کراچی، آرٹس کونسل انتظامیہ نے بارشوں سے نقصان کو چھپا دیا 

کراچی، آرٹس کونسل انتظامیہ نے بارشوں سے نقصان کو چھپا دیا 

  

 کراچی (خصوصی رپورٹ)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں بارشوں کے دوران نوتعمیر شدہ عمارت میں ہونے والی تباہی کو ادارے کے ذمہ داران نے کمال مہارت سے چھپادیا۔ احمد شاہ بلڈنگ کے بیسمنٹ میں بارش کا پانی داخل ہونے سے لاکھوں روپے کا سامان خراب ہوگیا۔بجائے اس کے کہ آرٹس کونسل انتظامیہ کو معاملات کو درست کرتی اس نے تمام ساری توانائی واقعات کو چھپانے پر لگادی اور اس ضمن میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے خرچ کردیئے گئے۔شہری حلقوں اور آرٹس کونسل کے ارکان نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹس کونسل میں عمارت کی تعمیر میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جائے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں مون سون سیزن کے دوران ہونے والی ریکارڈ بارشوں نے شہر کا حلیہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔جہاں ایک جانب پوراشہر پانی پانی تھا وہیں دوسری جانب سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے ذمہ دار چین کی بانسری بجاتے ہوئے لوگوں کو بتاتے رہے کہ بہترین انتظامات کی وجہ سے آرٹس کونسل کی عمارت کو ان بارشوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل آرٹس کونسل میں ایک نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی جس کو ذمہ داران نے اسٹیٹ آف دی آرٹ عمار ت قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی تعمیر میں تمام جدید تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے لیکن حالیہ بارشوں نے ان تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ذرائع کے مطابق بارش کا پانی عمارت کے بیسمنٹ میں داخل ہونے سے وہاں موجود لاکھوں روپے ک اسٹوڈیو مشینری اور دیگر سامان پانی کی نذر ہوگیا اور کئی ہفتوں تک یہ پانی بیسمنٹ میں موجود رہا اور اس کی نکاسی کا انتظام نہ ہوسکا۔بجائے اس کے کہ آرٹس کونسل کی انتظامیہ عمارت سے پانی کے نکاسی کے انتظامات کرتی اس نے تمام توجہ اس خبر کو چھپانے میں لگادی اور کوشش کی جاتی رہی کہ یہ خبر میڈیا کی زینت نہ بنے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں پانی کے نکاسی کے انتظام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کا خمیازہ حالیہ بارشوں میں اٹھانا پڑا۔دوسری جانب شہری حلقوں اور آرٹس کونسل کے ارکان نے شہر کے سب سے بڑے ثقافتی مرکز میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ آرٹس کونسل کراچی میں ہونے والی خلاف ضابطہ سرگرمیوں اور مبینہ مالی خورد برد کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرے۔

مزید :

صفحہ آخر -