پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک ، جمعیت علمائے اسلام ف نے اپوزیشن کا دوٹوک موقف بیان کردیا 

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک ، جمعیت علمائے اسلام ف نے اپوزیشن کا دوٹوک ...
پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک ، جمعیت علمائے اسلام ف نے اپوزیشن کا دوٹوک موقف بیان کردیا 

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علما اسلام ف کےسیکرٹری جنرل سینیٹرمولاناعبدالغفور حیدری نےکہاہےکہ حکومت اور عمران خان سے ہماری جنگ سیاسی ہے اور ہماری یہ جنگ اداروں کے خلاف نہیں، اگر ادارے بلا وجہ ہماری جنگ میں کود پڑ یں اورحکومت کو سہارا دینے کی کوشش کرینگے توانکے کردارپرضرور انگلیاں اٹھیں گی،اٹھارویں ترمیم تمام جماعتوں کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ،اس ترمیم کو ختم کرنے کی تمام کوششیں ناکام بنا دینگے،غداری کے مقدمات سےپی ڈی ایم کی تحریک کوختم نہیں کیاجاسکتا ،صف اول کی قیادت گرفتار ہوئی تو متبادل قیادت تحریک کو لیڈ کرے گی،جیل بھرو تحریک،اسبلیوں سے مستعفی ہونے کا مرحلہ بھی آ سکتا ہے،دھاندلی کے تمام راستوں کو قانونی طور پر روکنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک سیاسی ہے اور اس کی قیادت سیاسی قائدین پر مشتمل ہے اس کا ایجنڈہ بھی سیاسی ہے اس کے مقاصد بھی سیاسی ہیں اور موجوہ حکومت و عمران خان سے ہماری جنگ بھی سیاسی ہے، یہ سیاسی جنگ حکومت کے خلاف ہے ملکی اداروں سے ہماری کوئی جنگ نہیں، ہاں اگر ہماری حکومت کے خلاف اس جنگ میں ادارے حکومتی پشت پناہی کے لئے درمیان میں کود پڑتے ہیں تو اس صورتحال یقینا اداروں پر انگلیاں اٹھیں گی،موجودہ حکومت کو جن قوتوں نے اقتدار دیا اب وہ عوام پر رحم کریں،موجودہ حکومت کے دو سالہ تجربات نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا تجربہ نا کام ہو گیا ہے۔

مولانا حیدری کاکہنا تھا کہ اٹھاریں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدو جہد کا ثمر ہے، جس کی بدو لت صوبوں کو خو د مختار ی ملی،وفاق اور صوبوں کے درمیان فاصلوں کو اٹھارویں ترمیم نے کم کر دیا مگر افسوس بعض قوتیں اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، اس طرح کی کوششیں وفاق اور صوبوں کے درمیان فاصلوں کا سبب بن سکتے ہیں جو ملک کے لئے خطرناک ہوسکتے ہیں ،جمعیت علما اسلام اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہونے والے کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دینگے، سندھ بلوچستان بلوچستان کے جزائر پر وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈننس کے زریعے قبضہ کرنے کی جو کوشش کی ہے یہ صوبائی خود مختاری میں کھلی طور پر مداخلت ہے صدر پاکستان کو چائیے کہ وہ اس آرڈی ننس کو ملکی مفاد میں واپس لیں، حکومت سندھ نے اس پر ردعمل دیا ہے ،بلوچستان حکومت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔

 مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا سردار اختر مینگل کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد وفاقی حکومت عملی طور پر پارلیمنٹ میں اپنی عددی اکثریت کھو چکی،فوری طور پر حکومت کو اقتدار سے الگ ہونا چائیے۔ اپوزیشن رہنماوں پر غداری کے مقدمات حکومتی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر حکومت یاد رکھے کہ غداری کے مقدمات سے نہ اپوزیشن جماعتیں زیر ہونگی اور نہ ہی پی ڈی ایم کی شروع ہونے والی تحریک کو ایسے ہتکنڈوں سے کوئی ختم کر سکتا ہے، پی ڈی ایم کی قیادت کو گرفتار کرنا حکومت کی سنگین غلطی ہو گی،حکومت نے ایسا کر بھی لیا تو متبادل قیادت اس تحریک کو لیڈ کر کے منطقی انجام تک پہنچائیں گی،پہلے مرحلے میں جلسے ہونگے دوسرے مرحلے میں اضلاع میں ریلیاں نکالی جائیں گی ، جہاں تک اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا سوال ہے تو وقت اور حالات کے مطابق فیصلے ہوں گے جن میں اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا  آپشن شامل ہے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -