شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (1) 

     شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (1) 
     شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (1) 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یومِ اساتذہ پہ پروفیسر توصیف تبسم کی رحلت کا سُن کر یہ ناآسودہ خواہش ایک بار پھر جاگ اُٹھی کہ کاش گورڈن کالج کی طالب علمی کے دنوں میں اُن کی باضابطہ شاگردی کا شرف حاصل ہو جاتا۔ تو کیا اردو اور انگریزی کے الگ الگ شعبوں کے باعث تعلیم و تدریس کے دوران توصیف صاحب سے کچھ سیکھنے کا موقع سِرے سے نہ مِلا؟ ایسا نہیں بلکہ طالب علم اور پھر مدرس کی حیثیت میں مضموں کی ہوا باندھتے ہوئے جب کسی لفظ پر شک گزرا یا میرے شعر کے اوزان خطا ہونے لگے تو حتمی پرکھ کا حوالہ تو ایک ہی تھا۔ پرکھ بھی ایسی کہ مشکل کا حل جیسے ہاتھ میں پہلے سے چھُپا رکھا ہو۔ اِدھر آپ نے سوال کِیا ، اُدھر مُسکراتے ہوئے مُٹھی کھول دی۔ اِس خوش دلانہ فیاضی کی تصدیق ہر وہ طالب علم، ہمکار یا جاننے والا کرے گا جسے کسی بہانے توصیف صاحب کی ہم نشینی نصیب ہوئی۔

 زمانی ترتیب سے چلوں تو مَیں نے 1960ءکے ابتدائی مہینوں میں توصیف تبسم صاحب کو واہ کینٹ میں اُن سرکاری گھروں کی طرف آتے جاتے دیکھا ہوگا جنہیں نواحی کوارٹروں میں رہنے والی ماسیاں چھوٹے بنگلے کہا کرتیں ۔ ہمارے پڑوس میں سیکٹر سولہ ای کے 109 نمبر کی الاٹمنٹ تھی تو ملٹری اکاﺅنٹس ڈپارٹمنٹ کے خواجہ شاہد نصیر کے نام، البتہ اُن کے ساتھ دو مستقل مکین اَور بھی تھے۔ اِن میں سے توصیف تبسم کا تعلق فوج کے ملحقہ محکمے ایم ای ایس سے تھا اور آفتاب اقبال شمیم کا واہ میں تیارشدہ اسلحے کی جانچ کرنے والے انسپکشن ڈپو آرمامنٹس سے ۔ اپنے اپنے رنگ کے یہ تینوں منفرد سخن ور ایک گھریلو باورچی کے توسط سے ایک دوسرے کے ’ہانڈی وال‘ تھے جو بظاہر غیر شاعرانہ حرکت ہے۔ مگر جلد ہی شاہد نصیر رشتہءازدواج میں منسلک ہو گئے اور باقی دو اصحاب گورڈن کالج میں پیشہءتدریس سے۔

 یوں ڈاکٹر توصیف تبسم کو پہلی بار مشاعرے میں سُنا تو یہ 31 اکتوبر 1964 ءکی شام تھی اور ہفتہ کا دن۔ کنٹونمنٹ ماڈل (موجودہ ایف جی) ہائی اسکول میں آٹھویں جماعت کے طالب علم کو یہ اِس لیے یاد رہ گیا کہ ’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘ کے موضوع پر سرسید میموریل بین المدارس مباحثہ میں اُس نے بطور قائد حزبِ اختلاف میزبان اسکول کی نمائندگی کی تھی۔ مشاعرہ اُس گھڑی برپا ہوا جب منصفین نتیجہ مرتب کرنے کی خاطر ہال سے اُٹھ کر ہیڈ ماسٹر ناظر الحسن قدوسی کے دفتر میں چلے گئے۔ نتیجہ تو مرتب ہوتا رہے گا لیکن میرے سامنے عین اِس وقت اسٹیج پر چھتیس سالہ پروفیسر توصیف تبسم ہیں۔ کھِلتی ہوئی رنگت، سُرخی مائل ہلکے براﺅن رنگ کا تھری پیس سُوٹ اور ٹائی، ہاتھ انگریزوں کی طرح واسکٹ کی نچلی جیبوں میں، آواز تو جیسے بنی ہی مائکروفون کے لیے ہو۔ دو شعر بیٹھے بیٹھے حفظ ہو گئے: 

 میری صورت سایہءدیوار و در میں کون ہے 

 اے جنوں، میرے سوا یہ میرے گھر میں کون ہے

 نغمہءجاں سُننے والو، یہ تکلف تا بہ کے

 ڈھا کے اب دیوار بھی دیکھو کہ گھر میں کون ہے

 فوری پسندیدگی کا سبب تو اشعار کا استفہامیہ آہنگ ہے جسے اسکول کے ہال میں توصیف صاحب کے قدرے خطابیہ لہجے نے مزید نمایاں کر دیا تھا۔ دراصل شعری واردات کا الفاظ میں ڈھلنا او ر پھر پڑھنے اور سُننے والوں تک اُس کی بخوبی ترسیل کے لیے طاقتور ٹرانسمیٹر ہی نہیں، اُتنا ہی حساس ریسیونگ اسٹیشن بھی چاہیے۔ بارہ سالہ لڑکا غزل کی معنویت میں غوطہ لگانے کے لیے مطلوبہ فریکونسی کا انٹینا کہاں سے لاتا؟ سمندر میں ڈوب کر ابھرا تو وہ ایم اے کے بعد چار سالہ ’استادی‘ اور برطانیہ میں زبان کی تدریسی ٹریننگ سے لَیس ہوکر گورڈن کالج میں اپنی تعیناتی پر پروفیسرز مَیس میں توصیف صاحب کی یومیہ قربت کا طلبگار ہو چکا تھا۔ قربت مِلی تو نئی ترجیحات کی روشنی میں دو ابتدائی اشعار کی جگہ ایک او ر شعر حاصلِ غزل قرار پایا۔ آپ اِسے میری توصیف فہمی کا پہلا مرحلہ کہہ لیں: 

 ٹھیک ہے اے ضبطِ غم، آنسو کوئی ٹپکا نہیں 

 پر یہ دل سے آنکھ تک پیہم سفر میں کون ہے 

 میرا مقصد حمد و نعت پر مشتمل ’سلسبیل‘ اور بچوں کی ’کہاوت کہانی‘ سے لے کر خود نوشت ’بند گلی میں شام‘ اور منتخب کلیات ’آسماں تہہِ آب‘ کے مصنف کا محاکمہ ہے نہ مَیں اِس کا اہل ہوں۔ پر توصیف تبسم کا ذکر ہو اور کلام چکھنے کو نہ مِلے، یہ تو ممکن نہیں۔ یہی دیکھ لیں کہ گورڈن کالج والے اصلی شاہد مسعود نے جمعرات کو استاد کے چلے جانے کی خبر سنائی تو ساتھ ہی ایک شعر تھا جسے شاعر کا نظریہءفن نہیں،نظریہءحیات کہنا چاہیے:

 کہو کہ شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے

 اگر نہ سمجھے تو پھر ٹُوٹ کر دکھاﺅ اُسے

 شعیب بن عزیز ، جو اُس وقت عازمِ ِ برطانیہ تھے ، یہ یاد دلائے بغیر نہ رہ سکے:

 کیا ٹھہریں قدم دشتِ نوردانِ بلا کے

 کانٹا تو نہیں پاﺅں میں، سودا ہے سروں میں 

 گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی کے استاد اور محقق خواجہ عبد الحمید یزدانی کے فرزند سالک حمید خواجہ نے توصیف تبسم کی ایک ایسی غزل کا انتخاب کیا جو ہندی گیِت کا مزا دے رہی ہے:

 سنو کوِی توصیف تبسم ، اِس دُکھ سے کیا پاﺅ گے

 سپنے لکھتے لکھتے آخر خود سپنا ہو جاﺅ گے

 کوِی توصیف تبسم پچانوے برس کی عمر میں بالآخر سپنا بن گئے ہیں، لیکن پیچھے رہ جانے والوں کے خواب ابھی نہیں ٹُوٹے۔ اُن کے پاس استاد کی کئی کہانیاں ہیں جو پروفیسرز مَیس میں وائس پرنسپل مطیع اللہ خان، منفرد بظم گو آفتاب اقبال شمیم ، مشترکہ دوست آصف ہمایوں قریشی اور ماضی کے سٹوڈنٹ لیڈر، پی ٹی و ی میں تخلیقی ذہن کے پروڈیوسر اور فردیات کے شاعر شاہد مسعود کے قہقہوں کی گونج میں سُنی گئیں۔ اِن میں ادبی کہانیاں ہیں اور ذاتی واقعات بھی۔ جیسے یہی کہ استاد کا پیدائشی نام محمد احمد تھا ،چنانچہ گھر میں بطور محمد احمد جانے جاتے۔ ایک روز دروازے پر دستک ہوئی اور کسی نے توصیف تبسم کا پوچھا تو والدہ نے سادگی سے کہا کہ یہاں اِس نام کا کوئی آدمی نہیں رہتا۔ اِسی طرح یہ انکشاف کہ جب پشاور میں ایک جانے پہچانے استادِ ادب نے انہیں صوفی تبسم سمجھ لیا تو پھر کیا نقشے تھے! (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -