چیف جسٹس بمقابلہ انصر خان اسسٹنٹ کمشنر

       چیف جسٹس بمقابلہ انصر خان اسسٹنٹ کمشنر
       چیف جسٹس بمقابلہ انصر خان اسسٹنٹ کمشنر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے تین ہفتوں پر محیط عدالتی اقتدار پر ابتدائی تبصرے کے لیے بھی ایک ماہ چاہیے۔ ایک بات البتہ گلی کوچوں منڈی بازاروں میں زبان زد عام پر ہے کہ فل کوٹ کارروائی براہ راست ٹی وی پر دکھا کر موصوف نے نامی گرامی وکلا کا پول دفعتا واحد میں کھول کر رکھ دیا ہے۔ مرحوم پروفیسر طارق اسد نے قانون کی وہ بلیغ تعریف ذہن میں انڈیلی تھی کہ سوجھ بوجھ سے مزین دماغ اصول قانون کے متعدد مباحث سے بے نیاز رہ سکتا ہے، فرمایا: "قانون فہم و فراست (حکمت و دانش) کے سوا کچھ نہیں"۔ Law is nothing but wisdom۔ سادہ زبان میں یوں کہ کروڑوں لوگ ہاکی کھیلنا نہیں جانتے لیکن براہ راست کھیل دیکھتے ہوئے ہر شخص بتا دیتا ہے کہ فلاں کی کارکردگی بہت اچھی تھی اور فلاں نہ کھیلتا تو جیت ممکن تھی۔

اب عوام کو کھلے عام پتا چل گیا کہ چند نامی گرامی اور "اعلی پائے" کے وکیل گزشتہ عشرہ انحطاط میں شام کی چائے پر یا چیمبر میں چیف جسٹس سے مل کر فوری سماعت ہی پر قناعت نہ کرتے بلکہ یہ "فریقین" مرضی کے بینچ بھی تراش لیتے۔ اگلے دن سماعت شروع ہو جاتی، بچے بچے کی زبان پر آ جاتا کہ یہ بینچ کیا سیاسی میلان رکھتا ہے اور فیصلہ کیا ہوگا۔ کیا ہم سپریم کورٹ کو منقسم نہیں دیکھتے رہے۔ جسٹس بندیال نے آئین کی وہ وہ تشریحات کیں کہ آئین ساز جنتی اصحاب کی روحیں عالم ارواح میں یقینا بلبلا رہی ہوں گی۔

چیف جسٹس فائز عیسی نے تمام ہائی کورٹوں کے باہم متضاد فیصلوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ سپریم کورٹ کے ایسے ہی ان فیصلوں کی نظر ثانی کا کوئی آئینی طریقہ نکالیں جنہوں نے آئین کو بے جان دستاویز بنا ڈالا ہے۔ مثلاً ایک فیصلے کے مطابق قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد تحریک میں اس کے اپنے پارٹی ارکان تحریک کا ساتھ دیں تو ان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا لیکن ارکان کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ مہینوں بعد بھی میرا محدود سا علم اس فیصلے سے کوئی بصیرت کشید نہیں کر سکا۔ گویا اب ایک ووٹ کی برتری سے قائم حکومت کا سربراہ پانچ سال پورے کر کے ہی کوچہ اقتدار سے نکلے گا، کوئی اور طریقہ بظاہر نہیں ہے۔ تو کیا تحریک عدم اعتماد سے متعلق آئینی شقیں بے جان ہو کر نہیں رہ گئیں؟ جسٹس بندیال نے چند مہینوں کے لیے جس سیاسی جماعت کا اقتدار الل ٹپ فیصلوں سے محفوظ کرنا تھا، وہ اور جسٹس صاحب کا مقدس آئینی حلف اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ بندیال اور چوہدری پرویز الہی کی خواہشات آئینی شقوں کو بے جان کر کے پوری ہو چکی ہیں۔ لیکن آئین کو زندہ رکھنا تو ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ امید کہ جسٹس فائز عیسی سپریم کورٹ کے ایسے متعدد فیصلوں کی نظر ثانی کا راستہ نکال کر بے جان آئین میں جان ڈالیں گے۔

انصر خان مرحوم 70 کی دہائی میں کہوٹہ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ ان دنوں ضلعی انتظامیہ کو عدالتی اختیارات حاصل تھے۔۔ قصبے کے لوگوں کو اپنے متعدد اسسٹنٹ کمشنروں میں سے شاید ہی کسی کا نام یاد ہو۔ اور شاید ہی اس دور کا کوئی ایسا شخص ہو جسے انصر خان یاد نہ ہوں۔ تب میرے لڑکپن کے دن تھے، خیالات میں کچا پن تھا، لیکن آج لگ بھگ 45 سال بعد بھی کہنا پڑتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے انداز حکومت کی کچھ جھلک مرحوم انصر خان بھی اپنے محدود سے احاطہ حکومت میں لیے ہوئے تھے۔ پتا چلا کہ دور گھنے جنگل کے کسی گاو_¿ں میں قتل ہو گیا۔ مقدمہ آپ کی عدالت میں آیا۔ سب جانتے ہیں کہ واقعات کچھ ہوتے ہیں، پولیس کچھ لکھتی ہے، گواہ کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں اور حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ انصر خان مفلوک الحال دہقان کا بھیس بدل کر گاو_¿ں کی مسجد میں مسافر بن کر جا ٹھہرے۔ کچھ نمازیوں کی باہم گپ شپ اور کچھ اپنی ذہانت پر مبنی سوالات کے سہارے وہ ایک ہی دن میں بات کی تہ تک پہنچ گئے اور اصل حقائق کی بنیاد پر مقدمہ فیصل کر دیا۔

تب کہوٹہ میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی عام تھی۔ دروغ بر گردن راوی، انصر خان بھیس بدل کر دو ایک دن لکڑ ہارا بنے رہے۔ ایک روایت کے مطابق کٹائی کرنے والوں کے پاس لکڑی کا تاجر بن کر گئے۔معلومات جمع کر کے بروقت فیصلے کیے۔ چنانچہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی بہت کم ہو گئی۔اب یہ کام بہت سوچ سمجھ کر احتیاط سے کیا جاتا تھا۔ پھر ایک دن انصر خان وہ کچھ کر بیٹھے جو نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ وہ اس برادری سے متھا لگا بیٹھے جس کے لیے اخلاق اور انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہی برادری جس کے مجاہدین لاہور امراض قلب ہسپتال پر حملہ آور ہوئے تو تین مریض جان بحق، درجنوں گاڑیاں نذر اتش، ہسپتال کی املاک اور قیمتی آلات اور مشینیں ملیامیٹ۔ انصر خان مرحوم چیف جسٹس فائز عیسیٰ ہی کی طرح کبھی وکلا کی سرزنش کرتے اور ضرورت کے مطابق ڈانٹ ڈپٹ کر لیتے جو عدالتی زندگی میں عام سی بات ہے۔ یہ سب کچھ اونٹ کی پیٹھ پر جمع ہوتا رہا۔ ایک دن وہ کسی وکیل کے ایک سنگین جرم پر اسے ہتھکڑیاں لگانے کا حکم دے بیٹھے۔ یہ حکم اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا تھا۔ وکلا چیف جسٹس کے پاس گئے۔ واویلا کیا، کوے کو چنڈول اور بجو کو مور بنا کر پیش کیا۔ انصر خان بر بنائے عہدہ جج نہیں تھے بلکہ انہیں عدالتی اختیارات حاصل تھے چیف جسٹس نے سنے بغیر ان کے عدالتی اختیارات سلب کر لئے۔ یوں انصر خان محض ایک افسر رہ گئے:

سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر

کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر

کون اس بات کا قائل نہیں کہ نامعقول مقدمات دائر کرنے اور عدالتی وقت کے ضیاع پر وکلا پر بھاری جرمانے ضرور ہوا کریں بلکہ ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جائیں۔ لیکن جس تسلسل سے ہمارے چیف جسٹس صاحب وکیلوں پر جرمانے کیے جا رہے ہیں، مجھے انصر خان شدت سے یاد آرہے ہیں۔ چیف جسٹس کے خلاف انصر خان والا حربہ تو استعمال نہیں ہو سکتا لیکن جس برادری سے ان کا سامنا ہے، اس کی زنبیل میں متعدد دیگر جائز ناجائز حربے پڑے ہوتے ہیں۔ ایسی کسی صورت میں اللہ نہ کرے یہ ایک بڑا المیہ ہوگا۔ بہتر ہے کہ جسٹس فائز عیسی راز ملوکانہ سینے میں رکھ کر جرمانے وغیرہ کے لیے اولاً عدالتی قواعد کا سہارا لیں، نئے قواعد بنوائیں اور کچھ ایسا ماحول بنا ڈالیں کہ صرف وہی جرمانہ کرتے نظر نہ آئیں بلکہ سول جج تا اعلیٰ ترین عدلیہ ہر جج جرمانہ کیا کرے۔ پھر نہ تو بغیر تیاری کے کوئی وکیل عدالت کا رخ کرے گا اور نہ نامعقول مقدمات دائر ہو پائیں گے۔ چیف جسٹس صاحب ! راز ملوکانہ سینے میں چھپا کر تیغ کے بغیر اختیارات بتدریج استعمال کریں اور تمام عدالتوں سے استعمال کروائیں۔

مزید :

رائے -کالم -