مجھے بے نامی کیس میں بلایا گیا، فٹیف قوانین کا مقصد ہمیں اندر کرنا تھا: خواجہ آصف

  مجھے بے نامی کیس میں بلایا گیا، فٹیف قوانین کا مقصد ہمیں اندر کرنا تھا: ...

  

  اسلام آباد (این این آئی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایاگیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ کا اگلا جائزہ اجلاس فروری 2021 میں ہوگا، اس وقت تک پاکستان پوسٹ ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر چکا ہوگا جبکہ چیئر مین کمیٹی نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ہمارے گلے ہی پڑ گیا ہے، ایف اے ٹی ایف اور سیکیورٹی کے نام پر بلا جواز اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بدھ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان پوسٹ آفس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے متعلق بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری وزارت مواصلات ظفر حسن نے بتایاکہ پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے، ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 شرائط پاکستان پوسٹ سے متعلق تھیں، ہمیں سفارشات پر عمل درآمد کیلئے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی، جون میں ایچ بی ایل کے ساتھ ڈیجیٹل سروسز کیلئے معاہدہ کیا گیا۔معاہدے کا مقصد فنانشل سروسز کی سیکیورٹی اور نگرانی ہے، معاہدے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، تاہم ہائی کورٹ کی جانب سے پٹیشن نمٹا دی گئی۔سر دار ایاز صادق نے کہاکہ ایچ بی ایل کے ساتھ معاہدے میں نیب اور پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، 118 ارب روپے کا معائدہ 100 روپے کے سٹامپ پیپر پر کیا گیا،آپ لوگوں کیخلاف ایک لمبی چارج شیٹ ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہاکہ اس معاہدے میں قواعد کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے، وزارت خزانہ نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔  سر دار ایازصادق نے کہاکہ کیا نیب کو یہ سب خود نظر نہیں آرہا، ہم کیس منتقل نہیں کریں گے، پوسٹ آفس ڈائریکٹوریٹ نے بھی معاہدے کو غیر قانونی قرار دیا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف قوانین فیٹف کیلئے نہیں تھے، ان قوانین کا مقصد ہمیں اندر کرنا تھا، نیب کو اختیارات دیئے گئے تاکہ وہ بوقت ضرورت استعمال کر سکے۔ ایاز صادق نے کہاکہ یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں ان پر نیب کیس بناتی ہے،خواجہ آصف، نورعالم، جہانگیر ترین کے خلاف کیسز بن جاتے ہیں،ہم نیب کے اس پسند نا پسند کو مثال بنائیں گے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ نیب والے یہاں کرنے کیا آتے ہیں،جب کرنا کچھ نہیں تو پی اے سی میں آتے کیوں ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب نے کہاکہ تمام باتیں نوٹ کر لی ہیں جو اعلی افسران تک پہنچا دونگا۔کمیٹی رکن نور عالم خان نے کہاکہ نیب سے تفصیلات لی جائیں،نیب بتائے کہ اب تک کتنے سیاستدان اور بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کی گئیں،کتنے جج اور جرنیل ہیں جن کے خلاف کیسز ہیں۔بتایا جائے کہ نیب کا کیس رجسٹر کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟بے نامیوں میں لوگوں کی پیشیاں ہوتی ہیں ہم جو شکایت دیں اس پر دو دو سال کیس نہیں بنتا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ مجھے بے نامی کیس میں بلایا گیا، نور عالم نے کہاکہ نیب والے بتائیں کہ ان کے اپنے افسران کی دیانداری کی جانچ پڑتال کیسے ہوتی ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہاکہ پھر تو کہیں گے کہ روک سکو تو روک لو۔

خواجہ آصف

مزید :

صفحہ آخر -