پنجاب میں پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عوام نے انگریزوں کےخلاف بغاوت کا راستہ اختیار کیا

 پنجاب میں پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عوام نے انگریزوں کےخلاف بغاوت کا ...
 پنجاب میں پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عوام نے انگریزوں کےخلاف بغاوت کا راستہ اختیار کیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:67 

پنجاب کے پریس پر سنسر شپ:

جنگ آزادی کے چھڑتے ہی پنجاب کے پریس پر کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ کوئی بھی خبر یا بیان شائع کرنے سے پیشتر سنسر کرانا ضروری قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود پنجابی صحافیوں اور اہل قلم نے انگریزوں کے خلاف اور جنگ آزادی کی حمایت میں مضامین بھی لکھے اور خبریں بھی چھاپیں۔ جن اخبارات نے یہ کارروائی کی انہیں سخت سزائیں دی گئیں۔ خصوصاً سیالکوٹ، ملتان، لاہور اورپشاور کے اخبارات ورسائل کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔(پشاور 1857 کی جنگ آزادی کے زمانے میں پنجاب میں شامل تھا) سیالکوٹ سے چھپنے والے پرچے”چشمہ فیض“ سے خدشہ تھا کہ یہ مجاہدین آزادی کا ساتھ دے گا، اس کے ایڈیٹر کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنا اخبار سیالکوٹ سے لاہور منتقل کرکے وہاں سے شائع کرے۔ لاہور سے چھپنے والے 2 پرچوں کی پہلے ہی نگرانی کی جا رہی تھی۔ ان کے ساتھ یہ تیسرا اخبار بھی زیر نگرانی آگیا۔ ملتان سے شائع ہونے والا ایک پرچہ بند کر دیا گیا اور پشاور کے ایک جریدے کے ایڈیٹر کو ”باغیانہ“ مواد شائع کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا۔

خطوط پر سنسر:

پریس پر پابندیاں ناکافی سمجھتے ہوئے محکمہ ڈاک پر بھی سنسر نافذ کر دیا گیا۔ یہ سنسر شپ بڑی سخت تھی۔ انگریز انتظامیہ کو پنجابی ملازمین پر بھروسہ نہیں تھا اس لیے خطوط سنسر کرنے کا کام انگریز افسروں کے سپرد کر دیا گیا۔”بغاوت رپورٹ“‘ کے مطابق اکثر مقامات پر ضلع کے انگریز افسر بذات خود ڈاک کے تھیلے کھول کر خطوط کی جانچ پڑتال کرتے تھے۔ جس چٹھی پر شبہ ہوتا اسے روک لیا جاتا۔

چوکیدارا نظام میں تبدیلی:

سنسر شپ نافذ کرنے کے بعد انگریزوں نے اس خدشے کے سدباب کے لیے کہ پنجاب کے لوگ رات کی تاریکی میں حکومت دشمن کارروائیاں نہ کریں یا عوام کو بغاوت پر نہ اکسائیں رات کو چوکیدارے اور گشت کا نظام پورے پنجاب میں سخت کڑا کر دیا۔ پھر خوف پیدا ہوا کہ پنجابی چوکیدار باغیوں کے ساتھ مل کر انگریز سرکار کی سکیم ناکام نہ بنا دیں سو رات کے وقت چوکیداری کا کام انگریز افسروں کے سپرد کر دیا گیا۔ پنجاب کے عوام پر انگریزوں کی بے اعتمادی کا یہ حال تھا کہ دریاﺅں کے پلوں اور پتنوں(دریائی گذرگاہوں)کی نگرانی کا کام بھی انگریز سپاہیوں کو سونپا گیا۔

گولہ بارود بنانے پر پابندی:

 جنگ آزادی کے شروع ہوتے ہی گولہ بارود بنانے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کا بنیادی محرک بھی یہ ڈر تھا کہ لوگ خانہ ساز بم اور کارتوس بنا کر انگریزوں کے خلاف استعمال نہ کر سکیں۔ جولائی1857 میں ایسے خام مال پر پابندی لگا دی گئی جو گولہ بارود تیار کرنے کے کام آ سکتا تھا۔ سیسہ اور گندھک کی خرید و فروخت ممنوع قرار دیدی گئی۔

پابندیوں کے باوجود بغاوتیں:

 پنجاب میں اتنی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود عوام نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ اس بغاوت نے مندرجہ ذیل تین شکلیں اختیار کیں۔

-1  فوجی بغاوتیں۔

-2  شہروں اور قصبوں میں بغاوتیں۔

-3  دیہاتوں میں بغاوتیں۔

1857ءمیں پنجاب میں13 بڑی اور کئی چھوٹی ایسی فوجیں بغاوتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں پنجابی فوج نے حصہ لیا، کئی شہروں اور قصبوں میں لوگوں نے بغاوت کا جھنڈا اٹھا کر انگریزوں کے گھروں کو نذر آتش کیا اور دست بدست لڑائی میں حصہ لیا، دیہاتوں میں جس بہادری کے ساتھ جنگ لڑی گئی اس کی بازگشت پنجابی لوگ گیتوں میں موجود ہے۔

ان بغاوتوں میں کسی ایک ہی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ نہیں لیا بلکہ مسلمان، ہندو سکھ سب نے پنجابی ہونے کے ناطے اپنا فرض ادا کیا اور انگریزوں کو ملک سے مار بھگانے کا جتن کیا۔ جیسے باقی ہندوستان میں جنگ آزادی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ لیا ایسے ہی پنجاب میں بھی ہوا۔ کارل مارکس نے اس کے بارے میں”نیویارک ڈیلی ٹربیون“ میں لکھا تھا”یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہندوستانی سپاہیوں نے اپنے یورپی افسروں کی گردنیں کاٹی ہیں۔ آج مسلمان اور ہندو اپنے اختلافات اور جھگڑوں کو بھلا کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ ہنگاموں کی ابتداءہندوﺅں نے کی لیکن ان کی انتہا یہ ہوئی ہے کہ دلی کے تخت پر مسلمان شہنشاہ بیٹھ گیا ہے۔“ کارل مارکس نے اس اتحاد کی ایک مثال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔”بنارس میں ایک دیسی رجمنٹ سے ہتھیار رکھوانے کی مخالفت سکھ فوجیوں اور تیرہویں ریگولر گھڑ سوار دستے نے کی۔ یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سکھ بھی مسلمانوں کی طرح ہندوﺅں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اور مختلف قبیلوں(مذاہب؟) کا اجتماع بڑی سرعت سے انگریزوں کے خلاف ہو رہا ہے۔“ (ماخذکارل مارکس اون انڈیا)۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -