قائمہ کمیٹی قانون اور انصاف کا اجلاس، سزائے موت کے قیدی کو براہ راست اپیل کا حق دینے سمیت 3بل منظور

قائمہ کمیٹی قانون اور انصاف کا اجلاس، سزائے موت کے قیدی کو براہ راست اپیل کا ...

  

       اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)   قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے  سزائے موت کے قیدی کو  براہ راست اپیل کا حق  دینے  اور بلدیاتی اداروں کی تحلیل کے بعد 120دنوں میں نئے  انتخابات کرانے کے بلوں سمیت تین بلوں کی منظوری دے دی جبکہ  سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھا کر 25کرنے کے بل پر وزارت قانون، پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز سے رائے طلب کر لی، چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے ریمارکس دیئے کہ وہ کام جو کونسلر نے کرنا ہے وہ ابھی ہم کر رہے ہیں، بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، ہر وہ شخص جس سزائے موت ہو جائے اس کو براہ راست اپیل کا حق ہونا چاہیے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 140اے میں ترمیم کے دو  بلوں کا جائزہ لیا گیا، رکن اسمبلی سید جاوید حسنین نے اپنے بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کبھی لوکل گورنمنٹ الیکشنز میں تسلسل نہیں رہا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے باجود آج تک بلدیاتی اداروں کو بحال نہیں کیا گیا،  بلدیاتی اداروں کا تسلسل قائم رہنا  چاہیئے،کوئی حکومت بلدیاتی اداروں کو ساٹھ دن سے زیادہ معطل نہ کرسکے اور 60دن کے اندر اندر الیکشن کرانے کی پابند ہو،  رکن اسمبلی کشور زہرا نے  اپنے بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات بھی ملنا چاہئیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ تو  ضروری ہے کہ الیکشن ہونا چاہیئے،  لوکل گورنمنٹ صوبائی معاملہ ہے، رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے جب تک  سیاسی جماعتیں نہیں بیٹھیں گی یہ حل نہیں ہوگا، رکن کمیٹی لال چند نے دونوں بلوں کی حمایت کی،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا  بل میں الیکشن کرانے کی مدت 60  دن سے بڑھا کر 120دن کی جائے، سیکرٹری قانون نے کہا کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ کام جو کونسلر نے کرنا ہے وہ ابھی ہم کر رہے ہیں، بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں، کمیٹی نے دونوں بلوں کی منظوری دے دی، بل کے مطابق بلدیاتی اداروں کی تحلیل کے بعد 120دن کے اندر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔اجلاس میں  سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق بل کا بھی جائزہ لیاگیا، بل کے محرک قادر خان مندوخیل  نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 ہے، یہ تعداد 25کی جائے، کمیٹی نے بل پر وزارت قانون، پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز سے رائے طلب کر لی۔ اجلاس میں آئینی (ترمیمی) بل 2021(آرٹیکل (4)185) کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دے دی، بل کے تحت  سزائے موت کے قیدی کو  براہ راست اپیل کا حق ہو گا، جبکہ سپریم کورٹ چھ مہینے کے اندر اس اپیل کا فیصلہ کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، ہر وہ شخص جس سزائے موت ہو جائے اس کو براہ راست اپیل کا حق ہونا چاہیے۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -