نیب آئے ہم گرفتاری دینے کیلئے تیار ہیں، غداری کے مقدمات کو جوتے نی نوک پر رکھتے ہیں: فضل الرحمن 

  نیب آئے ہم گرفتاری دینے کیلئے تیار ہیں، غداری کے مقدمات کو جوتے نی نوک پر ...

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی،آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے صدر مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف درج غداری کے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا  ہے کہ غداری کے مقدمات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، غدار وہ ہیں جنہوں نے دھاندلی کی ہے، ہمیں نیب کے ذریعے اب ڈرایا جارہا ہے، نیب والے آئیں تو صحیح ہم تو گرفتاری دینے کیلئے تیار ہیں، نیب پشاور نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کیس کو اسلام آباد بھیج دیا۔بدھ کولاہور میں میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ غداری کے مقدمے کس نے بنائے ہیں، جو خود غدار ہیں، جن کے خلاف غداری کے فیصلے ہو چکے ہیں اور عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنماوں کے خلاف غداری کے مقدمے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں تین سابق جرنیل ہیں اور آزاد کشمیر کا وزیراعظم شامل ہے، اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کیا بھارت کے ایجنٹ نہیں بنتے۔ جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف غداری کا کیس بنائیں گے تو اس سے کیا پیغام جائے گا، لہذا یہ کوئی مقدمہ نہیں ہے اور اہم ایسے مقدمات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور ان کا مقابلہ کریں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ غدار وہ ہیں جنہوں نے دھاندلی کی ہے، غدار وہ ہیں جو عوام کے مینڈیٹ کے بغیر قوم پر مسلط ہیں، غدار وہ ہیں جس کے خلاف عدالتی فیصلے آئے اور پھر وہ عدالتی کمیشن تحلیل کردیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جنگ نہ چھیڑی جائے، ہم ایسی جنگ میں لڑنے کے بڑے عادی ہیں، ہم ملک کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہتے ہیں، ہمیشہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ انتہا تک نہ جائیں، ہم انتہا تک بالکل نہیں جارہے بلکہ آئین کے حدود کے اندرجارہے ہیں لیکن کوئی دوسرا ادارہ بھی آئین کی حدود سے آگے نہ جائے اور انتہاپسندی کی طرف نہ جائے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس ملک کی حفاظت، معاشی ترقی، عوام کی خوش حالی ہمارا ہدف ہے کہ جب موجودہ حکومت ناجائز، نالائق اور نااہل بھی ہو اور عوام ایک کرب میں مبتلا ہوں تو اس کو نہ تو عوام کی نمائندہ حکومت کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ عوام کی توقعات پر پوری اترسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عام آدمی اور غریب کی کمر توڑ دی ہے، اس وقت بھی اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کا احتجاج جاری ہے اور آج ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے جس پر ہم مذمت کرتے ہیں ساتھ ہی ان کے مطالبات کی بھرپورحمایت کرتے ہیں۔اپوزیشن کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی کا کارروان چل پڑا ہے، ملک میں آئین کی بالادستی کا کاروان ہے اور عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام کے سفر کا آغاز قومی سطح پر کیا جارہا ہے۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -