اسلام پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ ترک صدرطیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب کو وارننگ دے دی

اسلام پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ ترک صدرطیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب کو ...
اسلام پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ ترک صدرطیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب کو وارننگ دے دی
کیپشن:    سورس:   Wikimedia commons

  

انقرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ دین کی تنظیم نو کی بات کرنے والوں کا ملک خود بحران کا شکار ہے۔مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو یورپی سیاستدان اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

نجی چینل دنیا نیوز کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کو سخت متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دین کی تنظیم نو کی بات کرنے والے میکرون کا ملک خود بحران کا شکار ہے، نوآبادیاتی سوچ ترک کردو۔ترک صدر اردوان نے میکرون کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آج متعدد مغربی ممالک میں نسل پرستی اور اسلام دشمنی کی حکومتیں بھی پشت پناہی کر رہی ہیں،نسل پرستی اور اسلام دشمنی کا مقابلہ کرنے کے بجائے یہ سب سے بڑی برائی اپنے معاشرے کے ساتھ کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اپنے بیان میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کے 60 لاکھ مسلمان اپنا الگ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں،انہیں روکنے کے لیے سخت قوانین وضع کیے جانے چاہیں۔ میکرون نے فرانسیسی مسلمانوں کو علیحدگی پسند قرار دے دیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنا چار نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا جس کے تحت غیر ملکی اماموں اور مساجد کی فنڈنگ کے ساتھ ساتھ گھر پر تعلیم و تربیت پر بھی پابندی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

فرانسیسی مسلمانوں نے میکرون کے پلان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن قرار دیا ہے۔ نیا قانون پاس ہونے کی صورت میں مسلمان خواتین گھر سے باہر حجاب نہیں لے سکیں گی جبکہ کئی دیگر مذہبی عقائد پر بھی قدغن لگ جائے گی۔اس کے جواب میں ترک صدر کا ردعمل سامنے آیا ہے ، انہوںنے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر میکرون کے بیانات کھلم کھلا اشتعال انگیزی ہیں۔ ہم ان سے کسی ذمہ دار سرکاری شخصیت کے طور پر کام کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -