پاکستان ڈمی ریاست نہیں ،دیکھناہے ملزم کی حوالگی کیلئے قانونی جوازموجودہے،سپریم کورٹ کے طلحہ کی امریکی حوالگی سے متعلق کیس میں ریمارکس

پاکستان ڈمی ریاست نہیں ،دیکھناہے ملزم کی حوالگی کیلئے قانونی ...
پاکستان ڈمی ریاست نہیں ،دیکھناہے ملزم کی حوالگی کیلئے قانونی جوازموجودہے،سپریم کورٹ کے طلحہ کی امریکی حوالگی سے متعلق کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) طلحہ ہارون کی امریکی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ عدالت نے دیکھناہے ملزم کی حوالگی کیلئے قانونی جوازموجودہے، پاکستان ڈمی ریاست نہیں ،پاکستان کو بنانا ری پبلک نہ بنائیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ پاکستان اورامریکا کے درمیان ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے،جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیا امریکا کا رویہ بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی ہے جیسا ہمارا ان کے ساتھ ہے؟،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ امریکا نے 2008 میں 2ملزم فرید اور فاروق کو پاکستان کے حوالے کیا،حکام وزارت خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے امریکا اور برطانیہ کے باہمی معاہدوںکو اپنایاتھا، جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان نے یکطرفہ طور پر اپنایا ہے؟، یہ کہنا درست نہیں کہ تمام ریاستیں برابر ہوتی ہیں۔

حکام وزارت خارجہ نے کہاکہ امریکانے بھی معاہدہ کواپنایاتھا،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ سپریم کورٹ حسین حقانی کوحوالے کرنے کاحکم دے چکی،امریکانے حسین حقانی کوپاکستان کے حوالے نہیں کیا،عدالت نے کہاکہ عدالت نے دیکھناہے ملزم کی حوالگی کیلئے قانونی جوازموجودہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہاکہ عملی طور پر امریکا کیساتھ ملزموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ معاہدہ موجودہے تب ہی ملزمان کاتبادلہ ہوتارہا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ طلحہ پر الزام ہے اس نے امریکا میں رہتے ہوئے حملوں کی سازش کی ، طلحہ ہارون امریکاشہریت کاحامل بھی ہے، جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ مبینہ جرم کب سرزدہواتھا؟،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دستاویزات سے واضح نہیں حملے کے وقت طلحہ امریکامیں تھا۔

جسٹس قاضی امین نے کہاکہ اب تو بات کرنے پر بھی دہشتگردی کاالزام لگ جاتا ہے،طلحہ ہارون نے آخر کون سی دہشتگردی کردی ہے؟، حکومت کہہ رہی ہے امریکا نے بندہ مانگاہے تو حوالے کردو،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ طلحہ پردہشتگردی کانہیںفنڈنگ کاالزام ہے، پاکستان ڈمی ریاست نہیں ۔

جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ پاکستان کو بنانا ری پبلک نہ بنائیں ،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ بھارت نے امریکا سے الگ معاہدہ کیا ہے تو 1931 والا معاہدہ ختم ہوگا،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ دفتر خارجہ کیس کی مزید تیاری کے ساتھ آئے؟،جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ قانونی سقم ہے تو دفتر خارجہ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت کو آگاہ کریں ۔

سپریم کورٹ نے امریکہ کو مطلوب طلحہ ہارون کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت 2ہفتے تک ملتوی کردی اور اٹارنی جنرل اور وازرت داخلہ کو نوٹس جاری کردیئے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -