امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹرز  کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ متوقع

      امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹرز  کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ متوقع

  

واشنگٹن (بیورو رپورٹ) اس وقت 3نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں تقریباً تین ہفتے باقی ہیں۔ کرونا وائرس کی وباء کے باعث ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹیوں کے پرائمری انتخابات اور قومی کنونشن بہت محدود طریقے سے اور زیادہ تر آن لائن ہوئے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا تھاکہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر کے باعث پہلے کی نسبت کم ووٹ پڑیں گے لیکن جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے یہ تصور بدلتا جا رہا ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے خصوصی مہم چلائی کہ ووٹرز قبل از وقت ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا قانونی آپشن استعمال کریں جس سے وہ ووٹ ڈالنے کے باوجود کرونا سے بچیں رہیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس مہم پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کم سکروٹنی کے باعث جعلسازی کا امکان بڑھ سکتا ہے لیکن ووٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا رجحان بڑھتا چلا گیا۔ اس رپورٹ تک بیالیس لاکھ سے زائد ووٹرز ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا آپشن استعمال کرسکتے ہیں۔ ملک سے باہر خصوصاً فوجی شعبے کے ارکان ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجتے ہیں لیکن ملک کے اندر موجود بھی یہ طریقہ استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم مختلف ریاستوں نے اس طرح ووٹ ڈالنے کیلئے آخری حد کا اپنے طور پر تعین کر رکھا ہے۔ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں اس وقت تک صرف 75 ہزارووٹ ڈالے تھے۔ موجودہ انتخابات میں ڈاک کے ذریعے زیادہ وٹ ڈالے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے گورنروں والی ک از کم بیس ریاستوں کے ضابطوں کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی شح میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کے باوجود ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشن جانے کیلئے باہر نکلیں گے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکن پارٹی کی اپنے ووٹروں کو باہر نکالنے کی مہم کامیاب نظر آئی ہے۔ امکان ہے کہ صدر ٹرمپ کے حامی جوبائیڈن کی نسبت زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے جس کا صدر ٹرمپ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹرن آؤٹ

مزید :

صفحہ اول -