بلدیاتی انتخابات، 219اعتراضات اور تجاویز الیکشن کمیشن کے پاس داخل 

  بلدیاتی انتخابات، 219اعتراضات اور تجاویز الیکشن کمیشن کے پاس داخل 

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی الیکشن کمشنر، خیبرپختونخوا  شریف اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لئے  ویلیج اور نیبر ہڈ کونسلوں کی ابتدائی حلقہ بندیوں پر مجموعی طور 219اعتراضات  اور تجاویز  Delimitation Authorities کے پاس داخل کی گئی ہیں۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کو اپنے دفتر میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جائینٹ صوبائی الیکشن کمشنر، خیبرپختونخوا ہارون خان شینواری، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ الیکشن عنایت اللہ خان وزیر، ڈائریکٹر الیکشن خوشحا ل زادہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ الیکشن  محمد ناصر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا۔ کہ  الیکشن کمیشن نے صوبہ خیبرپختونخوا کے لئے 07ڈویژن کے ریجنل الیکشن کمشنرز  کو Delimitation Authorities مقرر کیا  ہے۔ جو ان عوامی اعتراضات پر متعلقہ ضلع میں سماعت کرکے فیصلہ 17اکتوبر2020تک کریں گے۔ شریف اللہ نے میڈیا کو مزید بتایا کہ عوام کی جانب سے  ضلع نوشہرہ میں 39خیبر میں 18مہمند میں 11چارسدہ میں 8 صوابی میں  6، ہنگو میں 01اورکزئی  03کرم میں 03شمالی وزیرستان میں 04لکی مروت میں 03، ٹانک میں 04جنوبی وزیرستان میں 33، اپر دیر میں 03لوئر دیر میں 11شانگلہ میں 01بونیر میں 03، باجوڑ میں 14مانسہرہ میں 18، کوہستان میں 8  اور ہری پور میں 28 اعتراضات و تجاویز  داخل کئے گئے ہیں جبکہ کرک، ملاکنڈ، چترال، تورغر اور بٹگرام میں کوئی اعتراض الیکشن  کمیشن  کے پاس جمع نہیں  گیا ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ریجنل الیکشن کمشنرز جو کہ Delimitation Authorities   مقرر کئے گئے ہیں۔ ان اعتراضات کی سماعت اپنے شیڈول کے مطابق متعلقہ ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر  میں کررہے ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن 25اکتوبر    2020 کو ان حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست  جاری کریگا۔انہوں نے کہا کہ ضلعی ہیڈکوارٹرز کے اضلاع جن میں پشاور، مردان، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، سوات اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔ میں صوبائی حکومت کی جانب سے تحصیل سٹی کونسل  کے قیام سے متعلق قانون سازی نہ ہونے کے باعث  حلقہ بندی شروع نہیں کی جاسکی ہے۔اور اس سلسلے میں  چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کے گذشتہ ہفتہ پشاور کے دورہ کے دوران دی گئی ہدایات  کی روشنی میں صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جاچکا ہے تاکہ یہ قانونی سقم جلد دور ہوکر ان اضلاع میں بھی حلقہ بندیاں کی جاسکیں۔   

مزید :

پشاورصفحہ آخر -