ن لیگی قیادت کے خلاف غداری کا مقدمہ ، مدعی کے بارے میں صحافیوں کو معلومات نہیں تھیں لیکن پھر انہیں ” بدر رشید خان ہیرا“ کے بارے میں معلومات کس نے دیں ؟ سینئر صحافی حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا 

ن لیگی قیادت کے خلاف غداری کا مقدمہ ، مدعی کے بارے میں صحافیوں کو معلومات ...
ن لیگی قیادت کے خلاف غداری کا مقدمہ ، مدعی کے بارے میں صحافیوں کو معلومات نہیں تھیں لیکن پھر انہیں ” بدر رشید خان ہیرا“ کے بارے میں معلومات کس نے دیں ؟ سینئر صحافی حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں دعویٰ کیاہے کہ غداری کے مقدمے کے مدعی کے متعلق صحافیوں کو زیادہ معلوم نہ تھا لیکن لاہور پولیس کے کچھ اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خاموشی سے کچھ صحافیوں کو بدر رشید خان ہیرا کے متعلق معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ بغاوت کے اس مقدمے کا مدعی دراصل ایک اشتہاری اور جرائم پیشہ شخص ہے جو تحریک انصاف کے اہم رہنماﺅں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے اکثر پولیس پر دباﺅ ڈالتا رہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے کا کالم آج ” جنگ “ میں شائع ہواہے جس میں ان کا کہناتھا کہ کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے ایک مقدمے نے صرف حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو پوری دنیا کے سامنے لا پھینکا ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے الزامات اور مقدمات کوئی نئی بات نہیں لیکن جس تیزی کے ساتھ تھانہ شاہدرہ لاہور میں مسلم لیگ ن کی قیادت کیخلاف درج ہونے والا بغاوت کا مقدمہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیلئے سامانِ رسوائی بنا ہے ا±س کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اِدھر مقدمہ درج ہوا، ادھر وزیراعظم صاحب نے مقدمے سے اعلانِ لاتعلقی کر دیا۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے اور وفاقی حکومت کا براہِ راست ایسے مقدمات کے درج ہونے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر محمد سرور نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ سیاسی لوگوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کے حق میں نہیں۔

دوسری طرف لاہور پولیس نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرکے کہا کہ ایک عام شہری کی شکایت پر قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن یہ عام شہری پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن نکلا۔ ناصرف سرگرم کارکن نکلا بلکہ اِس کے خلاف ماضی میں پانچ مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں اور اِس کا شمار اپنے علاقے کے نامی گرامی جرائم پیشہ افراد میں ہوتا ہے۔ مقدمے کے مدعی کے متعلق صحافیوں کو زیادہ معلوم نہ تھا لیکن لاہور پولیس کے کچھ اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خاموشی سے کچھ صحافیوں کو بدر رشید خان ہیرا کے متعلق معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ بغاوت کے اس مقدمے کا مدعی دراصل ایک اشتہاری اور جرائم پیشہ شخص ہے جو تحریک انصاف کے اہم رہنماﺅں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے اکثر پولیس پر دباﺅ ڈالتا رہتا ہے۔

اس شخص کے کئی بااثر لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور انہی بااثر لوگوں کے کہنے پر پولیس نے بلاسوچے سمجھے مسلم لیگ ن کے چالیس سے زائد رہنماﺅں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا حالانکہ لاہور پولیس کے ایک سینئر افسر نے زبانی طور پر اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ اور اسلام ا?باد ہائیکورٹ واضح ڈائریکشن دے چکے ہیں کہ تعزیزاتِ پاکستان کی دفعہ 124اے کے تحت بغاوت کا مقدمہ صرف صوبائی یا وفاقی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی اہلکار درج کروا سکتا ہے لیکن اس معاملے میں تو اپوزیشن کو غدار ثابت کرنے کیلئے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کی گئیں جو کئی دفعہ ناجائز اسلحے کے ذریعہ قانون کی دھجیاں بکھیر چکا ہے۔ جلد بازی میں پولیس نے اپنا نہیں، پوری حکومت کا باجا بجا دیا۔

مزید :

قومی -