بھارت کا وہ قبیلہ جو لاشیں کھاتا ہے اور انسانی کھوپڑیوں کو گلاس کے طور پر استعمال کرتا ہے

بھارت کا وہ قبیلہ جو لاشیں کھاتا ہے اور انسانی کھوپڑیوں کو گلاس کے طور پر ...
بھارت کا وہ قبیلہ جو لاشیں کھاتا ہے اور انسانی کھوپڑیوں کو گلاس کے طور پر استعمال کرتا ہے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ہندو سادھوﺅں کا ایک ایسا قبیلہ یا فرقہ بھی ہے جس کی مذہبی روایات کے متعلق سن کر ہر کسی کے ہوش اڑ جائیں۔ میل آن لائن کے مطابق سادھوﺅں کا یہ گروہ ’اگھوری‘ کہلاتا ہے جو مرے ہوئے انسانوں کا گوشت کھاتا ہے، ان کی کھوپڑیوں میں پانی پیتا ہے اور شمشان گھاٹوں میں جنسی فعل کرتا ہے۔اگھوری سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’کوئی ایسی شے جس سے خوف محسوس نہ ہوتا ہو‘ ہے، لیکن اگھوری سادھوﺅں کی ان خوفناک مذہبی رسومات اور حرکتوں کی بناءپر عام لوگ ان سے کراہت بھی محسوس کرتے ہیں اور خوف بھی کھاتے ہیں۔ تاہم ان کے پیروکاروں اور عقیدت مندوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ گروہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں دریائے گنگا کے کنارے شمشان گھاٹوں کے پاس ہی رہتا ہے۔ وارانسی کو ہندومذہب میں سب سے مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے اور اس کی شمشان گھاٹوں پر دن رات ارتھیاں جلائے جانے کا کام جاری رہتا ہے اور ان کی راکھ دریائے گنگا میں بہائی جاتی ہے۔پولینڈ کے 38سالہ فوٹوگرافر جین سکویرا نے ان سادھوﺅں کی کچھ تصاویر بنا کر دنیا کو دکھائی ہیں۔ ان میںسے ایک تصویر میں ایک سادھو اصل انسانی کھوپڑی سے پانی پی رہا ہوتا ہے۔ ایک تصویر میں ایک سادھو اپنی کٹیا میں بیٹھا ہوتا ہے اور اس کے اردگرد درجن سے زائد انسانی کھوپڑیاں سجا کر رکھی ہوتی ہیں۔ جین سکویرا کا کہنا ہے کہ ”یہ سادھو ہندو دیوتا شیوا کو مانتے ہیں۔ ان کا گروہ بہت چھوٹا ہے جس کے مذہبی عقائد باقی ہندوﺅں سے یکسر مختلف ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -