پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند   

پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند   
پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند   

  

حکومت نے ابھی ڈھنگ سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ عوامی تاثر سامنے آگیا کہ پنڈورا پیپرز کے معاملے پر کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ تاثر بلاوجہ ہرگز نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد بہت سنگین نوعیت کے معاملات پر آٹھ، دس کے قریب تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے مگر سب سے ایک ہی نتیجہ برآمد ہوا“ ٹائیں ٹائیں فش“۔ پاکستانی عوام طویل عرصے سے دیکھتے آرہے ہیں کہ حکمران اشرافیہ کے نزدیک کرپشن سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔بدعنوانی اور لوٹ مار کی وارداتوں کو صرف سیاسی یا انتقامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ احتساب کا عمل اس حد تک بھونڈا اور یکطرفہ ہے کہ بچے بچے کو پتہ چل چکا کہ کس کے خلاف کارروائی کیوں کی جاتی ہے۔

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب پانامہ لیکس کے نام پر طوفان کھڑا کیا گیا اور پھر فیصلہ اس شخص کے خلاف آیا جس کا نام لسٹ میں موجود ہی نہ تھا - نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے اقامہ کو جواز بنانا پڑا۔اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں چار سو کے قریب پاکستانیوں کے نام تھے مگر کسی اور کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا کہ ہمارے ہاں احتساب کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس حوالے سے کئی بار ریمارکس دے چکے ہیں۔ میڈیا نے بھی باربار یہ مسئلہ اٹھایا مگر اصل حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حکمران اشرافیہ کا اپنا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر سب کے یکساں احتساب کا رواج پڑ گیا تووہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ امتیازی احتساب کے لئے نہ صرف منصوبہ بندی کرتی ہے بلکہ دیگر اداروں کو بھی بے دردی سے اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ شرمناک سلسلہ اب سے نہیں بلکہ بہت واضح طور پر جنرل ایوب خان کے دور سے جاری ہے۔

سزائیں لاوارث اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے ہیں یا پھر ایسی شخصیات کے لئے جن کو مخصوص مقاصد کے لئے نشان عبرت بنانا ہو۔ پنڈورا پیپرز میں پانامہ کے برعکس کوئی ایک بھی ایسا ٹارگٹ نظر نہیں آرہا سو کہا جاسکتا ہے کہ ان کا انجام ردی کی ٹوکری کے سوا کچھ نہیں۔ 700 پاکستانیوں کی اس لسٹ میں اب تک جو نمایاں نام سامنے آچکے ان میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے خاندان کے تین  افراد، وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی عمر شہریار سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور ان کے خاندان کے دو افراد،وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی، سینئر صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے خزانہ مالیات وقار مسعود خان کا بیٹا، اسحق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار،نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، وزیراعظم کے گشتی سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی، ابراج کے بانی عارف مسعود نقوی، بڑی کاروباری شخصیت طارق شفیع شامل ہیں۔ آف شور کمپنیوں اور جائیدادوں کے مالکان میں سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شفاعت علی شاہ کی اہلیہ اور بیٹا، جنرل (ر) محمد افضل مظفر کا بیٹا، جنرل (ر) نصرت نعیم، جنرل (ر) خالد مقبول کا داماد، جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ، جنرل (ر) علی قلی خان کی بہن، ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور سیاستدان راجہ نادر پرویز شامل ہیں۔جونہی یہ لسٹ سامنے آئی اس میں شامل افراد نے خود ہی اپنی صفائی پیش کرکے خود کو بری کرا لیا۔ سب سے دلچسپ ردعمل سابق کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ر شفاعت علی شاہ کی جانب سے سامنے آیا۔

لندن کے پوش ایریا میں بیش قیمت فلیٹ کا مالک نکل آنے پر انہوں جہاں یہ دعویٰ کیا کہ مذکورہ فلیٹ خریدنے کے لئے رقم لاہور میں پلاٹ فروخت کرکے حاصل کی گئی تھی۔ ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی لگا دیا کہ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں شامل ایک صحافی کا بھارت سے کنکشن ہے اور یہ رپورٹ پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ یاد رہے کہ جنرل(ر) شفاعت شاہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کو لتاڑنے اور کرپٹ قرار دینے کے لئے اکثر متحرک رہتے ہیں۔ یہ قول و فعل کا تضاد ہی ہے کہ جس کے سبب آج پورا معاشرہ طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے پنڈوار لیکس کی تحقیقات اپنی ٹیم سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔چند ماہ قبل جب لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی فیملی کے بیرون ملک بھاری اثاثے سامنے آئے تو ایک موقع پر بظاہر وہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی حیثیت سے استعفا دینے پر تیار ہو گئے تھے۔ جب وہ اپنے اس ارادے پر عمل کرنے کے لئے وزیر اعظم کے پاس پہنچے تو انہوں نے بغیر دیکھے ہی تمام کاغذات درست قرار دے کر کام جاری رکھنے کی فرمائش کردی۔ وہ تو حالات کا جبر تھا کہ جنرل (ر) عاصم باجوہ کو جانا پڑا ورنہ یہ حکومت آج بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی۔

ہائبرڈ نظام تو چلتا ہی طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر ہے۔ افسوس کی بات تو ہے کہ مارشل لا سے لے کر ان ڈائریکٹ غیر جمہوری نظام کے ذریعے تمام تر اختیارات اور وسائل کنٹرول کرنے کے چکر میں تمام ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا، اپوزیشن کی جماعتیں کھلے عام عسکری قیادت کے نام لے کر مختلف واقعات پر ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کا یہ حال ہے کہ وکلا کنونشن میں ہزاروں قانون دانوں کے مجمع میں جج حضرات کے نام لے کر کہا جارہا کہ وہ قانون پر عمل نہیں کر رہے۔ باقی اداروں کی پہلے ہی کچھ خاص حیثیت نہیں۔ تنازعات کا ایک جھکڑ چل رہا ہے جو کسی بھی وقت تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔چیئرمین نیب کے معاملے کو ہی لے لیں۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال کی جگہ کوئی اور آجاتا تو وہ بھی کیا کرلیتا؟ لیکن حکمران اشرافیہ کا خوف ملاحظہ فرمائیں کہ پورا ملک اور ادارے آہنی گرفت میں لینے کے باوجود کسی قسم کا چانس لینے کے لئے تیار نہیں۔ شاید کچھ تلخ تجربات ہیں۔

جنرل کیانی کے دور کا ایک بہت مشہور واقعہ تو سب کو یاد ہے جب اربوں کی کرپشن میں ملوث سابق جنرلوں کو صاف بچا لیا گیا تھا۔جنرل مشرف دور کے اس سکینڈل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رپورٹ کیا تھا۔ پی اے سی نے تین انکوائری کمیٹیاں بنائیں اور جنرل سکینڈل میں ملوث پائے گئے۔ کیس بہت ٹھوس اور واضح تھا حتیٰ کہ خود فوج کی انکوائری میں بھی یہی رپورٹ آئی۔ اس وقت چودھری نثار علی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین تھے۔کہا جاتا وہ کسی طرح کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ مگر بات ایک دفعہ پھر سے گرم ہوتی نظر آئی تو معاملے کو مکمل طور پر دبانے کے لئے جنرل کیانی نے وقتی طور پر اعلان کر دیا کہ ان فوجی افسروں کو دوبارہ نوکری پر بحال کیا جاتا ہے اور ان کا کورٹ مارشل ہوگا۔ وہ دن اور آج کا دن راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

 اب تو آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ پنڈورا پیپرز کا پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند کردیا گیا ہے۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے کیا خوب کہا ہے  

”کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں 

کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے“

مزید :

رائے -کالم -