ایبٹ آباد، 2005زلزلہ میں تباہ ہونے والا سکول تعمیر کا منتظر 

ایبٹ آباد، 2005زلزلہ میں تباہ ہونے والا سکول تعمیر کا منتظر 

  

ایبٹ آباد(بیورورپورٹ)یوسی بکوٹ پیخو نکر دوہزار پانچ کے زلزلہ میں تباہی ہونے والی سکول کی عمارت پندرہ سال سے تعمیر کی منتظر سکول کے طالبعلم کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور سکول کی عمارت کا ٹھیکہ ایرا کے ٹھیکدار کو دیا گیا تھا جو عمارت کو بجائے مکمل کرنے کے سکول کو بچا کھچا فرنیچر کھڑکیاں دروازے فروخت کر کہ غائب ہو گیا اہلیان علاقہ کی منتخب سیاسی نمائندوں کو دہائیاں سیاسی نمائندوں کے لارے کہوں سے تنگ آ کر اہل علاقہ نے سکول کی عمارت کو چندے سے تعمیر کرنا شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق یونین کونسل بکوٹ گاں پیخو نکر کا سکول جو کہ دوہزار پانچ کے المناک زلزلے میں تباہی ہوا پندرہ سال سے تعمیر کا منتظر ہے یونیسف کی طرف سے دیے گئے شلٹر جو پندرہ سال سے قائم ہیں وہ بھی ناکارہ ہو گئے سکول کی عمارت نامکمل ہونے کی وجہ سے سکول کے طالبعلم کھلے آسمان تلے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اہلیان علاقہ کے مطابق سکول کی عمارت دوہزار پانچ کے زلزلے میں تباہی ہوئی سکول کی عمارت کی تعمیر کا ٹھیکہ ایرا کے ٹھیکدار کے پاس تھا جو بجائے سکول کی عمارت کو مکمل کرنے کے سکول کا فرنیچر کھڑکیاں دروازے بھی فروخت کر گیا۔پندرہ سال سے سکول کی عمارت مکمل نہ ہو سکی اہل علاقہ نے کہا کہ سیاسی نمائندوں کے وعدوں سے تنگ آ کر ہم لوگ چندہ جمع کر کہ عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -