شادی ہالز، سروس سٹیشنز، ہوٹلوں اور پلازوں پر عائد ٹیکس کیخلاف فیصلہ محفوظ

    شادی ہالز، سروس سٹیشنز، ہوٹلوں اور پلازوں پر عائد ٹیکس کیخلاف فیصلہ ...

  

         پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے شادی ہالوں، سروس سٹیشنز، ہوٹلوں اورپلازوں پر ٹیکس عائد کرنے کیخلاف دائر رٹ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ چیف جسٹس قیصررشید خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر ڈبلیو ایس ایس پی سروسز ہی فراہم نہیں کررہی تو پھر کیسے ان سے چارجز وصول کرسکتی ہے۔ کیا ڈبلیوایس ایس پی پورے پشاور کے لوگوں کوپانی کی سروسز فراہم کررہی ہے؟ڈبلیوایس ایس پی پہلے سروس فراہم کرے پھر ٹیکس لے۔ چیف جسٹس قیصررشید خان اور جسٹس شکیل احمدپرمشتمل دورکنی بنچ نے مختلف شادی ہالوں، ہوٹلوں، سروس اسٹیشنز اورپلازوں وغیرہ کے مالکان تیمور، سعید وغیرہ کیجانب سے دائر رٹ درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر انکے وکلاء وسیم الدین خٹک، محمد اصغرخان کنڈی ایڈوکیٹس،ڈبلیوایس ایس پی کیجانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل قاضی ارشاد بابر اوراے اے جی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وسیم الدین خٹک ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈبلیوایس ایس پی کی جانب سے ایسے شادی ہالوں، ہوٹلوں اورسروس سٹیشنزوغیرہ کو نوٹسز جاری کرکے ان سے ٹیکس مانگا گیا ہے جو اپنی مددآپ کے تحت انہوں نے پانی نکالنے کیلئے انتظامات کئے، ڈبلیو ایس ایس پی کیجانب سے انہیں پانی کی فراہمی کیلئے کوئی سروس نہیں دی جارہی ہے بلکہ وہ اپنی مددآپ کے تحت پانی نکال رہے ہیں،پھر کس طرح وہ ٹیکس وصول کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے ایک لاکھ لائسنس اور ماہانہ فیس 5ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ اصغرخان کنڈی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈبلیوایس ایس پی میونسپل سروسز کے علاوہ پانی کی فراہمی، سولڈ ویسٹ وغیرہ سروسز دینے کی ذمہ دار ہے لیکن اگر کمپنی درخواست گزاروں کو پانی ہی فراہم نہیں کررہی ہے توپھر ٹیکس وصول کرنا بھی غیرقانونی ہے۔ ان پلازوں اور شادی ہال انتظامیہ نے خود مشینیں لگا کر پانی حاصل کررہے ہیں۔ اس موقع پر جسٹس شکیل احمد نے کہاکہ آپ اسوقت ٹیکس لیں گے جب سروس فراہم کرینگے،جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل قاضی ارشاد بابر نے بتایا کہ ڈبلیوایس ایس پی میونسپل، سولڈ ویسٹ سمیت دیگر سروسز فراہم کررہی ہے، پشاور میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ڈبلیو ایس ایس پی نے گھروں میں کنیکشن لگائے اور باقاعدہ اسے ریگولیٹ کیاگیا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی نے خود بورنگ کی ہو اور اپنے اخراجات لگائے ہوں تو کیا ان سے چارجز لئے جاسکتے ہیں؟ انہیں کیا سہولت فراہم کی گئی ہے؟ قاضی ارشاد بابر نے بتایاکہ انڈرگراؤنڈ پانی ریاست کی پراپرٹی ہے،جس ریشو سے پانی نکالاجارہا ہے اوراگر اس طرح انہیں اجازت دی گئی تو پھر اسکا کیا نتیجہ نکلے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انہیں extractionکی مد میں چارج کررہے ہیں جبکہ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ کیا ایک کمپنی کے سی ای او کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ پھر تو پانی کے extractionپر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ڈبلیوایس ایس پی ہر جگہ پانی فراہم کررہا ہے؟ پہلے انہیں سروسز دیں پھر ان سے ٹیکس لیں۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میونسپل سروسز، سیوریج سسٹم اورصفائی کی مد میں ڈبلیوایس ایس پی کوششیں کررہی ہے لیکن جہاں تک پانی فراہم کرنے کا معاملہ ہے اسکی کارکردگی مناسب نہیں ہے۔بعدازاں دورکنی بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ 

مزید :

صفحہ اول -