قاضی میڈیکل کمپلیکس، صحت کارڈ جعلی آپریشن اور کرپشن پر خو د ساختہ انکوائریوں کاانکشاف

قاضی میڈیکل کمپلیکس، صحت کارڈ جعلی آپریشن اور کرپشن پر خو د ساختہ ...

  

          نوشہرہ (بیورورپورٹ) نوشہرہ، قاضی میڈیکل کمپلیکس میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ففٹی ففٹی کے ایگریمنٹ پر صحت کارڈ کے کھاتے میں ہوائی آپریشن کرانے اور کرپشن کے خلاف عوامی آواز دبانے کیلئے خودساختہ چھاپوں اور انکوائریوں کا انکشاف، اسپتال کا کوئی بھی سکینڈل جب منظر عام پر آتا ہے تو اسپتال مافیا خودساختہ چھاپے یا انکوائری کے ذریعے سکینڈل کو دبادیتاہے،بڑے تدریسی اسپتال کے ہردروازے سے کرپشن کی آوازیں آرہی ہیں۔ نوشہرہ کے بڑے تدریسی اسپتال قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں کرپشن کا دھندہ عروج پر ہے، اسپتال میں آئے روز نئے سے نئے سکینڈل منظرعام پر آرہے ہیں تاہم حکام کی جانب سے متوقع کاروائی اور سکینڈل دبانے کیلئے اسپتال کا تجربہ کار ٹھیکیدار مافیا متحرک ہوجاتا ہے اور کوئی خودساختہ کاروائی یا انکوائری کے ذریعے بڑے سے بڑا سکینڈل دباجاتے ہیں، اسپتال مافیا اتنا تجربہ کار ہوچکا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے احکامات بھی کھا جاتا ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے صحت کارڈ سہولت متعارف ہونے کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار مافیا نے نیا دھندہ شروع کردیا ہے اور ففٹی ففٹی کے معاہدے کے تحت بڑے سے بڑا ہوائی آپریشن کرانے کی پیشکش متعارف کر چکے ہیں ادھر اسپتال کی سالوں سے ابتر حالت نہ سدھرنے کی وجوہات ڈھونڈنے پر تحقیقی رپورٹ مرتب کرنے والے میڈیا ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ اسپتال کے ابتداء سے تاحال بھرتیوں،ٹھیکوں اور پروموشن جیسے بدترین سکینڈل سامنے آنے کے بعد بھی کوئی خاص کاروائی نہ ہونے کی اصل وجہ اسپتال مافیا ہے جو بڑے بڑا سکینڈل کسی بھی خودساختہ انکوائری، چھاپے اور عدالتی کاروائی سے کھا جاتا ہے۔اسپتال کے تمام تر انتظامات کو دیکھا جائے تو ایک گند کی صفائی کیلئے دوسرے گند کی صفائی کا سہارا لیا جاتاہے اس وجہ سے اربوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود عوام کو فائیدہ نہیں دیا جاسکا، نوشہرہ کے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعظم عمران خان سے بڑے تدریسی ھسپتال کی ابتر حالت پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -