مریم نواز کی ڈائٹنگ نما سیاست 

مریم نواز کی ڈائٹنگ نما سیاست 
مریم نواز کی ڈائٹنگ نما سیاست 

  

مریم نواز ویسی ہی سیاست کر رہی ہیں جیسی ہمارے گھروں میں بہنیں بیٹیاں ڈائٹنگ کرتی ہیں کہ اِدھر کچھ وزن بڑھا، اُدھرکھانا پیناچھوڑ دیا اور اِدھر کھانا پینا چھوڑا۔اُدھر چٹپٹی ڈشوں کا اہتمام شروع ہوگیا۔ اس ایکسرسائز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکیاں خوش رہتی ہیں کہ ان کا وزن بھی نہیں بڑھ رہا ہے اور ان کا کھانا پینابھی جاری ہے۔ مریم نواز ایک دم سیاست میں متحرک ہو جاتی ہیں اور ایک دم غیر متحرک ہو جاتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نون لیگ کا ورکر کنفیوز ہوگیا ہے کہ مریم نواز کے نعرے لگانے ہیں یا ان کی ڈھارس بندھانی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے چچا شہباز شریف سب سے زیادہ مخمصے کا شکار ہیں کہ آیا انہیں مرکز کی سیاست کرنا ہے یا پنجاب میں ہی اپنی سپیڈ کے جوہر دکھانے ہیں۔ یہ کنفیوژن اور مخمصہ اس وقت نون لیگ کا طرہ امتیاز بن چکاہے اور پارٹی ورکر قیادتوں کے درمیان بٹتا جا رہا ہے۔

مریم نواز کی سیاست سے زیادہ ان کی خاموشی زیر بحث رہتی ہے۔ وہ بولنا شروع کرتی ہیں تو ”ابو بچاؤ مہم“ کا طعنہ دے کر ان کی سیاست کو بے وقعت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر خاموش ہوتی ہیں تو ایک زمانہ شور مچانا شروع کردیتا ہے کہ مریم بولتی کیوں نہیں ہیں؟.....مریم خاموش کیوں ہیں؟برادرم سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ مریم نواز کی 20سالہ سیاست کی سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ اس میں تسلسل نہیں ہے۔ ان کے والد مشکل میں ہوں، جیل میں ہوں یا کسی امتحان سے گزر رہے ہوں تو وہ متحرک ہو جاتی ہیں، ان کا بیانیہ تیز اور بہادرانہ ہو جاتا ہے۔ لیکن ان کے والد مشکل سے نکل آئیں، جیل سے رہا ہو جائیں یاامتحان سے گزرجائیں تومریم نواز خاموشی کی چادر اوڑھ کروالد کی خدمت میں جت جاتی ہیں۔ اچھی بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں مگر اچھاسیاستدان ایسے نہیں بناجا سکتا ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں وہ اپنی والدہ کلثوم نواز کی ہوبہو نقل کرتے ہوئے نواز شریف کے مشکل وقت میں ہی باہر نکلتی ہیں۔ کلثوم نواز کا بھی یہی انداز سیاست تھا مگر دونوں کے چیلنجز مختلف ہیں۔ 

ہماری ناقص رائے میں شائد ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ نواز شریف کی لڑائی بھی اس فریق کے ساتھ ہے جس کے خلاف الزام تراشی اتناہی مشکل ہے جتناہمارے معاشرے میں کسی خاتون کے حوالے سے بات کرنا ہوتا ہے۔اسی لئے کلثوم ہوں، مریم نواز ہوں یا پھر بے نظیر بھٹو، وہ باہر ہی اس لئے نکلتی ہیں کہ انہیں اپنے عزیز ازجان رشتے کی سچائی کو ثابت کرنا ہوتا ہے وگرنہ اسٹیبلشمنٹ جس بلا کا نام ہے وہ تو پورے کا پورے انسان نگل جاتی ہے اور ڈکار تک نہیں مارتی۔ چنانچہ اگر کلثوم نواز اور مریم نواز کے گھر سے نکلنے پر نواز شریف کی مشکل آسان ہوجاتی ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے مگر ہمیں اس بات کی داد بھی تو دینی چاہئے کہ کلثوم ہوں یا مریم، شہرت اختیار اور اقتدار کی بھوکی نہیں ہیں۔ 

اس ضمن میں ایک اور ہم نقطہ یہ ہے کہ جب جنرل مشرف کے زمانے میں نواز شریف جلا وطن ہوئے تھے تو اس وقت پاکستان میں ان کی نمائندگی ان کے لاڈلے بھتیجے حمزہ شہباز کر رہے تھے مگر تب کہیں عوام کا ہجوم انہیں ویلکم کہنے اور ان کے آگے آگے نیب کی عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجاتا نظرنہیں آیاکرتاتھا۔تاہم مریم نواز جونہی گھر سے نکلتی ہیں نون لیگ کے متوالے امڈے چلے آتے ہیں۔ سیاست میں مقبولیت اور غیرمقبولیت کا یہی پیمانہ ہوتا ہے اور مریم نواز اس پیمانے کے حساب سے قیادت کے معیار پر پورا اترتی ہیں مگر چونکہ اقتدار کی دوڑ میں نہیں ہیں اس لئے جب چاہتی ہیں خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور جب چاہتی ہیں ایک شیرنی کی طرح دھاڑتی ہوئی باہر نکل آتی ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عوام نے نواز شریف کے بعد مریم نواز سے حقیقی توقعات باندھ لی ہیں۔

گزشتہ 20برسوں کی خاموش سیاست نے مریم نواز کو لیڈر بنادیا ہے، اب اگر اگلے 20برس تک وہ گرجتی برستی رہیں توکہاں جاپہنچیں گی؟سیاست میں ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی، ناکامی وگمنامی ضرور ہوتی ہے اور مریم نواز کے پاس تو اتنا بڑا حوالہ ہے کہ کئی شیخ رشید اور فواد چودھری بے پرکی درفنطنیاں چھوڑتے چھوڑتے عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے اور اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے۔مریم نوازکی مصروفیات بتاتی ہیں کہ وہ پارٹی کے تنظیمی معاملات بھی دیکھتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف نواز شریف کی وکالت کے لئے وقف ہیں بلکہ اب پارٹی نے ان سے اس سے کہیں بڑھ کر توقعات باندھ لی ہیں ِ، خاص طور پرویز رشید ایسے سنیئر سیاستدانوں کی ان کے اردگرد موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ قدرت مریم نواز کو کچھ بڑے مقاصد کے لئے تیار کر رہی ہے۔ ایسے میں ہوسکتاہے کہ شہباز شریف کو مریم نواز سے اس قدرمسئلہ نہ ہو جس قدر نوازشریف مخالف حلقوں کونظر آتا ہے اورجوہر روز نت نئے زاویوں کے ساتھ ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہی مریم نواز کا چیلنج ہے اوریہی نون لیگ کا چیلنج ہے۔ اگردونوں اس چیلنج سے سرخرو ہو کر گزر گئے تو ان دونوں کے حریف دھول چاٹتے رہ جائیں گے، وگرنہ!

مزید :

رائے -کالم -