نیا نیب (ترمیمی) آرڈیننس

نیا نیب (ترمیمی) آرڈیننس

  

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے،جس کے مطابق نیب قانون کا اطلاق وفاقی صوبائی اور مقامی ٹیکسیشن کے معاملات پر نہیں ہو گا۔وفاقی اور صوبائی کابینہ اور ذیلی کمیٹیوں کے فیصلے اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے،جبکہ نجی کاروبار، افراد اور بنک مقدمات کو بھی نیب کے دائرے سے خارج کر دیا گیا ہے۔آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل،این ای سی، این ایف سی، ایکنک، سی ڈی ڈبلیو کے فیصلے بھی نیب کی دخل اندازی سے مستثنیٰ تصور ہوں گے۔ مزید تفصیلات کے مطابق صدرِ مملکت جتنی چاہیں نیب عدالتیں قائم کر سکتے ہیں۔متعلقہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کے جج مقرر کئے جائیں گے۔ آرڈیننس کے مطابق صدرِ مملکت چیئرمین نیب کا تقرر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کریں گے۔اتفاق رائے نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان شامل ہوں گے اس میں حزبِ اقتدار اور اختلاف کے ارکان کی تعداد برابر ہوگی۔جب تک نیا چیئرمین مقرر نہیں ہوتا اُس وقت تک موجودہ منصب دار اِس عہدے پر فائز رہیں گے، گویا جسٹس(ر) جاوید اقبال کی میعاد میں توسیع کر دی گئی ہے۔ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے یہ شق حذف کر دی گئی ہے،جس میں چیئرمین کے عہدے کو ”ناقابل ِ توسیع“ قرار دیا گیا۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ جب نئے چیئرمین کا نام زیر غور آئے گا،تو سبکدوش ہونے والے صاحب (یا صاحبان) کے نام بھی تجویز کیے جا سکیں گے، یعنی کوئی بھی سابق چیئرمین ایک بار پھر نیب کی  سربراہی کا فریضہ ادا کر سکے گا،احتساب عدالت کے جج کے لیے68 سال عمر کی حد مقرر کی گئی ہے،لیکن حیرت ہے اس کا اطلاق چیئرمین پر نہیں کیا گیا۔اس طرح نیب کے چیئرمین پر عائد یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے کہ وہ صرف ایک بار ہی اس منصب پر فائز ہو سکے گا۔یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی تھی کہ منصب دار بے خوف اور توسیع کی خواہش سے مبریٰ ہو کر اپنے فرائض دا کرے، لیکن اب اس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

نئے آرڈیننس میں بعض شقیں بہت اہم ہیں مثلاً اب نیب قوانین کا اطلاق وفاقی صوبائی اور مقامی ٹیکسیشن کے معاملات پر نہیں ہو گا۔اسی طرح نجی کاروبار،اور اس سے جڑے کاروباری افراد، اور سرکاری اہلکاروں کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے،کسی بھی ملزم کی ضمانت لینے کا اختیار احتساب عدالت کو مل جائے گا،اس کے لیے ہائی کورٹ کی ”رٹ جورسڈکشن“ کو آواز دینا نہیں پڑے گی۔دیر آید درست آید کے مصداق یہ احسن اقدامات ہیں۔ ان سے کاروباری حالات بہتر بنانے،اور بیورو کریسی میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔پی ٹی آئی حکومت کے آتے ہی نیب کی جانب سے پکڑ دھکڑ نے کاروباری افراد،سرمایہ کاروں اور بیورو کریسی میں جو بے یقینی پیدا کی اس سے حالات ابتر ہوئے،اور سرکاری افسروں نے فیصلہ سازی سے گریز شروع کر دیا، اپوزیشن کو بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ جو نیب اصلاحات پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)  اپنے ادوار میں نہ کرپائیں اگر وہ پی ٹی آئی کے دور میں کی جا  رہی ہیں،تو انہیں مسترد کرنے کے بجائے ان کو بہتر بنانے کی سعی کرنی چاہیے۔ کسی بھی احتسابی ادارے کو کسی بھی انتظامی فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار اُسی وقت ہونا چاہیے جب مالی کرپشن کی بدبو آ رہی ہو۔ کسی ادارے یا فرد کے کسی فیصلے کے نتائج کچھ بھی نکل سکتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بدنیتی پر مبنی سمجھا جائے۔ ابھی تک نیب نے ہر سرکاری ادارے کے ہر فیصلے،اور ہر سرکاری افسر کے ہر حکم کا جائزہ لینے کا فرض اپنے آپ کو سونپ رکھا تھا۔ اس سے ادارے غیر مستحکم ہوئے،اور سرکاری اہلکاروں کی قوت عمل بھی متاثر ہوئی،بدقسمتی سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنے پانچ پانچ سالہ دورِ حکومت میں نیب قانون کی اصلاح کے لیے کوئی اقدام نہیں کر سکیں، موجودہ حکومت نے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا، لیکن اسے بھی پارلیمینٹ سے منظور نہ کرایا  جا سکا، سو اپنی مقررہ مدت کے بعد اس نے آنکھیں موند لیں۔ نئے ترمیمی آرڈیننس میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں، اپوزیشن کو کھلے دِل کے ساتھ ان کا جائزہ لینا چاہیے،اور ضد میں آ کر اصلاح کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -