کاپی برانچ میں توڑ پھوڑ، ملزم وکیل جسمانی ریمانڈ پرپوپولیس کے حوالے 

کاپی برانچ میں توڑ پھوڑ، ملزم وکیل جسمانی ریمانڈ پرپوپولیس کے حوالے 

  

 لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کی کاپی برانچ میں توڑ پھوڑ کرنے والے ملزم وکیل کو5روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے مزید سماعت12اکتوبرتک ملتوی کردی،عدالت نے ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور شیشے توڑنے کی ویڈیو کا  فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دی،دوران سماعت ملزم نے کہا کہ وہ اپنا موقف نہیں بدلے گا،جو مرضی سزا دے دیں، فاضل جج نے ملزم سے استفسار کیا آپ وکیل کی یونیفارم پہن کر کیوں آئے ہیں؟آپ کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہے آج آپ کو کالا کوٹ نہیں پہنا چاہیے تھاجس پر ملزم وکیل نے کہا کہ یہ میری پہچان ہے،کالے کوٹ کا ایک تقدس ہے مگر جو میں نے کیا وہ مجبور ہو کر کیا۔قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پولیس نے ملزم ماجد جہانگیر ایڈووکیٹ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزید تفتیش کے لئے ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے،ملزم کے وکلاء نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگائی جا سکتی اگر کسی کے ڈر سے ایسا کیا گیا ہے تو انصاف کون کرے گا؟دوران سماعت ملزم ماجد جہانگیر ایڈووکیٹ نے عدالت میں شیشے توڑنے کے اقدام سے متعلق بتایاکہ اس کے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈہ نہیں لوہے کا پائپ تھا،میں نے شیشے توڑے میں ڈپٹی رجسٹرار کے کمرہ میں گیا ماسک نہ ہونے پر مجھے اس نے باہر نکال دیا،فاضل جج نے کہا کہ آپ نے اب بھی ماسک نہیں پہنچا ہوا اگر مین دیکھ لیتا تو میں بھی آپ کو عدالت میں داخل ہونے نہ دیتا،ملزم نے کہا کہ میں کئی بار کاپی برانچ گیا مجھے کاپی نہیں دی گئی،میں نے ڈپٹی رجسٹرار کو کہا تھا اگر مجھے کاپی نہ ملی تو مین کاپی  برانچ کے شیشے توڑ دوں گا،کاپی برانچ  کے عملے نے مجھے کاپی بنا کر نہیں دی مجھے ایسے اقدام پر کاپی برانچ کے عملے نے مجبور کیا،ملزم نے عدالت کوبتایا کہ وہ انگلینڈ سے تعلیم یافتہ ہے اوراس نے ایل ایل ایم پاس کیا ہوا  اس نے ایک مقدمہ کی نقل کے لئے تین چار چکر لگائے مگر نقل نہیں ملی جس پر اس نے ایڈیشنل رجسٹرار کو کہا کہ وہ برانچ کے سارے شیشے توڑ دے گا،ملزم نے مزید کہا کہ وہاں موجود ہر بندے کو اس نے سائیڈ پر کر کے ایسا کیا تاکہ کوئی زخمی نہ ہو، ملزم نے فلمی انداز میں بھڑک لگائی کہ جو چاہے سزا دے دیں موقف نہیں بدلوں گا،ملزم کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں لہذا اس کا نفسیاتی اور میڈیکل چیک اپ کروایا جائے، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے مذکورہ بالااحکامات جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔

توڑ پھوڑ

مزید :

صفحہ اول -