مقصد مختلف سول اور فوجداری تنازعارت/مقدمات کا حل نکالنا ہے۔ اس اقدام سے عوام کو نہ صرف عدالتی مقدمات میں اضافی اخراجات سے نجات ملے گی بلکہ وقت کی بچت کیساتھ ساتھ عدالتوں پر بھی مقامات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت پنجاب اور اسلام آباد میں یہ قانون پہلے ہی سے نافذالعمل ہے۔ بل میں ثالثین کی ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیوں کے قیام کی تجویز دیدی گئی ہے۔  صوبائی کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں تیز تر ترقیاتی پروگرام (AIP) کے تحت پولیس سٹیشنز اور پولیس پوسٹوں کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ اس سکیم کے لئے 7377 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔  صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترامیم کی منظوری بھی دیدی ہے۔ ترامیم کا مقصد گنے کی بروقت کرشنگ اور چینی کی مصنوعی قلت کی روک تھام ہے۔ کرشنگ کی تاخیر میں ملوث فیکٹریز کے خلاف جرمانوں میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب اس سلسلے میں پہلے ہی سے عمل درآمد کر چکی ہے۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا شوگر کین و شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ کے قیام کی منظوری بھی دی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -