اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا تو اقامہ کیا کرنا تھا؟ نوازشریف

اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا تو اقامہ کیا ...
 اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا تو اقامہ کیا کرنا تھا؟ نوازشریف

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نوازشریف نے کہاہے کہ مجھے کیا ضرورت تھی اقامہ کی ، اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا ، بشمول ساری فیملی تو مجھے کسی جگہ کا اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی ، وہاں رہنے کیلئے اقامہ لازمی تھا ، سعودی عرب جانے کے فوری بعد بنوایا ، اس کے بعد پاکستان میں مجھے سات سال نہیں آنے دیا گیا ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی کے تمام ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بہت دیر سے سیاست کے میدان میں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خدمت کا فریضہ اٹھایا ہواہے ، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، آپ بھی تو سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے اندر کیا ہوتاہے کہ کبھی یہاں پر ایک نظام ہوتاہے اور پھر اسے ختم کر کے دوسرا نظام آجاتاہے ، اس کے بعد تیسرا آجاتاہے ، یہ پاکستان کا آئین ہے جس کو آپ کئی مرتبہ پڑھ چکے ہوں گے ،میں بھی پڑھ چکا ہوں ، اس آئین کے مطابق نا پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ ہی عدلیہ کو چلنے دیا جاتاہے اور نہ پاکستان کے کئی دوسرے اداروں کو چلنے دیا جاتاہے ، ایسی طاقتیں جو اس پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتی ہیں، زیادہ دور نہ جائیں 2017 میں یہ پاکستان کی خدمت کا ہم اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے ،میں ہی اس فریضے کی سربراہی کر رہا تھا ، پاکستان کا وزیراعظم تھا ، یکا یک کیا ہو گیا ، کیا ہوا کہ مجھے بالکل مکھن سے بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا ، کچھ آپ کو سمجھ آتی ہے، تو آتی ہو گی، مجھے نہیں آتی ،یہ حقیقت ہے ،پھر ایک وزیراعظم کو آپ نکال رہے ہیں ، کوئی معقول وجہ ہو تو میں بھی کہوں کے معقول وجہ تھی ، اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہواہے تو اس کے پیچھے کو ئی معقول وجہ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، میں کہتا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے تو یہ فیصلہ میرے خلاف آیاہے تو ٹھیک ہے ، مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے ، لیکن کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک شخص کو اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کریں کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اور اس کے پاس ایک اقامہ تھا ۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ مجھے کیا ضرورت تھی اقامہ کی ، اگر 1999 میں مارشل لاءنہ لگتا اور پاکستان سے باہر نہ بھیجا جاتا ، بشمول ساری فیملی تو مجھے کسی جگہ کا اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی ، وہاں رہنے کیلئے اقامہ لازمی تھا ، سعودی عرب جانے کے فوری بعد بنوایا ، اس کے بعد پاکستان میں مجھے سات سال نہیں آنے دیا گیا ،میں 2000 میں جاتا ہوں اور 2007 میں واپس آ تاہوں ،پہلے آنے کی کوشش کی لیکن راولپنڈی شہر اور ایئر پورٹ کو سیل کر دیاگیا ، آپ لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا ،ایئر پورٹ پر نہیں آنے دیا ، اس کے بعد پھر مجھے واپس بھیج دیا گیا اور جہاز کھڑا تھا ، 777 جہاز میں اکیلا بیٹھا تھا اور مجھے دوبارہ جدہ بھجوا دیا گیا ، کیا میں نے اقامہ کے بغیر باہر رہنا تھا ، اس سے پہلے تو زندگی میں کبھی میرے پاس اقامہ نہیں تھا ، یہ پہلا موقع ہے میرے پاس اقامہ تھا ۔

ان کا کہناتھا کہ تنخواہ لی میری مرضی ، نہیں لی میری مرضی ، یہ کونسی وجہ ہے ، آپ تو با شعور لوگ ہیں ،آپ بتا دیں کہ 2017 کا پاکستان آج 2020 کے مقابلے میں کیسا لگتا ہے ، میں جاننا چاہتاہوں کہ آج پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو وہ پاکستان جو 2017 کا تھا، آج یہ تبدیلی والے پاکستان کے مقابلے میں کیسا لگتاہے ۔ یہ بڑی سوچ بچار کرنے والی باتیں ہیں ، اس دوران کیا حشر برپا ہواہے ، آج کون سے کام ٹھیک ہو رہے ہیں ، کاشتکار سے پوچھو کہ وہ سکون کی نیند سوتاہے ، صنعت کار سے پوچھو کہ وہ رات کو سکون کی نیند سوتاہے ، کسی مزدور سے پوچھو اس پر کیا گزر رہی ہے ، وہ کس حال میں ہے ، وہ زندہ ہے یا مر رہاہے ، دن رات اس کو فکر کھائے جارہی ہے کہ میرا اور میرے بچوں کا کیا مستقبل ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ 2017 میں یہ صورتحال نہیں تھی ، اس سے پہلے نہیں تھی، ہاں 2013 میں جب ہم آئے تو پاکستان میں لوڈ شیڈنگ عروج پر تھی ، ہاں جب ہم آئے تو پاکستان میں دہشتگردی عروج پر تھی ، آپ شاہد ہیں ، آپ اسمبلیوں کے اندر بیٹھے تھے ، جو الیکشن نہیں جیت سکے وہ بھی اس بات کا مشاہدہ کر رہے تھے ، میں 2018 سے اس بات کا خود مشاہدہ کرتار رہاہوں ، جیل میں تھا تو دیکھتا رہاہوں ، 2017 سے لے کر 2020 سے حالات یکسر بدل گئے ہیں ۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ میں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ جنہوںنے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے ، انہوں نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو بے روزگار کر دیاہے ، کہتے تھے کہ پچاس لاکھ گھر دیں گے ، مجھے بتائے کہ کسی کو کوئی ایک گھر بھی ملا ہے ، یا انہوں نے ایک گھر بھی بنا کر کسی کو پیش کیاہے ، ایسے ترقیاتی ملک جو تیس تیس سالوں سے گھر بنانے میں لگے ہیں وہ آج تک پچا س لاکھ نہیں بنا سکے یہ پانچ سال میں بنا کر دے گا ۔ کھودا پہاڑ اور نکل رہاہے چوہا، ہر بات پر یو ٹرن، ہم قرضے نہیں لیں گے ، ہم مرجائیں گے آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیں گے ، خود کشی کر لیں گے قرضہ لینے سے پہلے ، قرضے لینے کے باوجود روپے کی قدر کو مٹی میں ملا دیاہے ، ہمارے زمانے میں روپے کی قدر مستحکم تھی اور مستحکم رہی ۔

نوازشریف کا کہنا تھاکہ جب مجھے نکالا گیا توڈالر 104 روپے کاتھا ، چار سالوں میں روپے کی قدر چار روپے گری لیکن اڑھائی سالوں میں 65 روپے گر گئی ہے ، ہمارے زمانے میں لندن کا پاﺅنڈ120 کے لگ بھگ آ گیا تھا ، آج 225 روپے کا ہے ،یہ حقائق ہیں، ریکارڈ کی بات ہے ، پاکستان کا کیا حشر برپا کر دیا ، کسی کو اس کا ادراک ہے ، اگر ہے تو ہم پر کیوں نہیں کوئی جوں رینگتی ،ہمیں تو بے چینی ہو جانی چاہیے تھی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -