احتساب اور نیب الوداع

احتساب اور نیب الوداع
احتساب اور نیب الوداع

  

قیام پاکستان سے اب تک پاکستانی جمہوریت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نعرہ اور وعدہ احتساب کا ہے،دلچسپ امر یہ ہے یہ ایسا لفظ ہے، جس کا استعمال جمہوری دور کے ساتھ آمریت کے دور میں بھی یکساں طور پر کیا گیا، ہماری سادہ لوح عوام آج نیب کے چیئرمین جناب جاوید اقبال کی مدت ملازمت کے لئے آنے والے صدارتی آرڈیننس سے پریشان ہے،بڑا ظلم ہو  گیا ہے مدت ملازمت پوری کرنے والے چیئرمین نیب کو موجودہ حکومت اگلے چار سال کے لئے پھر ذمہ داری دینا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن بھی اس مسئلے کو پاکستان کا بڑا مسئلہ قرار دے کر متفقہ طور پر صدارتی آرڈیننس کو مسترد کر رہے ہیں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے اِس وقت سب سے بڑا مسئلہ عوام کی حالت ِ زار نہیں ہے، جو  ناقابل ِ برداشت مہنگائی کی وجہ سے ان کی ہو چکی ہے ان کے لئے تعلیمی اداروں، اکیڈمیوں، بیکری مصنوعات، پٹرول مصنوعات، گوشت، فروٹ، سبزیوں،دالوں، گھی، آئل، آٹا، دالیں، بجلی، گیس کی قیمتوں میں ایک ماہ میں 20 فیصد اضافہ مسئلہ نہیں ہے ان کے لئے مسئلہ ہے۔ نیب کا چیئرمین نیا آنا چاہئے اگر نہ آیا تو جمہوریت کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے، میرے ایک دوست پروفیسر ہیں وہ ہمارے نمازی ساتھی بھی ہیں، فجر کی نماز کے وقت وہ دلائل دے رہے تھے ہمارے دوسرے نمازی نے انہیں ٹوکا اور کہا پروفیسر صاحب آپ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں آپ جج یا فوجی نہیں ہیں۔ آپ میں سے کسی کو نیب کے چیئرمین کے ناموں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا، نیا چیئرمین بھی ریٹائرڈ ججز یا آرمی آفیسرز یا بیورو کریٹس میں سے ہی ہو گا۔

ایک اور ساتھی نے لقمہ دیا اور مزید نیب کا چیئرمین برقرار رکھنا یا نیا لگانا عوام کا مسئلہ نہیں ہے،افسوس اس بات کا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں عوام کو بھول چکے ہیں مل کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ایک اور نمازی نے فرمایا جناب نیب کے چیئرمین کے لئے جو نام پیش کئے گئے ان میں ماسٹر یا یونیورسٹی کا پروفیسر کوئی نہیں ہے، اس لئے یہ بحث ختم کریں نیب کا چیئرمین یہی رہے گا یا نہیں بنے گا۔ ایک بات طے ہے عوام میں سے کوئی نہیں بنے گا۔ایک دوست نے بات کر کے بحث ختم کرنے کا اعلان کیا کہ جناب جسٹس جاوید اقبال تبدیلی سرکار کی چوائس نہیں ہیں، مسلم لیگ(ن) نے صاحب ِ اقتدار کی حیثیت سے اپوزیشن پیپلزپارٹی سے مشاورت سے بنایا ہوا ہے،مَیں اپنے سادہ لوح دوستوں کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا اور انہیں بتا نہیں سکتا تھا کہ نیب کے نئے چیئرمین کے چناؤ اور پرانے چیئرمین کی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے توسیع کی آڑ میں جو کھیل کھیلا گیا ہے اس ڈرامے کے کردار صرف تحریک انصاف کی حکومت تک محدود نہیں ہیں،بلکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا بھی کردار نمایاں ہے۔راقم کا دعویٰ ہے نیب اور احتساب دونوں کو الوداع کہہ دیا گیا ہے۔

مجھے تو لگتا  ہے نیب سے زیادہ طاقتور وہ وکیل ہے جس نے ایک کاپی نہ ملنے پر ڈنڈے سے پوری برانچ کے کاؤنٹر توڑ ڈالے، میری ذاتی رائے ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تبدیلی سرکار کے عدلیہ میں اصلاحات لانے کے دعوے کی نفی وکیل حضرات اپنی یکجہتی سے چیف جسٹس کے دفاتر کو تالے لگا کر سول اور سیشن جج کو تھپڑ مار کر کررہے ہیں۔ نیب سے زیادہ طاقتور تو تھانے کا محرر ہے جس کی رضا مندی کے بغیر آج بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ نیب سے طاقتور تو جیل کا (دروغہ) ہے جس کو راضی کئے بغیر ملاقات ممکن نہیں، نیب سے زیادہ طاقتور تو بجلی اور گیس کا لائن مین ہے،جو آپ کی ایمانداری کا جنازہ اپنے کیمرے اور قلم سے ریڈنگ لیتے ہوئے نکال دیتا ہے۔ نیب سے زیادہ طاقتور وہ مافیا ہے جو سرے عام ملاوٹ کر کے دو نمبر گھی، دو نمبر چینی،دالیں، مرچ مصالحہ اور دو نمبر آٹا فروخت کر کے حکومتی اداروں کے منہ پر طمانچہ مار رہا ہے۔ اہم ستون صحافت کی بات نہیں کرتا، کیونکہ جتنی بڑی گالی عدلیہ، پولیس، پٹواری کلچر کو پڑتی ہے اتنے کے ہی ہم صحافی لوگ حقدار ٹھہرتے ہیں، لوگوں کو احتساب سے تو نفرت ہو ہی رہی تھی، 22سال تک جدوجہد کر کے اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کے منشور کا پہلا نقطہ کرپشن سے پاک معاشرہ دنیا تھا۔

صاف چلی شفاف چلی اس کا نعرہ تھا

لوگ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں تین سال میں درجنوں کیس سرکاری اور اپوزیشن رہنماؤں پر بنے،کتنی ریکوری ہوئی؟

زیادہ دیر کی بات نہیں ہے پانامہ لیکس 400 خاندان، سوئس لیکس، دبئی لیکس25والنمبر جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ، حدیبیہ پیپرز، ایوان فیلڈ فلیک شپ،56کمپنیاں، چینی، آٹا، پٹرول، کیا کیا سکینڈل سامنے نہیں آئے۔ عمران خان کو تسلیم کر لینا چاہئے کچھ نہیں کر سکے۔ میرا یقین ہے نیب چیئرمین کی مدت ملازمت کی توسیع کی آڑ میں اپوزیشن کے جو مطالبات تسلیم کرنے کا کھیل کھیلا  گیا ہے اس سے وزیراعظم آگاہ نہیں ہیں،اللہ کرے میرا بھرم قائم رہے پنڈورا پیپرز کے 700 خاندانوں میں چند سیاست دان نام کما سکے ہیں ان کے حوالے سے عوام یکسو ہیں ان کا بھی کچھ نہیں ہو گا، سیاسی مجبوریاں کام دکھائیں گی اور دسمبر تک کمیٹیاں اور جے آئی ٹی بنیں گی اور پھر پانامہ کی طرح پنڈورا پیپرز والے محب وطن قرار پائیں گے۔

اب نئے این آر او اور نیب کے پر کاٹنے اور اختیارات ختم کرنے کے حوالے سے آرڈیننس کے نکات پر بات کرتا ہوں، حتمی رائے کا اختیار قارئین کو دیتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں احتساب اور نیب کا جنازہ کس خوبصورت انداز میں نکالا گیا ہے۔ رونا پرانے اور نئے چیئرمین نیب کا رویا جا رہا ہے، حالانکہ اندرون خانہ اپوزیشن جو تین سال تک کچھ نہ کر سکی، اگلے دو سال کے لئے بھی لالی پاپ کھاتی رہے گی، اور عوام ہمیشہ کی طرح جمہوریت سے محبت میں انہی کو ادل بدل کرتے رہیں گے۔ صدارتی آرڈیننس کے مطابق نیب ٹیکس معاملات نجی کاروبار، بیورو کریسی، وفاقی، صوبائی کابینہ، بینک، مقدمات نہیں دیکھ سکے گی، مشترکہ مفادات کونسل، این ای سی،این ایف سی، ایکنک، سی ڈی، ڈبلیو پی بی ڈبلیو بی کے فیصلے بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گ، چیئرمین چار سال کے لئے ہو گا، چار سال مزید توسیع ہو سکے گی اس سے آگے کیا لکھنا۔ ایک سوال اٹھتا ہے پھر نیب کیا کرے گی۔ جناب نیب پرائیویٹ سوسائٹیوں سے ممبران کو پلاٹ دلائے گی اور اب تک  فراڈ کرنے والوں سے ریکوری کرے گی، الوداع نیب الوداع احتساب۔

مزید :

رائے -کالم -