سندھ حکومت نے پانی کی تقسیم کیلئے ارسا کے 3ٹیئر فارمولے کو مسترد کر دیا

    سندھ حکومت نے پانی کی تقسیم کیلئے ارسا کے 3ٹیئر فارمولے کو مسترد کر دیا

  

         کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے پانی کی تقسیم کیلئے ارسا کے 3 ٹیئر فارمولے کو مسترد کردیاہے۔اس ضمن میں مشیر زراعت سندھ منظور وسان نے کہاکہ ارسا کے فیصلے کو مسترد اور1991 آبی معاہدے کے تحت حصے کا پانی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں،ارسا کا 3 ٹیئر فارمولے کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،اس فیصلے سے سندھ کی فصلیں تباہ ہونگی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ سندھ 28 فیصد پانی کی کمی کیوں برداشت کرے دوسرے صوبے کیوں نہیں۔ربیع کے سیزن میں سندھ کو حصے کا پانی کم دیکر وفاقی حکومت گندم سمیت دیگر زرعی بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔مشیر زراعت نے کہا کہ 18 سالوں سے ارسا سندھ کو حصے سے کم پانی دے رہا ہے،اس کا حساب کون دیگا،ارسا،پنجاب اور واپڈا سندھ کا زرعی پانی چوری کرنے میں ملوث ہیں۔کوٹڑی سے نیچے عام لوگوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں،کھارے پانی کے باعث مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔منظور وسان نے کہا کہ کے پی کے اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کی وجہ سے ان کے ممبران پنجاب کا ساتھ دے رہے ہیں۔عمران حکومت نے سندھ کی زراعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔سندھ کو پانی کم ملنے سے صوبے کی زراعت کو اربوں روپے کانقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خریف میں پانی کم دیا گیا اب ریبع میں سندھ کو کم پانی دینے کا ارسا نے فیصلہ کیا ہے۔پانی نہ ملا توربیع کے سیزن میں صوبہ سندھ میں لگنے والی گندم کی فصل کو نقصان پہنچے گا۔پانی کم ملنے سے صوبے کے ساتھ ملک کی غذائی تحفظ کو شدید نقصان پہنچے گا۔منظور وسان نے کہا کہ ارسا آبی معاہدے 1991 کے تحت سندھ کو ربیع سیزن میں 14.82 حصے کا پانی فراہم کرے۔سندھ کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے اس بار کپاس،چاول سمیت دیگر فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاق نے پانی بند کرکے سندھ کی فصلیں اور زمینیں بنجر بنانا چاہی مگر بارش ہونے کی وجہ سے فصلیں بچ گئیں۔ارسا نے 1991 کے معاہدے پر عمل نہ کیا اور کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے نیچے پانی نہیں چھوڑا تو کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین تباہ ہوجائیں گے

مزید :

صفحہ اول -