مقاصد بعثت نبویﷺ،عقیدۂ ختم نبوتﷺ اور ہماری ذمہ داریاں

مقاصد بعثت نبویﷺ،عقیدۂ ختم نبوتﷺ اور ہماری ذمہ داریاں
مقاصد بعثت نبویﷺ،عقیدۂ ختم نبوتﷺ اور ہماری ذمہ داریاں

  

بنائے کعبتہ اللہ کے وقت جدالانبیآء سیدنا ابراھیم خلیل اللہ وسیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیھما السلام نے بارگاہِ ربِّ جلیل میں کئی ایک دعائیں مانگیں جنھیں قرآن مجید نے تفصیلاً بیان فرمایا جن میں تین مخصوص دعائیں انتہائی قابل ذکر ہیں 

پہلی دعا!

اے ہمارے رب!ہمارے اس عملِ خیر کو درجۂِ قبولیت عطا فرما بیشک تو ہی ہے ہر پکار کو سننے والا اور ہر ایک کی حالت کو جاننے والا،

دوسری دعا!

اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنا سچّا فرمانبردار اور مطیع بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت ایسی ضرور پیدا فرمانا جو صرف اور صرف تیری ہی فرمانبردار ہو اور ہمیں سکھا حج(بیت اللہ مشرفہ) کے طریقے(عبادت کے قاعدے) اور ہم کو معاف فرما،بیشک تو ہی توبہ قبول کرنیوالا اور رحم فرمانے والا ہے۔

تیسری دعا!

جو باپ بیٹے نے مانگی،یہی مقصودی دعا ہے، اے ہمارے رب!ان میں ان ہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیج کہ ان میں تیری آیتیں پڑھے اور انہیں سکھا دے کتاب اور دانائی کی باتیں اور انہیں پاک کرے،بیشک تو ہی بہت زبردست بڑی حکمت والا ہے۔

بعثتِ رحمتہ اللعالمین ﷺ آیت مبارکہ کی روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!! 

(یتلوا علیھم ایاتک) کی روشنی میں رحمتہ اللعالمین ﷺکا سب سے پہلا کام اپنی امت کے سامنے(قرآن کریم) کی آیات کی تلاوت ہے یعنی اللہ تعالی کا کلام پہنچانا(پڑھنا اور پڑھانا)گویا آپ ﷺ کی پہلی حیثیت مبلغِ اعظم کی ہے۔

ب۔(یعلمھم الکتب) انہیں کتاب سکھا دے

حضور نبی کریم ﷺ کا کام صرف تبلیغ اور پیغام رسائی پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ آپﷺ کا کام کتاب الٰہی کی تبلیغ کے بعد اسکی تعلیم کا بھی ہے۔ گویا آپ ﷺ  کی دوسری حیثیت معلّمِ اعظمﷺ کی ہے۔

ج۔(الحکمتہ) دانائی کی باتیں

حضور نبی کریمﷺکا تیسرا کام حکمت و دانائی سکھانا،قرآنی احکام ومسائل سمجھانا،دین کے قاعدے اور آداب سکھانا اور زندگی کے گوناگوں اور پیچیدہ مسائل کا اسی کی روشنی میں بہترین حل بتانا ہے۔گویا آپ ﷺ کی تیسری حیثیت مرشدِ اعظم کی ہے۔

د- (یزکیھم) انہیں پاک کر دے

تذکیہ سے مراد دل کی صفائی ہے،شافع محشر ﷺ کا چوتھا کام اپنی صحبت وتربیت سے اخلاق کی پاکیزگی اور نیتوں کا اخلاص پیدا کرنا ہے ۔یعنی خاتم النبیین ﷺکی چوتھی حیثیت مصلحِ اعظمﷺ کی ہے۔

چنانچہ حضرت سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کی دیگر دعاؤں کی طرح یہ دعا بھی اللہ تعالی نے منظور و مقبول فرمائی چنانچہ سورت آل عمران میں ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول (ﷺ) بھیجا جو ان کے سامنے اللہ (سبحانہُ وتعالی ) کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کی کتاب و حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔۔۔

رسالت مآب ﷺ سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا کا ثمرہ بن کر ماہ ربیع الاوّل میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر پیدا ہوئے ،سیدہ آمنہؓ کی گود میں آئے،مکہ مکرمہ کو آپ ﷺسے مولد ہونے کا شرف حاصل ہوا،مکہ آپ ﷺ کی ولادت مبارکہ کی برکت سے مکرمہ و مشرفہ بن گیا اور مدینہ آپﷺ کی ہجرت کی برکت سے طیبہ،منورہ بن گیا۔سیدہ حلیمہ سعدیہؓ کو دودہ پلانے کا شرف حاصل ہوا،سیدہ شیمہؓ کو لوری دینے کا اعزاز نصیب ہوا اور بنی ہاشم کو سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ ﷺ کے قبیلہ ہونے کی سعادت ملی۔ 

مسند احمد اور معجم طبرانی میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! آپکی نبوت کی ابتدا کس سے ہوئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اپنے باپ سیدنا ابراھیم(خلیل اللہ علیہ السلام) کی دعا کا مصداق ہوں،سب سے پہلے سیدنا ابراھیم(خلیل اللہ علیہ السلام ) نے میری بعثت کی دعا فرمائی اور پھر میں اپنے بھائی (حضرت سیدنا ) عیسٰی ابن مریم ( علیھما السلام ) کی بشارت ہوں اور پھر میں اپنی ماں سیدہ طیبہ طاہرہ آمنہؓ کا خواب ہوں کہ انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔۔۔۔

؀ ہوئے پہلوئے آمنہؓ سے ہویدا 

دعائے خلیلؑ و نوید مسیحاؑ

اور حضرت سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ میں اللہ تعالی کے یہاں لوح محفوظ میں خاتم النبیین (ﷺ) لکھا ہوا تھا اور بیشک (اس وقت) حضرت سیدنا آدم (صفی اللہ علیہ السلام) اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(مسند احمد ) اور میری نبوت کی ابتدآء حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی دعا ہے۔ 

ختم نبوت (ﷺ) دینِ اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے،دینِ اسلام کی حقانیت،کاملیت اور ابدیت کا دعوی صرف عقیدہ ختم نبوت ﷺ کیساتھ ممکن ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات کریمہ،رسالتمآبﷺ کی تقریباً دو سو سے زائد احادیث متواترہ سے یہ مسئلہ ثابت ہے، اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتدآء حضرت سیدنا آدم صفی اللہ علیہ السلام سے فرمائی جبکہ  انتہا حضور خاتم النبیین،خاتم المعصومین سیدالاولین ولآخرین نبی الرحمہ شافعی محشر امام الرسل سیدنا ومولانا وقائدنا ومرشدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر ہوئی۔

بخاری شریف میں سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے جسکا مفہوم کچھ یوں ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے کے انبیآء کرام علیھم السلام کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی خوبصورتی و زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی ۔اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ۔۔۔؟؟؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین (ﷺ ) ہوں۔

اسی طرح بخاری ومسلم میں ایک اور روایت حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دیگر انبیآء کرام علیھم السلام پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ 1- مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں۔ 2- دشمنوں پر رعب و دبدبے کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ 3- میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کر دیئے گئے ہیں۔ 4-زمین میرے لئے پاک کرنے کا ذریعۂ اور مسجد قرار دی گئی ہے۔5- مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول (ﷺ ) بنا کر بھیجا گیا ہے۔6- میرے ذریعے نبوت کو مکمل کر کے انبیآء کرام کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ 

عقیدۂ ختم نبوت ﷺکی حفاظت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے لیکر آج تک ہر دور میں مسلمانوں نے کی ہے اور آج یہ اہم ذمہ داری بطور مسلمان ہم تک پہنچی ہے کیونکہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ فتنوں میں اضافہ ہوا ہے۔باطل نے مختلف طریقوں سے عقائد اسلام میں نقب لگانے کی ناپاک جسارت کی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی زور و شور سے جاری ہے، بطور مسلمان کچھ انفرادی اور کچھ اجتماعی ذمہ داریاں ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ 

؀انفرادی ذمہ داریاں ۔۔۔!!!!!

 پہلی ذمہ داری۔۔۔۔۔( محبت رسول ﷺ)

حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کی جائے۔ چنانچہ حدیث مبارکہ میں وارد ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ ﷺ سے اپنے والدین،اولاد اور باقی لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرتا ہو۔

 دوسری ذمہ داری۔۔۔ (اطاعت واتباع )

یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع کریں اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر من و عن عمل کریں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ تعالی ہی کی اطاعت کی۔ اسی طرح حدیث مبارکہ میں حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں ہو گا مومن تم میں سے کوئی ایک یہاں تک کہ ہو جائے اس کی خواہش تابع اُس چیز کے جسکو میں لایا ہوں۔(مشکوہ شریف)

یعنی انسان کامل درجہ میں اطاعت واتباع کا اہتمام کرے۔۔۔

3-حضور نبی کریم ﷺ کا احترام و تعظیم کی جائے۔  

4- حضور نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بکثرت پڑھا جائے۔۔

5-بدعات ورسومات سے اجتناب کیا جائے۔

؀ اسی طرح کچھ اجتماعی ذمہ داریاں ہیں۔ 

1-دلائل و براہین کیساتھ عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کیا جائے اور اس فتنہ ( منکرین ختم نبوت ﷺ) کی حساسیت سے مسلمانوں کو آگاہی فراہم کی جائے۔  

2-عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عقیدۂ کو تفصیلاً تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ 

3-عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کے عنوان پر ملکی اور عالمی سطی پر سیمینار و کنونشنز کا انعقاد کیا جائے اور آئمہ کرام و خطباء عظام اپنے خطابت کے ذریعے سے عوام الناس کو اس عقیدہ کے متعلق آگاہی فراہم کریں۔ 

4-عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کو میڈیا کے ذریعے منظم انداز سے لوگوں تک پہنچایا جائے مگر بغیر تحقیق سنی سنائی خبر کو نہ پھیلایا جائے اور اس مقدس ومطہر عقیدہ کی آڑ میں منفی پروپیگنڈہ اور دین دشمن قوتوں کا آلہ کار نہ بنا جائے۔ 

5-آئینی اور قومی ذمہ داری کا خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوتﷺ کے مسئلہ پر اپنا کردار ادا کیا جائے۔توہین رسالت ﷺ کے مسئلہ میں واضح اور شفاف قانون سازی کریں تاکہ اس مسئلہ کا بھی سدباب کیا جا سکے اور مرتکب توہین رسالت ﷺکی سزا پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہر مسلمان کی طرح پاکستانی دستور ساز ادارے اور عدالتیں بھی عقیدۂ ختم نبوت ﷺ کی محافظ ہیں اس کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل اس ضمن میں بین الاقوامی اداروں اور مختلف فورم کی مدد سے اس عقیدہ کے تقدس وتحفظ کیلئے عملی جدوجہد کرے۔

یہی وہ عقیدہ ہے جس کے تحفظ وناموس ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر بھر پور کردار ادا کر کے دنیوی و اُخروی زندگی میں کامیاب وکامران ہو سکتے ہیں اور حضور خاتم النبیینﷺ کے حوض سے آبِ کوثر سے سیراب اور آپ ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ کے مستحق بن سکتے ہیں ۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -