سیاست میں جدوجہد ہی اہمیت رکھتی ہے!

 سیاست میں جدوجہد ہی اہمیت رکھتی ہے!
 سیاست میں جدوجہد ہی اہمیت رکھتی ہے!

  

پاکستان میں ان دنوں جو سیاسی صورت حال اور سیاست سے منسلک خواتین و حضرات کی حالت ہے۔ یہ سب 1958ء کے اس ”انقلاب“ کی بدولت ہے جس کی آج بھی تعریف کی جاتی ہے اور ہمارے کپتان اس عہد کے بڑے مداح ہیں، اس ”انقلاب“ نے ملکی سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا کہ ایوب خان نے ایک نیا جمہوری نظام دیا، اسے بنیادی جمہوریت کہا گیا، یہ نظام بلدیات کی حد تک تو چل ہی سکتا تھا، لیکن ایوب خان نے اسے اقتدار کی سیڑھی بنا لیا، ملک میں براہ راست کی بجائے بالواسطہ انتخابات کی طرح ڈالی اور اسی کے نتیجے میں 1965ء کے صدارتی انتخاب میں بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ مادر ملت فاطمہ جناح ”شکست خوردہ“ اور خود ایوب خان ”فاتح“ ٹھہرے، ان کی تعریف کی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے چلے گئے لیکن یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ جاتے جاتے بھی ملک کے راستے میں کانٹے بو گئے جو اب تک چننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کم نہیں ہوتے، انہوں نے اقتدار اس وقت کے آرمی چیف یحییٰ خان کو دے دیا، جنہوں نے اس کا بدلہ یوں لیا کہ خود ان کے بنائے 1962ء کے آئین ہی کو کالعدم قرار دے کر مارشل لاء لگا دیا اور پھر جو انتخابات کرائے وہ آئین ساز اسمبلی کے لئے تھے، ان انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کے پہلے اور آخری غیر جانبدارانہ انتخابات تھے، انہی کے نتائج نے ایک کے دو ملک بنائے۔  ملکی تاریخ میں صرف یہی نہیں اور بھی حادثات ہیں۔ یہاں جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کا بھی ذکر ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اس وقت کے سپیکر مولوی تمیز الدین کی رٹ درخواست پر قانونی اور آئینی فیصلہ کرتے اور نظریہ ضرورت کو بروئے کار نہ لاتے تو تاریخ مختلف ہوتی۔

عرض مدعا یہ ہے کہ ہمارے پیارے ملک پر ایسے سانحات گزرتے رہے، تاہم ہماری قوم مجموعی طور پر ان کو برداشت کرکے جدوجہد کے ذریعے سرخرو ہوتی رہی۔ ایوبی دور میں چینی چار آنے (ایک چوتھائی روپیہ) فی سیر مہنگی ہوئی تو عوامی جذبہ بروئے کار آ گیا، ان کے خلاف شروع ہونے والی جدوجہد کامیاب ہوگئی اور پھر یحییٰ خان کی آمریت کے خلاف بھی قوم نے جدوجہد کی بدقسمتی سے یحییٰ خان کے بوئے کانٹوں نے بنگلہ دیش بنوا دیا اور پھر خود ان کو اقتدار کو چھوڑنا ہی پڑا جس کے لئے انہوں نے سب کچھ کیا تھا، اس کے بعد بھی قوم نے کئی ادوار میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار اور پھر ضیاء الحق کا آمرانہ نظام بھی عوامی جدوجہد ہی کے نتیجے میں زوال پذیر ہوا اور جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کو الگ کیا تو ان کا قتدار بھی جدوجہد ہی کے ذریعے ختم ہوا تھا، اب بعض حضرات اس ”جدوجہد“ کے بعض حقائق اور پس منظر کا بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن میں یہاں اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتا، میرا آج کا موضوع صرف جدوجہد سے عبارت ہے یہ نہیں کہ جدوجہد کرنے والے عوام کے ہاتھ کیا آیا اور ان کی جدوجہد سے کون مستفید ہوا اور کس نے نقصان اٹھایا۔

میرا نقطہء نظر یہ ہے کہ جوڑ توڑ اور ایمپائر کی جانبداری کے باوجود ملک میں دہی سیاسی جماعت مقبول ہوئی، جس نے”جدوجہد“ کی اور عوام نے بھی اسی جماعت کا ساتھ دیا جو جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کرتی تھی، آج کی جو سیاسی صورت حال ہے وہ بھی اسی پس منظر کے ساتھ سامنے ہے۔ ملک کے معیشی اور اخلاقی حالات کا تقاضا ہی جدوجہد ہے اور جو جماعت ایسا کرے گی، مقبولیت بھی اسے ملے گی اور کامیابی کا سہرا بھی سر پر سجے گا، اب بھلے آپ یہ کہیں کہ یہ بھی کسی ”فیصلے“ ہی کا جنتر منتر ہوتا ہے، تاہم جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ”فیصلہ کن قوت“ بھی اسی کے نتیجے میں فیصلہ کرتی ہے، نقاد جو بھی کہیں لیکن یہ حقیقت تو فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کپتان عمران خان نے واقعی 22سال تک جدوجہد کی تو ”فیصلہ سازوں“ کو بھی پسند آگئے۔

آج کے سیاسی منظرنامے کا بھی یہی دستور ہو گا کہ جدوجہد ہی کو سلام کیا جائے گا اور جو جماعت اور رہنما یہ راستہ اختیار کریں گے، عوام بھی انہی کو قبول کریں گے اگر عوام کا مزاج تبدیل ہو کر یہ بن گیا تو ”فیصلہ سازوں“ کے لئے فیصلہ آسان ہو جائے گا۔ آج کے سیاسی ماحول میں مجھے دو ”سیاسی ولی“ (اللہ سے توبہ کرتا ہوں کہ مثال پر مجبور ہوا) نظر آتے ہیں، ایک کا تعلق سندھ سے ہے جو منظور وسان کہلاتے ہیں اور دوسرے فرزند راولپنڈی ہیں، جو خوش قسمت و خوش نصیب ہیں کہ ان کا دور اقتدار طویل تر نظر آتا ہے کہ وہ گیٹ نمبر 4سے منسلک چلے آتے ہیں۔ اب ذرا ان ”سیاسی ولیوں“ کی ولایت پر بھی کچھ کہہ لوں۔ منظور وسان تو بہت سی پیشگوئیوں کے ساتھ نئے انتخابات کی نوید سناتے اور کپتان کی حکومت کو وقت سے پہلے جاتا دیکھتے ہیں، دوسری طرف فرزند راولپنڈی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ عمران خان ٹھونک بجا کر پانچ سال پورے کریں گے اور اگلے پانچ سال بھی ان کے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ”میں نوازشریف کی سیاست کو ختم ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں“ حالات حاضرہ میں یہ پیش گوئی قابل غور اور بات کرنے والی بھی ہے، کیونکہ عمران خان برسراقتدار اور نواز شریف ”نااہل“ ہو کر لندن تعریف فرما ہیں، شیخ رشید مسلم لیگ کی اندرونی سیاست پر بھی تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ میں تو قارئین کی توجہ آج اسی حوالے سے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر مریم نواز کی میڈیا سے بات چیت کی طرف دلاؤں گا کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر للکارا اور جدوجہد کا ہی اعلان کیا ہے اور یہ حقیقت پھر سے آشکار ہوئی کہ جس کی جو مرضی کہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لوگ اور حامی اس کے ساتھ ہیں جو جدوجہد کا نشان بن کر سامنے ہیں۔

سیاسی حالات کی بات ہے تو یہ بھی عرض کر دوں، میری دلی خواہش سیاسی سمجھوتوں کو مضبوط دیکھنے کی ہے کہ قائداعظم نے پاکستان سیاسی جدوجہد کرکے حاصل کیا تھا، اسی لئے میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی بلکہ تحریک انصاف بھی ایک مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر رہے کہ ملک میں سیاسی توازن ہو، مسلم لیگ (ن) میں تو مریم نواز  یا حمزہ شہباز اور شہباز شریف ہوں، بیانیے کا جھگڑا ہو یا ساز باز کے الزام، حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا وجود منوا لیا ہے، تحریک انصاف تو اقتدار پر فائز ہے، پیپلزپارٹی کو ایک صوبے کا اقتدار حاصل ہے، تاہم اسے باقی ملک کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہے، افواہوں کے مطابق چور راستوں کی نہیں۔ بلاول بھٹو نوجوان ہیں، ان کو غور کرنا ہوگا کہ پیپلزپارٹی کی تمام تر مقبولیت ذواالفقار علی بھٹو اور بلاول کی والدہ اور بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو (شہید) کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ بلا جدوجہد صرف جیل کے نام پر اقتدار سے عبارت نہیں، اس لئے جدوجہد ہی تیز ہو تو بہتر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -