طبیب یا اللہ کا عطیہ

طبیب یا اللہ کا عطیہ
طبیب یا اللہ کا عطیہ

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:37

 سنبلقیوس، بقراط کی تصانیف کا شارح، انقیلاﺅس اول طبیب، ارسیسطراطس ثانی قیاسی، لوقیس، میلن ثانی، غالوس، میرتذیطوس جڑی بوٹیوں والا، سقالس، تصانیف بقراط کا شارح، مانطباس، یہ بھی شارح تصنیفات تھا، غوس طارنطائی، مفنس حمعی، مصنف کتاب البول، عمر 90 سال، اندروما حس، عمر 90 سال بقراط کے قریبی زمانے میں تھا۔ ابر اس ملقب پر بصید سوناخس اثینی، مصنف ادویہ وصیدلہ، روفس کبیر، شہر افسس سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنے زمانے میں فن طب کے اندر بے نظیر تھا، جالینوس نے اپنی بعض تصانیف میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور اسے افضل قرار دیا ہے، اس سے کچھ افکار و نظریات بھی نقل کئے ہیں، روفس کی تصنیفات حسب ذیل ہیں۔

 کتاب”المالیخولیا“ اس کی تصنیفات میں یہ نہایت جلیل القدر ہے۔ کتاب”الازیعن“ کتاب ”تسیمتہ اعضاءالانسان“ مقالتہ”فی العلتہ التی یعرض معہا الفترع من المائ“(فوٹو فوبیا کا مرض) مقالتہ”فی الیرقان و المرار“ مقالتہ”فی الامراض التی تعرض المفاصل“(جوڑوں کے امراض) مقالتہ”فی تنقیص اللحم(گوشت کم کرنے کا بیان) کتاب ”تدبیرمن لایحفرہ طبیب“(طبیب کی عدم موجودگی میں کیا کریں) مقالتہ”فی الذبحتہ“ کتاب” طب بقراط“ مقالتہ” فی الصرع“ مقالتہ”فی استعمال الشراب“ مقالتہ”فی علاج اللواتی فی جمع الربع“ مقالتہ”فی ذات الجنت و ذات الرتہ“ مقالتہ”فی ادویہ علل الکلی مثانہ“(گردے اور مثانہ کے امراض کی دوائیں) مقالتہ”فی ہل کثرة شرب الدواءفی لولائم نافع(ولیموں میں کیا دوا بکثرت پینا مفید ہے)مقالتہ”فی الاورام العلبة“ مقالتہ”فی وصایا الاطبائ“ مقالتہ”فی الحقن‘ مقالتہ”فی دوران الراس“ مقالتہ”فی البول“ مقالتہ”فی القصار الذی پدعی سوسیا(سوسانامی جڑی) مقالتہ” فی النفسر لقرانی الرئتہ“(نزلہ برمتش) مقالتہ” فی علل الکبد المزمہ“(جگر کے مزمن امراض مقالتہ فی ان یعرض للرجال انقطاع التفس (مردوں کو جلس تنفس کا عارضہ) مقالتہ”فی شرک الممالیک“ غلاموں کو پتی اچھلنا) مقالتہ”فی علاج صبی یصرع“(مرگی زدہ ایک بچے کا علاج)مقالتہ” فی تدبیر الحبالی(حاملہ عورتوں کا علاج) مقالتہ”فی التخمہ“ مقالتہ”فی السذاب“ مقالتہ”فی العرق“ مقالتہ”فی ایلاﺅس“ مقالتہ”فی ابلمسیا۔“

بقراط اور جالینوس کے درمیانی وقفہ میں حسب ذیل قابل ذکر اطباءبھی پائے گئے ہیں ابو لونیوس، ارشینجانس، فن طب پر اس نے بھی متعدد کتابیں لکھی ہیں، عربی میں اس کی جو تصنیفات منتقل ہوئیں وہ حسب ذیل ہیں۔

 کتاب”السقام الارحام و علاجہا(رحم کی بیماریاں اور ان کا علاج) کتاب ”طبیعة الانسان“ کتاب”فی انقرس“۔

 ان اطباءکی صف میں حسب ذیل اشخاص بھی ملتے ہیں۔

”دیاسقوریدوس“ اول تصنیفات بقراط کا شارح، اطماوس فلسطینی یہ بھی بقراط کا شارح ہے۔” بناوپطوس“ معجونات میں اس قدر ماہر تھا کہ اس باب میں اس کا لقب موہبتہ اللہ(اللہ کا عطیہ) قرار پایا۔

 میسپاوس مصروف یہ مقسم طب مارس حیلی ملقب بہ تاسلس اس شخصیت کا نام ہے جس کا تذکرہ نظریہ حیلہ رکھنے والوں کے باب میں ہم کر چکے ہیں۔ تاسلس اول کی کتابوں کو جو نظریہ حیلہ پر مشتمل تھیں جب نذر آتش کیا گیا تو ایک کتاب جلنے سے رہ گئی مارس نے اسے حاصل کیا اور اس میں جو عقیدہ تھا اسے اپنا لیا، اس نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی فن ہے تو پس یہی حیلوں کا فن ہے۔ یہی طب کا صحیح اور راست فن ہے اس نے لوگوں کو خراب اور قیاس و تجربہ کے نظریہ سے دور رکھنا چاہا۔ مذکورہ بالا کتاب کی مدد سے اس حیلوں پر بکثرت کتابیں لکھی۔ جو برابر اطباءکے ہاتھوں پہنچتی رہیں کچھ انہیں قبول کر لیتے اور کچھ نہیں۔ حتیٰ کہ جالینوس پیدا ہوا تو اس نے ان کتابوں کو فاسد قرار دے کر جس قدر حاصل کر سکا جلا ڈالا۔“ اس طرح حیلہ کا فن نیست و نابود ہوگیا۔ افریطن ملقب بہ مزین، کتاب انرینتہ کا مصنف کتاب ”المیامر“ میں جالینوس نے اس کتاب سے بہت کچھ نقل کیا ہے۔ ”اقاقیوس“ ”حارکمانس“ ”ارثیاثیوس“ ”ماریطوس“ ”قاقولونس“ ”مرقس“ ”پرغالس“”ہرمس طبیب“”پولاس“”حامونا“”حلمانس“قریطن سے شروع ہونے والے مذکورہ بالا بارہ اطباءبروج اثناعشر کہے جاتے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو نفع پہنچانے کی خاطر یہ اطباءدواﺅں کی ترکیب و تیاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ایک دوسرے سے اتصال رکھتے تھے۔ برجیاں چونکہ ایک دوسرے سے قریب اور متصل ہوتیں ہیں اس لیے اس سے انہیں تشبیہ دی گئی تھی۔ فیلس خلقدونی لقب بہ قادر، اس کا حال یہ تھا کہ مشکل امراض کا علاج نہایت جسارت سے کرتا اور انہیں اچھا کر دیتا تھا اسے ان امراض پر قدرت حاصل تھی کبھی کوئی علاج ناکام نہیں ہوا۔

(دیقراطیس ثانی، افروسیس، اکسانقراطس، افرودیس) بطلیموس طبیب، سقراطس طبیب، مارقس طبیب بہ عاشق العلوم، فوریس قادح چنم نیادر پطلوس ملقب بہ سایہ(بیدار) فرفوریس تالینی، مولف تصنیفات کثیرہ، یہ فلسفہ کے ساتھ فن طب میں بھی کمال رکھتا تھا، لوگ شروع میں اسے فیلسوف اور طبیب کہتے تھے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -