داؤد کالونی میں دوسکولز اور یتیم خانے کے ساتھ واسا کے غیر قانونی ڈسپوزل سٹیشن کا این او سی منسوخ 

    داؤد کالونی میں دوسکولز اور یتیم خانے کے ساتھ واسا کے غیر قانونی ڈسپوزل ...

  

 فیصل آباد (سپیشل رپورٹر) محکمہ ماحولیات نے داؤد کالونی میں دو سکولز اور یتیم خانے کے ساتھ غیرقانونی قائم واسا کے ڈسپوزل سٹیشن کا این او سی منسوخ کر دیا۔ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا واسا کے ڈائریکٹر کنسٹرکشن کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ واسا حکام نے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور تعلیمی اداروں کے لئے سکیورٹی تھریٹ بننے والا ڈسپوزل سٹیشن بند کرنے سے انکار کر دیا۔ متاثرہ تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کا واسا حکام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ ڈسپوزل سٹیشن میں سکیورٹی اہلکار نہ ہونے سے کسی بھی وقت سانحہ اے پی ایس جیسا سانحہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ڈسپوزل سٹیشن ختم کر کے ڈسپنسری یا پارک بنانے کا مطالبہ۔ تفصیل کے مطابق واسا حکام نے کچھ عرصہ قبل غلط بیانی کرتے ہوئے کاغذات میں کوئی اور جگہ ظاہر کر کے محکمہ ماحولیات سے دھوکہ دہی سے داؤد کالونی میں دو تعلیمی اداروں اور یتیم خانے سے ملحقہ جگہ پر ڈسپوزل سٹیشن کی منظوری حاصل کر لی۔ عوامی احتجاج اور درخواستوں پر محکمہ ماحولیات کے انسپکٹر محمد امتیاز کی انکوائری اور معائنے کے دوران واسا حکام کے جھوٹ کا پول کھل گیا جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات فیصل آباد نے کارروائی کرتے ہوئے اس غیرقانونی ڈسپوزل سٹیشن کا این او سی منسوخ کر کے ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی پنجاب کو لیٹر لکھ دیا۔ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واسا کی طرف سے اس ڈسپوزل سٹیشن کی منظوری کے سلسلے میں مطلوبہ قانونی شرائط پورا نہیں کر سکا، اس لئے اس کو دیا گیا این او سی منسوخ کیا جائے۔ محکمہ ماحولیات کی رپورٹ کے مطابق ڈسپوزل سٹیشن کی بدبو سے دونوں سکولز کے ڈیڑھ ہزار طلباء  و طالبات کی صحت اور تعلیم بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔ علاقہ مکینوں اور سکول انتظامیہ کی طرف سے متبادل جگہ اور تعمیر کے اخراجات دینے کی پیشکش کے باوجود واسا حکام نے زبردستی سکولز سے ملحقہ پلاٹ پر ڈسپوزل سٹیشن تعمیر کر دیا ہے۔ محکمہ ماحولیات نے این او سی منسوخ کئے جانے کے باوجود اس جگہ پر ڈسپوزل سٹیشن تعمیر کروانے پر ڈائریکٹر کنسٹرکشن واسا کو شوکاز نوٹس بھیج دیا ہے۔ دوسری طرف واسا حکام نے این او سی منسوخ ہونے کے باوجود غیرقانونی ڈسپوزل سٹیشن پر کام بند نہیں کروایا جس سے پورے علاقے کی فضا متعفن اور آلودہ ہو چکی ہے۔ سکولز کے اساتذہ اور طلباء و طالبات نے گزشتہ روز واسا کے غیرقانونی ڈسپوزل سٹیشن کے خلاف احتجاج کیا۔ طلباء و طالبات نے اپنے مطالبات پر مبنی تحریروں والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ ڈسپوزل سٹیشن کے این او سی کی منسوخی کے باوجود واسا حکام علاقے میں بیماریاں بانٹ رہے ہیں جبکہ اس ڈسپوزل سٹیشن کی وجہ سے دونوں سکولز کے طلباء و طالبات کو سخت سکیورٹی تھریٹ بھی لاحق ہے اور اس سٹیشن میں سکیورٹی اہلکار نہ ہونے سے کسی بھی وقت سانحہ اے پی ایس جیسا سانحہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ آلودہ پانی کی بدبو اور سکیورٹی خدشات سے ڈیڑھ ہزار سے زائد طلبہ کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے۔ کلاس رومز میں سخت بدبو کے باعث طلبہ کے لئے پڑھنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ڈسپوزل سٹیشن یہاں سے منتقل کروائیں۔ سکولز کے ساتھ قائم ڈسپوزل سٹیشن ختم کر کے یہاں ڈسپنسری یا پارک تعمیر کیا جائے۔

 ڈسپوزل سٹیشن

مزید :

صفحہ آخر -