کوہاٹ،ڈبلیو ایس ایس سی کی سرد مہری،کروڑوں کے فلٹریشن پلانٹ خراب

کوہاٹ،ڈبلیو ایس ایس سی کی سرد مہری،کروڑوں کے فلٹریشن پلانٹ خراب

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) لاکھوں روپے کی لاگت سے وزارت بلدیات کی جانب سے لگائے گئے فلٹریشن پلانٹ ناقص کوالٹی اور ڈبلیو ایس ایس سی کے افسران کی لاپرواہی کی وجہ سے کئی مہینوں سے خراب پڑی ہے  جن کی مرمت کروانے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا جا سکا اس وقت کوتل ٹاؤن شپ میں کے ڈی اے ہسپتال کے قریب لگا فلٹریشن پلانٹ‘ ڈبلیو ایس ایس سی کے شکایت سیل کے باہر لگا فلٹریشن پلانٹ‘ کوتل ٹاؤن شپ میں ہی مسجد ابوزر لغاری کے قریب لگا فلٹریشن پلانٹ کئی مہینوں سے خراب پڑے ہیں جن کا پرسان حال کوئی نہیں اسی طرح پرانا لاری اڈہ میں فلٹریشن پلانٹ کا بیڑہ غرق پڑا ہے مگر اس جانب بھی ڈبلیو ایس ایس سی کے افسران کی کوئی توجہ نہیں جو کہ باعث شرم اور لمحہ فکریہ ہے اس وقت ڈبلیو ایس ایس سی کوھاٹ میں کئی ایسے افسران ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے‘ ان ہی افسران میں ایک پراجیکٹ منیجر بھی شامل ہے جو کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ 2 لاکھ سے زیادہ تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ صاحب بہادر کو پشاور لانے لے جانے کے لیے گاڑی اور ڈرائیور کی بھی سہولت میسر ہے اور پٹرول بھی مل رہا ہے مگر گزشتہ تین سالوں میں موصوف کوھاٹ شہر اور کے ڈی اے میں پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی اور صفائی کی صورت حال میں بہتری کے لیے کوئی پراجیکٹ ڈیزائن نہ کر سکے اور گزشتہ تین سالوں میں مبینہ طور پر تنخواہوں اور دیگر مراعات میں ایک کروڑ سے زیادہ موصوف وصول کر چکے ہیں مگر کارکردگی کا یہ حال ہے کہ نئے پراجیکٹ اور کمپنی میں کچھ بہتر کرنے کے بجائے خراب فلٹریشن پلانٹس تک کا علم نہیں کیوں کہ صاحب بہادر پشاور سے کوھاٹ آ کر سارا دن آفس میں بیٹھ کر واپس چلے جاتے ہیں عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کوھاٹ‘ سیکرٹری بلدیات‘ وزیر بلدیات اور کوھاٹ کے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈبلیو ایس ایس سی کی کارکردگی کو سنجیدگی سے مانیٹر کریں اور ہڈحرام افسران کو فارغ کر کے افسران کے شاہی خرچوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -