طرزِ سیاست اور عوام کے بدلتے تیور 

طرزِ سیاست اور عوام کے بدلتے تیور 
طرزِ سیاست اور عوام کے بدلتے تیور 

  

پاکستان میں سیاسی منظر نامہ کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ پاکستانی سیاست کے اتنے زیادہ اسٹیک ہولڈرز ہیں وہ کچھ نہ کچھ ہلچل مچائے رکھتے ہیں تاہم ایک بات واضح ہے اب سیاست بہت مشکل ہو گئی ہے۔ اس کی مثال بلاول بھٹو زرداری اور حمزہ شہباز کے دورہئ جنوبی پنجاب سے دی جا سکتی ہے۔ جہاں توقعات کے مطابق انہیں پذیرائی نہیں ملی۔ اگرچہ ایسے دوروں کی اب ضرورت بہت ہے تاہم عوام کا مزاج بھی کچھ بگڑا ہوا ہے، کیونکہ حالات کے تھپیڑوں نے انہیں بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ ماضی کی طرح اب یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک بڑھک ماریں اور سیاست کا پانسہ پلٹ دیں یا بڑھک بازی سے عوام کو متاثر کر سکیں۔ عمران خان نے اس حوالے سے سارے ریکارڈ توڑ رکھے ہیں اس لئے عوام اب ایسے کھیل تماشوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے کہ کروڑوں پاکستانی اپنا غبار خود نکالنے کی پوزیشن میں ہیں وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولتے ہیں اور جو دل میں آتا ہے باہر لے آتے ہیں، ایسے ماحول میں عوام کو بے وقوف بنانے کا چانس بہت کم رہ گیا ہے،

مگر اس کے باوجود سیاست تو چلنی ہے اور سیاستدانوں نے داؤ پیچ تو آزمانے ہیں سودہ آزمائے جا رہے ہیں۔ حکومت اس وقت سخت مشکل میں ہے۔ معاشی حالات اس کی دسترس میں نہیں رہے اور عمران خان اب تک صرف دو لفظوں ”گھبرانا نہیں“ کے ذریعے تسلیاں دے رہے ہیں کوئی عملی قدم وہ اٹھا نہیں پا رہے جو عوام کو ریلیف دے سکے۔ حتیٰ کہ بعض معاملات میں سخت اقدام کرنے  سے بھی قاصر ہیں جبکہ صاف لگ رہا ہے کچھ مافیاز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستانی معیشت اور روپے کو کمزور کرنے کے درپے ہیں ڈالر کی بے لگامی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ڈالر کون خرید رہا ہے، کہاں ذخیرہ ہو رہے ہیں، کس کی آشیر باد سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ روزانہ بڑھ رہا ہے، اس کا کھوج لگانے کی اشد ضرورت ہے مگر حکومت اس معاملے میں مداخلت کرنے سے بھی گھبراتی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان پوری قوم کو تو مشورہ دیتے ہیں، گھبرانا نہیں مگر خود جرأت مندانہ اقدامات  سے گھبرا رہے ہیں۔

خیر یہ تو ایک پہلو ہے۔ اس وقت سیاسی جماعتیں اس امید میں مبتلا ہو چکی ہیں کہ کسی وقت بھی انتخابات ہو سکتے ہیں، ملک کی معاشی حالت اپوزیشن جماعتوں کے لئے ایک پکی پکائی کھیر ہے، جس پر وہ اپنی ماضی کی کارکردگی پر مٹی ڈال کے عوام کو مستقبل کی امید پر زندہ رکھ سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے نوجوان چہرے اب آگے آ چکے ہیں، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور حمزہ شہباز اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مریم نواز اس سارے منظر نامے میں ایک خاص اہمیت اختیار کر چکی ہیں، انہوں نے اپنے خلاف مقدمات کو عدالتوں میں چیلنج بھی کر دیا ہے اور ان کا سیاسی لب و لہجہ بھی ہمت کی طرح جارحانہ ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور حمزہ شہباز ذرا محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اُدھر حکومتی وزراء آئے روز ایسی پھلجھڑیاں چھوڑ دیتے ہیں، جن سے اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مزید بیان بازی کا موقع مل جاتا ہے۔ مثلاً اب فواد چودھری کو یہ بے پر کی اڑانے سے کیا ملا کہ حکومت اب تک ایک کروڑ نوکریاں دے چکی ہے۔ اندھے کو بھی معلوم ہے اس حکومت نے نوکریاں چھینی ہیں، دی نہیں، پھر اتنا بڑا دعویٰ جو جھوٹ سے بھی دو ہاتھ آگے کی چیز ہے، کیوں کیا گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اور وزراء الٹے سیدھے بیانات دے کر ماحول کو گرماتے رہتے ہیں۔

اس سارے عرصے میں پی ڈی ایم نامی تحریک کہیں غائب ہو گئی ہے۔ اس میں سے پیپلزپارٹی کیا نکلی اس کے غبارے سے تو ہوا نکل گئی۔ اصل میں جب آپ اپنے اہداف ایسے بنا لیں گے جو بادی النظر میں پورے ہی نہیں ہو سکتے تو پھر صورت حال ایسی ہی ہو گی۔ حکومت کو گھر بھیجنے کے علاوہ بھی بہت سے اہداف ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے ملک میں سسٹم کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور عوام کو ریلیف بھی دلایا جا سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی اس چلتے نظام کی بساط لپیٹنے پر راضی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن تو 2018ء کے انتخابات سے لے کر آج تک یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ مسلط کردہ حکومت ہے اسے چلتا کیا جائے، انہیں اب یہ کون سمجھائے تین سال تو ہو گئے یہ مطالبہ کرتے اب دو سال سے بھی کم مدت رہ گئی ہے۔ انتخابات کا انتظار کیا جائے مگر وہ ایک دن دینے کو بھی تیار نہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کے لئے سپورٹ حاصل نہیں، حمزہ شہباز جنوبی پنجاب آئے تو انہوں نے بار بار یہی کہا 2023ء کے انتخابات میں عوام حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے اور مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی۔ یہ اچھی بات ہے آئندہ انتخابات کا ذکر کیا جاتا رہے، تاکہ حکومت پر بھی کوئی دباؤ پڑے کہ اسے جلد ہی دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے۔ اگر ان دو برسوں میں بھی کچھ ڈیلیور نہ کیا تو اسے عوام انتخابات میں بری طرح مسترد کر دیں گے۔

سیاست کی اس گرم بازاری میں شیخ رشید احمد جیسے وزراء ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں، جن پر ہنسی آتی ہے، وہ کہتے ہیں نوازشریف کو سیاسی موت مرتا دیکھ رہے ہیں۔ ارے بھائی یہ مرنے مارنے کی باتیں چھوڑو، تین برسوں میں تو نوازشریف مرا نہیں، وہ سیاسی طور پر آج بھی زندہ ہے اور نون لیگ کے ہر جلسے میں پہلا نعرہ ہی اس کے نام کا لگتا ہے، حتیٰ کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی ان کے نام کی مالا جپتے ہیں ہاں حکومت کی پرفارمنس بہت اچھی ہوتی اس نے اپنے دعووں کے مطابق پاکستانی عوام کو ایک نیا پاکستان دیا ہوتا تو نوازشریف کی سیاسی موت واقع ہو سکتی تھی، اب تو حکومت کی بری کارکردگی نے نوازشریف میں نئی جان ڈال دی ہے۔ عوام ان کے دور کی یاد کرتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے سیاسی حالات اب سب کے لئے مشکل ہو گئے ہیں، سیاسی جماعتوں کی برسی کارکردگی نے پاکستانی عوام کو سیاست سے بد دل کر دیا ہے۔ اب وعدوں اور دعوؤں سے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات کے بغیر عوام کو رام نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کو اس کا یقینا ہیں تو وہ عوام میں جا کر دیکھ لے۔

مزید :

رائے -کالم -