تعمیراتی شعبے کی ترقی میں معیشت کی ترقی مضمر ہے: فیاض الیاس

        تعمیراتی شعبے کی ترقی میں معیشت کی ترقی مضمر ہے: فیاض الیاس

  

 کراچی(اکنامک رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین فیاض الیاس نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم  کے لیے مراعاتی پیکج سے مکمل  استفادہ کے لیے رجسٹریشن کی مدت میں 31 دسمبر 2021 تک توسیع   اور اسکیم کے تحت ہاؤسنگ پروجیکٹس کی تکمیل کی مدت میں  اضافے کا مطالبہ کردیا ہے۔یہ مطالبات انھوں نے  آباد ہاؤس میں تعمیراتی صنعت کے لیے اعلان کردہ ریلیف پیکج سے متعلق بلڈرز اور ڈیولپرز کو آگاہی دینے کے لیے  منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیش کیے۔اس موقع پر  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیف کمشنر میڈیم ٹیکس پیئر آفس عبدالحمید میمن،کمشنر آئی آر آڈٹ عبدالحفیظ،ایف بی کے دیگر افسران،آباد کے سینئر وائس چیئرمین محمد ایوب،وائس چیئرمین  عارف شیخانی اور چیئرمین سدرن ریجن دانش بن رؤف اور آباد کے ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فیاض الیاس نے کہا کہ آباد کم آمدنی والے طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی کے لیے وزیراعظم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انھوں نے کہا  تعمیراتی شعبے کی ترقی میں معیشت کی  ترقی مضمر ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف پیکج آباد کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ ریلیف پیکج کے  تحت حکومت  بلڈرز اور ڈیولپرز کو انفرا اسٹرکچر اور اراضی فراہم کرے گی۔اس موقع پر ایف بی آر کے چیف کمشنر میڈیم ٹیکس پیئر آفس عبدالحمید میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت بلڈرز اور ڈیولپرز کو ٹیکس سے متعلق  3 ترغیبات دی گئی ہیں جن میں 31 دسمبر 2020 سے پہلے اسکیم میں سرمایہ  کاری کرنے والوں سے  ذرائع آمدن نہیں پوچھیں جائیں گے، ٹیکس کی شرح عمومی ٹیکسوں کے مقابلے میں 4 گنا کم ہوگی جبکہ منصوبوں میں پہلے خریدار سے بھی ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکج سے بلڈرز اور ڈیولپرز بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں 31 دسمبر 2020 تک  رجسٹریشن کرائیں۔انھوں نے کہا کہآباد کے ممبر کو ایف بی آر کے لیے  فوکل پرسن تعینات کیا جائے گا تاکہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے ٹیکس سے متعلق مسائل کو فوری حل کیا جاسکے۔ اس موقع پر کمشنر آئی آر آڈ ٹ عبدالحفیظ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں نیا پروجیکٹ شروع کرنے والوں سے ذرائع آمدن سے متعلق استفسار نہیں کیا جائے گا تاہم  نئے پروجیکٹس کو 30 ستمبر 2022  تک مکمل کرنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں پروجیکٹ مکمل ہونے کی صورت میں ہی ٹیکس میں رعایت  ملے گی،مقررہ مدت میں پروجیکٹ مکمل نہ کرنے والا بلڈر ٹیکس رعایت کا مستحق نہیں ہوگا۔17 اپریل سے 31 دسمبر 2020  تک شروع کیے جانے والے پروجیکٹس اسکیم میں رجسٹر ہوں گے۔انھوں نے وضاحت کی کہ  ایس بی سی اے سے پلان کی منظوری میں تاخیر کے باوجود  ایف بی آر عارضی رجسٹر کرلے گا۔عبدالحفیظ نے بتایا کہ  ایف بی آر 17 اپریل کے بعد اراضی خریدنے کی صورت میں  ادا شدہ ٹیکس پر ٹیکس کریڈٹ کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔مقررہ مدت میں پروجیکٹس 50 فیصد مکمل نہ ہونے پر بلڈر اسکیم سے خارج ہوجائے گا۔آباد کے سینئروائس چیئرمین محمدایوب نے ایف بی آر کے افسران اور تمام شرکا کا سیمینار میں بھرپور شرکت پر تشکر کا اظہار کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -