حضرت سید پیر خواجہ مہرعلی شاہ گیلانی گولڑوی

حضرت سید پیر خواجہ مہرعلی شاہ گیلانی گولڑوی

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

 اہل اسلام میں صوفیائے کرام ؒ نے فروغ اسلام کے عظیم ترین فریضہ کو جہاد سمجھ کر اداکیا اور صوفیائے عظام ؒ نے خود کو کسی ایک طبقہ یا فرقہ کے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے خود کو محض دین کے لئے وقف کئے رکھا برصغیر میں اسلام کی ترویج و ترقی میں بزرگان دین کا کرداربڑا اہم ہے جن کی بدولت یہ خطہ اسلام کی لازوال دولت سے مالا مال ہوا ہے اسی وجہ سے صوفیائے کرام کا بہت زیادہ اثر ہمیں برصغیر پاک و ہندمیں نظر آتاہے انہی بزرگان دین میں پیرانِ پیر حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری ؒ، حضرت بختیار کاکی ؒ، حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ، حضرت علاؤالدین احمد صابر کلیری ؒ، حضرت نظام الدین اولیاء ؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒ، حضرت سید عثمان مرو ندی المعروف حضرت شہباز قلندر ؒ، حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی ؒ، حضرت بری امام سرکار ؒ، حضرت بو علی قلندر پانی پتی  ؒ، حضرت شاہ قبول اولیاء ؒ، حضرت پیر و مرشدی پیر سید عبدالرحمان شاہ با با چشتی صابری  ؒ تمبر پورہ شریف پشاور، حضرت مولانا سید امیر شاہ گیلانی قادری المعروف مولوی جی  ؒیکہ توت شریف پشاور اور پیر و مرشدی رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق با باؒ  تمبر پورہ شریف پشاور کی شب و روز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے فخر محسوس کر تے ہیں بر صغیر کو اولیاء کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے جہاں قدم قدم پر اللہ تعالی کے نیک بندوں کے ڈیرے ہیں اسلام آباد کے علاقے گولڑہ شریف کی گدی سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہو چکے ہیں محترم شخصیت قطب دوراں غوث الزمان السید خواجہ پیر مہر علی شاہ گیلانی حنفی قادری چشتی  ؒ گولڑہ شریف (اسلام آباد) کے ایک ذیشان جیلانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ ؒ نے مجاہدہ، مشاہدہ، علم و عرفان اورفضل الہی سے مذکورہ کمالات میں ایک نہایت ہی اعلی مقام حاصل کیا اللہ تعالی نے آپ کو جمال ظاہری کے ساتھ ساتھ کمال علمی و روحانی بھی بدرجہ اتم عطا فر ما یا تھا آپؒ اپنے جد امجد سر چشمہ کا ملان پیران پیر حضرت غوث ِ الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی ؒ بغداد شریف (عراق) اور گوہر صد انور خواجہ خواجگان حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی سنجری اجمیری ؒ اجمیر شریف (بھارت)کے صحیح جانشین مظہر تھے۔ نظریہ وحدت الوجود کی معرفت و تفہیم میں برصغیر پاک و ہندمیں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا آپ کا وجود القدس بنی نوع انسان کی ایک کثیر تعداد کو گمراہی سے بچانے اور مرزائیت سے سر زمین پاک و ہندکو محفوظ رکھنے کاذریعہ بنا آپؒ یکم رمضان المبارک 1275ھ بمطابق 14اپریل 1859 ء بروز پیر بمقام گولڑہ شریف پیدا ہوئے آپ کے جد امجد ساڈھورا (انبالہ) سے گولڑہ میں مقیم ہوئے آپؒ کوچار سال کی عمر میں ہی قرآن کریم پڑھنے کے لئے خانقاہ کے درس میں اور فارسی اور اردو کے لئے مدرسہ میں داخل کیا گیا عمر اتنی کم تھی کہ خادم آپ کو اٹھا کر لے جاتا اور لے کر آتا جبکہ حافظہ کی یہ حالت تھی کہ قرآن مجید کا روزانہ سبق آپ ؒ زبانی یاد کرلیتے یعنی حفظ کرکے سنا دیا کرتے جب قرآن مجید ختم کیا تو اس وقت سارا قرآن پاک آپ کو حفظ ہو چکا تھا عربی، فارسی اور نحو کی تعلیم کے لئے بڑے پیر صاحب فضل دین شاہؒ صاحب نے ہزارہ کے مولوی غلام محی الدین کو مقرر فر ما یا تھا، پندرہ سال کی عمر میں آپ ؒ ہندوستان روانہ ہوئے کانپور میں مولانا احمد حسن کانپوری کے پاس پہنچے جو حج کے لئے تیار بیٹھے تھے آپؒ وہاں سے مولانا لطف اللہ کے مدرسہ علی گڑھ میں داخل ہو گئے وہاں سے آپؒ نے قرآن مجید قطب حدیث بعض خصوصی احادیث سندات عطا فر مائیں جو اس وقت تک برکات عالیہ میں محفوظ ہیں آپؒ1878ء کو وطن واپس پہنچتے ہی ہمہ تن تعلیم و تدریس میں مشغول ہو گئے حضرت سید نا پیر مہر علی شاہؒ سلسلہ قادریہ میں حضرت پیر سید فضل دین شاہؒ کے دست حق پر بیعت ہوئے تقریبا ً1878ء ہی میں آپؒ نے سیال شریف (سرگودھا) حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی ؒکے دست حق پرست پر بیعت فرمائی حضرت خواجہ سیالویؒ نے حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ ؒ کے علمی و عرفانی کمالات کے پیش نظر اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے آپ ؒکو تمام اشغال و وظائف کی اجازت نامہ بیعت و ارشاد کا منصب عطا فر ما دیا تھا آپ ؒکو سیال شریف خاص میں بھی لوگوں کو بیعت کرنے کی اجازت فرمائی تھی 1307ھ میں آپ حجاز مقدس کے سفر پر روانہ ہوئے تھے حضرت سیدنا محی الدین جیلانی پیرانِ پیر ؒ سے آپ کی نسبت 25 ویں پشت میں ملتی ہے دین اسلام کی سر بلندی اور بد عات کے خاتمہ کے لئے حضرت غوث ؒ کے بے مثال کردار نے اہل اسلام میں گویا نئی روح پھونک دی تھی آپؒ کااصل نام تو عبدالقادر ہے مگر آپ ؒکو لوگ آپؒ کے لقابات سے ہی یاد کرتے ہیں بے شک و شبہ تمام اولیائے کرام اور علمائے دین نے آپ کو اپنا مرشد تسلیم کیا ہے حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ کا شجرہ نسب اس طر ح سے ہے سید مہر علی شاہ بن سید نذر دین شاہ بن سید غلام شاہ بن سید روشن دین شاہ بن سید عبدالرحمن نوری بن سید عنایت اللہ بن سید غیاث بن سید فتح اللہ بن سید اسد اللہ بن سید فخر الدین بن سید احسان بن سید درگاہی بن سیدجمال علی بن سیدمحمد جمال بن سید ابی محمد بن سید میراں محمد کلاں بن سید میراں شاہ قادر قمیص ساڈھوروں بن سید ابی الحیات بن سید تاج الدین بن سید بہاؤالدین بن سید جلال الدین بن سید داؤد بن سیدعلی بن سید ابی صالح نصر بن سید تاج الدین ابو بکر عبد الرزاق بن سید عبد القادر جیلانی بن سید عبد اللہ جیلی بن سید یحیٓی ٰ زاہد بن سید شمس الدین زکریا بن سید ابو بکر داؤد بن سید موسی ثانی بن سید عبد اللہ صالح بن سید موسیٰ الجون بن سید عبد اللہ محض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا حسن بن سیدنا علی رضوان اللہ علیھم اجمعین۔آپ ؒ کے متعلق پیر طریقت حضرت پیر سید فضل دین ؒکو بہت کچھ معلوم تھاایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک روز جبکہ آپ کی عمر چار برس تھی کہ آپؒ عربی کا ابتدائی قاعدہ پڑھا کرتے تھے آپ کو حضرت پیر فصل دین ؒ نے شدید گرمی میں خانقاہ کی بیرونی جھاڑیوں میں استراحت کرتے ہوئے دیکھا آپؒ پر دھوپ پڑ رہی تھی اور زمین بھی دھوپ کی شدت سے تپ رہی تھی حضرت پیر سید فضل دین ؒ نے فوری طور پر چتھری منگوا کرآپؒ پر سایہ کیا اور گھر بجھوانے کے لئے ارشاد فر ما یا جب تک گھر لے جانے کا انتظام نہ ہو گیا آپؒ کے پیر طریقت وہی چتھری لئے کھڑے رہے اور بار بار فر ماتے رہے”اسے معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے“، ”ملفوظات طیبات“ اور ”سیف چشتیائی“ میں آپ کی اپنی زبانی ارشاد ہے کہ جب آپ کی عمر مبارک سات برس تھی توآپ نے ایک خواب دیکھا جس میں آپ نے دیکھا کہ ”میرے خواب میں شیطان نے مجھے کہا کہ آؤ میرے ساتھ کشتی لڑو جب میں اسے گرانے کے قریب ہو تا تو دل میں خوشی پیداہوتی کہ میں اس پر غالب آرہا ہوں مگر اچانک رخ بدل جاتا اور جب وہ مجھے گرا لینے کے قریب ہو تا تو تائید الہی سے میری زبان سے لا حول ولا قوۃ الا با اللہ العلی العظیم جاری ہو جاتا اور وہ مغلوب ہو نے لگتا،تین چار بار ایساہی ہوا اور بالآخر اللہ تعالی کی مدد سے میں اسے گرانے میں کامیاب ہو ا“

پیر مہر علی شاہؒ کے صاحبزادے حضرت پیر سید غلام محی الدین گیلانی المعروف با بو جی ؒ تھے اور اس کے علاوہ حضرت پیر سید غلام معین الدین گیلانی  ؒ،حضرت پیر سید شاہ،عبد ا  لحق گیلانی مدظلہ العالی حضرت پیر سید غلام معین الحق گیلانی مدظلہ العالی اورحضرت پیر سید نصیر الدین نصیر مد ظلہ العالی ہیں،حضرت پیر سید مہر علی شاہ ؒ کے ان چند ہم عصر صاحبان بلند درجہ ہیں جنہوں نے آپؒ سے ارادت رکھی یا ملاقات فرمائی، حضرت دیوان سید محمد سجادہ نشین پاک پتن شریف، خواجہ حسن نظامی دھلوی ؒ، حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی ؒ، حضرت حاجی رحمت اللہ مہاجر مکی ؒ، حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ، حضرت با وا فضل دین کلیامی ؒ، حضرت سلطان نور احمد دربار سلطان باہو ؒ، حضرت میاں شیر محمد شر قپوری ؒ، حضرت شاہ سلمان صاحب پھلواروی ؒ، حضرت سید غلام عباس شاہ مکھڈ شریف (سرگودھا) اور حضرت خواجہ محمد دین سیالوی ؒ آپؒ کے عرس پاک اور عیدین کے موقع پر ارادت مند ان تبر کات کی زیارت بڑے شوق اور عقیدت سے کرتے ہیں کمرہ کے برابر والے مجلس خانہ میں لائبریری ہے جس میں ہر فن کی کافی کتابیں موجود ہیں۔ آپؒ کے عرس مبارک کے موقع پر ارادت مندملک کے کونے کونے سے زیارت کے لئے آتے ہیں آپ نے 29 صفر المظفر کوانتقال فرما یاجبکہ آپؒ کا عرس شریف25تا 29صفر المظفربمطابق 3تا 7اکتوبرکو بمقام گولڑہ شریف (اسلام آباد) میں منا یا جاتا ہے آپ کا مزار شریف گولڑہ شریف میں مرجع خلائق ہے گولڑہ شریف میں تقریبات روایتی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جس میں عقیدت مند  گلہائے عقیدت پیش کر کے روحانی کیف و سرور کے ساتھ دنیا و آخرت کی سربلندی کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔

سُبْحَا نَ اللّہ مَا اَجْمَلَکَ مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکْمَلَکَ

کتھے مہر علی ؒ کتھے تیری ثناء، گستاخ اکھیاں کتھے جا اڑیاں 

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -