پاک سعودی تعلقات کیسے ہیں اور اسلامی ممالک کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی ترجیحات کیا ہیں؟علامہ طاہر اشرفی نے کھل کر بتا دیا  

پاک سعودی تعلقات کیسے ہیں اور اسلامی ممالک کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی ...
پاک سعودی تعلقات کیسے ہیں اور اسلامی ممالک کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی ترجیحات کیا ہیں؟علامہ طاہر اشرفی نے کھل کر بتا دیا  

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ 

 عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کا حل اول ترجیح ہے،بعض ممالک میں قید اور بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے بھی کوشاں ہیں،وزیر اعظم اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور روابط کیلئے ذاتی طور پر کوشاں ہیں،مسلم اُمہ کے مسائل کا حل وحدت اور اتحاد میں ہے،بین المسالک رواداری اور بین المذاہب مکالمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے،اسلامک فوبیا کا خاتمہ چاہتے ہیں،کوئی مذہب انتہاپسندی اور دہشت گردی کی حمایت نہیں کر سکتا،سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہت مضبوط ہیں،کمزوری نہیں آ سکتی ۔

میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو داخلی طور پر انتشار میں مبتلا کر کے کمزور کیا جا رہا ہے،پاکستان تمام اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے،عرب اسلامی ممالک میں موجود پاکستانیوں کےمسائل کاحل ان کی اول ترجیح ہے،عرب اسلامی ممالک میں قید پاکستانیوں کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں،وہ قیدی جن پر معمولی مقدمات یا جرمانے ہیں ان کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں امید ہے کہ معمولی مقدمات میں ملوث مزید پاکستانیوں کی رہائی کے عمل کی ترتیب طے ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کے بارے میں مؤقف واضح ہے،ہم مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں،اگر پاکستان کے دوست ممالک میں سے کوئی اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو وہ اس کی پالیسی ہے،پاکستان اپنے دوست ممالک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی کرنی چاہیے،ہم چاہتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کے متفقہ مسائل،کشمیر،فلسطین کا فوری حل،دہشت گردی،انتہا پسندی،فرقہ وارانہ تشدد ، عرب اسلامی ممالک میں بیرونی مداخلتوں کا خاتمہ،انتہاپسنداوردہشت گرد تنظیموں سے بلاد اسلامیہ کا تحفظ اس پر سب کو متفق ہونا چاہیے،جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسائل کا حل نکلنا چاہیے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں کمزوری کی باتیں بے وقوف لوگ ہی کر سکتے ہیں ، پاکستان سعودی عرب تعلقات انتہائی مستحکم تھے،ہیں اور رہیں گے،گذشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سعودی وزیر خارجہ امیر فیصل کی گفتگو کے بعد جاری ہونے والا بیان پاکستان کے سعودی عرب کے استحکام اور سلامتی کے حوالہ سے مؤقف کو واضح کر رہا ہے،سعودی عرب کی سلامتی و استحکام ہر مسلمان کیلئے اہم ہے،سعودی عرب سے ہمارے ایمان اور عقیدے کے تعلقات ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان میں امن کیلئے کوششوں کا پورا عالم معترف ہے،ہم نے افغان طالبان،افغان حکومت اور افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات کی راہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی ہے،اب ذمہ داری افغان قیادت پر ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کریں ، افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے ، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے افغانستان کے امن کیلئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر تمام اسلامی ممالک کے قائدین سے وہ رابطہ کر رہے ہیں اور کشمیر و فلسطین کے مسئلہ پر مسلم مذہبی و سیاسی قائدین کی عالمی کانفرنس پاکستان میں بلائی جائے گی۔

مزید :

قومی -