حکومت ریسرچ اداروں کی مالی مشکلات دور کرے‘ ڈاکٹر زاہد محمود 

حکومت ریسرچ اداروں کی مالی مشکلات دور کرے‘ ڈاکٹر زاہد محمود 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)کپاس کے عالمی یوم کے موقع پر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں عالمی یوم کپا س کے موقع پر منعقدہ سمینار سے  اپنے ٹیلی فونک خطاب میں  وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخرامام کا کہنا تھا کہ حکومت کپاس کے کاشتکاروں کے مسائل سے پوری طرح آگا ہ  ہے اور ان کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے (بقیہ نمبر30صفحہ 6پر)

ہوئے ڈائریکٹر سی سی آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ سی سی آر آئی سی سی آر آئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کے پیش نظر بہترین اقسام تیار کر رہا ہے اور مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کے لئے حکومت ریسرچ اداروں کی مالی مشکلات دور کرے تاکہ ہمارے زرعی سائنسدان کپاس کے کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے مزین موسمیاتی تبدیلیوں اور کپاس کے کیڑے مکوڑوں کے خلاف بہترین اقسام مہیا کر سکیں۔انھوں نے کہا کہ ہم موجودہ صورتحال میں بھی اچھی مینجمنٹ کے ذریعے بہترین پیداوار کے سکتے ہیں اورمتعلقہ اداروں کو چاہئیے کہ وہ کپاس کی منافع بخش پیداوار کے لئے پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے تا کہ کاشتکاروں کی مشکلات دور ہو سکیں۔ کپاس کے عالمی یوم پر سیکریٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کا کہنا تھا ملکی معیشت کے استحکام اور کپاس کے فروغ کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا  تب جا کر ہم کپاس کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں گے۔  کاٹن کمشنر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کپا س کی تحقیق وترقی کے لئے ریسرچ اداروں میں فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنائے گی اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ پی سی سی سی کے مالی مسائل کو دور کرنے کے لئے اینڈونمنٹ فنڈزبہت جلد فراہم کئے جائیں گے۔ پی سی جی اے کے چیئرمین ڈاکٹر جیسو مل کا کہنا تھا کہ اس وقت کپاس کی کم پیداوار کی وجہ سے کاشتکاروں کے ساتھ جننگ سیکٹرز کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ فوری طور پر وزیر اعظم کی سربراہی میں کپاس کی کم پیداوار پرفوری ایک کمیشن قائم کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ کینزو اے جی کے ایگزیکٹو آصف مجید کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئے ایریاز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کاشتکار بہت محنتی ہے لیکن اسے اس کی محنت کا صلہ وہ نہیں مل رہا جو اسے ملنا چائیے۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ کپاس کے ریسرچ کے اداروں کے منجمد فنڈز بحال کرے مالی مشکلات میں گھرے ریسرچ کے اداروں کے فنڈز بحال کئے جائیں اور تحقیق پر پیسہ خرچ کیا جائے تا کہ ریسرچ کے ادارے کپاس کی جدید ٹیکنالوجی سے مزین  کپاس کے اعلی اور معیاری بیج کاشتکاروں کو فراہم کریں اور کپاس کی فصل منافع بخش ہو سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ڈیوٹی فری کپاس کی امپورٹ پر پابندی لگائے اور اپنے کاشتکاروں کو نقصان سے بچائے اور کپاس کی پیداواری لاگت کم کرے تا کہ کسان کپاس کو چھوڑ کر دوسری فصلوں کا رخ نہ کر سکیں۔ کپاس کے عالمی دن کے موقع پر بی سی آئی کے چیئرمین داکٹر شفیق کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت ماحول دوست کپاس کے لئے کام کرنا ہوگا اس موقع پر بی سی آئی کی طرف سے کپاس  کے پیداواری مقابلہ میں اول دوم اور سوم آنے والے کاشتکاروں کو نقد انعامات بھی دئے گئے۔سی سی آر آئی میں منعقدہ عالم یوم کپاس کے موقع پر خواتین و مرد کاشتکاروں کی کثیر تعداد کے علاوہ فیشن انڈسٹری،جنرز، ٹیکسٹائل اندسٹریز، سیڈ،فرٹیلائزر،پیسٹی سائیدز، زرعی جامعات۔ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کثیر تعداد شرکت کی اس کے علاوہ مختلف کمپنیز کی طرف سے اسٹالز بھی لگائے گئے۔آخر میں ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود کی طرف سے مختلف کمپنیز کے نمائندگان اور دیگر افراد کو شیلڈ بھی دی گئیں۔

فخر امام

مزید :

ملتان صفحہ آخر -