نیب آرڈیننس میں ترامیم پر ہنگامہ، چیئر مین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع غیر قانونی، بد نیتی پر مبنی، بلاول بھٹو، آرڈیننس حکومت کیلئے این آر او شاہد خاقان، اپوزیشن روتے بچوں کا اجتماع: فوا د چوہدری

نیب آرڈیننس میں ترامیم پر ہنگامہ، چیئر مین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع غیر ...

  

 لاہور،کراچی (نمائندہ خصوصی،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، سلیکٹڈ حکومت اپوزیشن کو مسلسل نشانہ بنائے رکھنا چاہتی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت وزیراعظم اور ان کے خاندان و رفقاء کو احتساب سے استثنٰی دیتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھنا چاہتی ہے، پینڈورا پیپرز کے بعد خاص طور پر حکومت خود کو احتساب سے بچانا چاہتی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے احتساب عدالت پیشی کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس لانا غیر مناسب ہے، اسمبلیوں سے قانون سازی ہونی چاہیے، قانون سازی کرنی ہے تو مہنگائی کیخلاف کریں، آپ اپنی مرضی کی قانون سازی لا رہے ہیں، سب سے محترم ادارے پارلیمنٹ کو بائی پاس نہیں کیا جانا چاہیے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انتخابات جلد ہوں یا وقت پر ہوں عمران خان کہیں نظر نہیں آتے، 2016 میں کہتے تھے جن کے ا?فشور اکاؤنٹس ہیں وہ سب چور ہیں، آج وزراء  کے آفشور اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہپرویز اشرف نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی حکومت نہیں جو روزمہنگائی کرتی ہو،آج پورا ملک مصیبت سے دوچار ہے۔مہنگائی اور بیروزگاری نے بائیس کروڑ عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔عام آدمی یوٹیلٹی بل بھر سکتا ہے نہ ٹیوشن فیس،ہر روز نیا بجٹ ا رہا ہے۔ہر روز مہنگائی بڑھتی ہے۔ وہ ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں حسن مرتضی،ثمینہ خالد گھرکی،شہزاد سعید چیمہ اور نرگس فیض کیساتھ  پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مہنگائی کے سدباب کیلیے ایمر جنسی لگائیں۔انہوں نے کہا کہ ترجمان عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔نوکری دینے اور لینے والوں نے سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ایک دن ڈالر انتہائی سطح پر پہنچتا ہے،اگلے روز روپیہ اور بے قدر ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی پیں۔آپ نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔پیپلز پارٹی عوام سے اظہار یک جہتی کیلیے سڑکوں پر ہے۔آپ نے عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبو دیا ہے۔ہر شخص گھر،دفتر،بازار میں آپ کو بد دعائیں دے رہا ہے۔جینا مرنا اوربنیاد عوام۔کیساتھ ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے پارلیمان کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے، آرڈیننسوں سے وہ حکومت گزارہ کرتی ہے جسے پارلیمان کا ساتھ نہیں ملتا۔کیا یہ اداروں کی توقیر ہے کہ آپ قانون سازی کی بجائے آرڈیننس کے پیچھے چھپتے ہیں،چیرمین نیب نہیں بلکہ اسے تجدید دینے کے طریقہ کار پر ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے۔آئین و قانون پر کوئی کمپرومائز نہیں۔افواج پاکستان ہمارا ادارہ ہے انکے کردار پر بات نہیں کرنا چاہیے۔تمام وزرائے اعظم کی حاضری دیکھ لیں،پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم سب سے زیادہ آئیتقریر کی اجازت سب کو ہونی چاہیے،حکومت پارلیمنٹ کا ماحول تعمیری بنائیہماری کسی تنظیم میں کوئی دراڑ نہیں،سب متحد ہیں۔تبدیلی نارمل عمل ہے،تین برس کے بعد ضرورت کے مطابق تبدیلی کی جاتی ہے۔لاہور سمیت جہاں ضروری ہواتبدیلیاں کرینگے۔بعد ازاں مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی موٹر سائیکل ریلی ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوئی ریلی کی قیادت راجہ پرویز اشرف،حسن مرتضی،شہزاد سعید چیمہ اور عزیز الرحمن چن نے کی۔ریلی میں چودھری عاطف رفیق،انجم بٹ، چوہدری منشاء پرنس،چاہدری وقاص منشاء پرنس،مجتبیٰ پرنس،اسد مرتضیٰ۔چودھری اختر،ملک جمشید،صابر بھلہ،محسن ملہی،عمران اٹھوال بھی موجود تھے،لاہور کے تمام زونز سے جیالے موٹر سائیکلوں پر ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ پہنچے۔ریلی کیساتھ پیپلز پارٹی کے ترانوں والا ٹرک بھی موجود تھا۔ریلی میں موجودموٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر پیپلز پارٹی کے جھنڈوں کی بھر مارتھی،ریلی شرکاء  کے مہنگائی،بیروزگاری،پیٹرول،ایل پی جی اور حکمرانوں کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم قصائی ہے،کمرتوڑ مہنگائی ہے,سلیکٹڈ حکومت سو رہی ہے،غریب عوام رو رہی ہے،تباہی سرکار کی آبیاری،بیروزگاری،بیروز گاری،ریلی فیروز پور روڈ کے راستے جین مندر،ایم اے او کالج،داتا دربار،شنگھائی برج،مال روڈ،کیمپس نہر،جیل روڈ،صدیق ٹریڈ سنٹر سے ہوتی ہوئی لبرٹی گول چکر پر اختتام پذیر ہوئی۔دریں اثناء راجہ پرویز اشرف،شہزاد سعید چیمہ و دیگر نے بلوچستان زلزلہ متاثرین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

بلاول

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما   و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں حکومت نے خود کو این آر او جاری کیا، اب آپ کی لوٹ مار، گندم، چینی اور ٹیکس چوری پر نیب سوال نہیں کرسکتا، چیئرمین نیب کو حکومتی کرپشن نظر نہیں آتی، بی آر ٹی، مالم جبہ کیسز ختم کر دیئے گئے،مہنگی ترین ایل این جی خریدنے پر نیب سوال نہیں کرسکتا، پنڈورا پیپرز میں آنیوالے 700 افراد سے نیب سوال نہیں کرسکتا، نیب کابینہ میں شامل وزرا سے سوال نہیں کرسکتا، ہزاروں ارب چوری کرنیوالوں سے نیب پوچھ گچھ نہیں کرسکتا، صدر مملکت ہر قسم کے کاغذ پر دستخط کیلئے تیار رہتے ہیں۔جمعرات کو مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خواجہ آصف، احسن اقبال اور خرم دستگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آمر کے بنائے کالے قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کرنے کی کیا ضرورت تھی،اسے پارلیمان میں لایا جانا چاہیے تھا،اس کالے قانون میں پاکستان کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا،نیب چیئرمین ملک میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرڈیننس چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے ہے، جو احتساب نہیں عمران خان کی نوکری کرتا ہے، اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے اپنے آپ کیلئے این آر او جاری کیا ہے،حکومت چاہتی ہے کابینہ کے فیصلوں پر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو،گندم چوری اور اس پر دی جانے والی سبسڈی سے متعلق کوئی وزیراعلیٰ سے پوچھ نہیں سکتا، ادویات اسکینڈل،مہنگی ایل این جی خریدنے سے متعلق نیب کچھ نہیں پوچھ سکتا، اس حکومت نے اپنے مفاد کیلئے پالیسیاں بنائیں، نیب ان ڈاکوؤں کو پکڑنے کے بجائے خاموش ہے، آرڈیننس کے مطابق ٹیکس چوری پر نیب پوچھ گچھ نہیں کر سکے گا، پنڈورا پیپر میں آنے والے افراد سے نیب سوال نہیں کر سکے گا، کابینہ میں شامل چوروں سے نیب کچھ نہیں پوچھ سکے گا، ان سے وہی چور سوال کر سکیں گے جو کابینہ میں شامل ہوں، کمیٹیاں اور کمیشن بنیں گے، یہ سارا معاملہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنانا تھا تو آرڈیننس لانے کی کیا ضرورت تھی، یہ مارشل لاء کا دور نہیں نام نہاد جمہوریت ہے، پارلیمان میں مسودہ لایا جاتا تا کہ بہتر قانون بنایا جا سکتا،احتساب کا عمل بھی جاری رہتا اور کرپٹ حکومت کا احتساب بھی ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے عدلیہ کی آزادی پر ڈاکہ ڈالا ہے، ججز کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار حکومت کے پاس چلا جائے گا،یہ سب عدلیہ سے من پسند فیصلے لینے کیلئے کیا گیا ہے،حکومت عدلیہ کے اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب اس حکومت کیلئے اہم ہیں کیونکہ انہیں تین سالوں میں حکومت کی کوئی کرپشن نظر نہیں آ سکی،ان کے دیئے گئے فیصلوں کی وجہ سے حکومت انہیں تاحیات چیئرمین نیب رکھ سکتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب چار سال مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد بھی جب تک نیا چیئرمین نیب نہیں آتا گھر نہیں جا سکتا،یہ چیزیں کبھی قائم نہیں رہیں گی، اس حکومت اور اس کے وزراء کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا،اس آرڈیننس میں قانون شہادت کو بھی بدلنے کی کوشش کی گئی ہے،اس طرح کسی کو انصاف نہیں مل سکے گا،آرڈیننس کی بدولت گواہ آڈیو، ویڈیو بیان دے سکے گا اور عدالت اسی پر فیصلہ کرے گی، آرڈیننس کے مطابق ضمانت اتنے کی ہی ہو سکے گی جتنے کے الزامات لگے ہوں گے اور نیب اربوں روپے سے کم کا الزام لگاتا ہی نہیں،یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور عدلیہ پر حملہ ہے

مسلم لیگ ن

 اسلام آباد (مانیٹرنگ دیسک،این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن روتے ہوئے بچوں کا اجتماع ہے جن کا کام صرف رونا ہے، جو بھی اصلاحات لے آئیں، اپوزیشن کا کام اس پر شور مچانا اور اس کی مخالفت کرنا ہے، نیب آرڈیننس پر تنقید کرنے والوں کی اکثر تجاویز اسی آرڈیننس میں شامل ہیں، کابینہ نے ربیع الاول میں عشرہ رحمت العالمین ؐمنانے کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان اتوار کو سیرت کانفرنس سے خطاب کریں گے، ملک بھر میں تحریک انصاف کی ضلعی تنظیمیں وزیراعظم کا خطاب براہ راست دکھائی گی، تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں عشرہ رحمت العالمین ؐبھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں عشرہ رحمت العالمین?منانے کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ اس حوالے سے تمام تقریبات میں پارٹی شرکت کرے، اس مقصد کے لئے انہوں نے پوری پارٹی کو اکٹھا کیا اور ہدایت جاری کی کہ تحریک انصاف کی تمام ضلعی تنظیمیں اس حوالے سے تقریبات کا انعقاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اتوار کو سیرت کانفرنس سے خطاب کریں گے اور عشرہ رحمت اللعالمین کا آغاز اور افتتاح کریں گے۔ اس خطاب کی تقریب پاکستان تحریک انصاف کی تمام ضلعی تنظیمیں براہ راست دکھائیں گی۔ ان تقاریب کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے نبی?سے اپنے رشتے کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پارٹی تنظیم سازی کے حوالے سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ تنظیم سازی کے حوالے سے ہم نے حکمت عملی تیار کرلی ہے، مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی قریب آ رہے ہیں اور ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کی تنظیم سازی مکمل ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس پر جو تنقید کر رہے ہیں ان کی اکثر ترامیم اسی آرڈیننس کا حصہ ہیں۔ ٹرائل کورٹس کو ضمانت کا حق دینے، ٹیکس کے کیسز کو نیب کی دسترس سے ہٹانے اور نیب کے عدالتی نظام کو تبدیل اور مضبوط کرنے پر سب کا اتفاق تھا، ہم اس میں ٹیکنالوجی لائے ہیں، اب اس کے بعد بھی کسی کو اعتراض ہے تو وہ پارلیمنٹ میں لے آئے، پی ٹی آئی اس نیب آرڈیننس کے پیچھے کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب اصلاحات ہوں یا الیکٹورل ریفارمز، اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرنی ہے۔ اپوزیشن روتے ہوئے بچوں کا اجتماع ہے، اس کا کام صرف رونا ہے۔ 

فواد چوہدری

مزید :

صفحہ اول -