لاہور میں آلودگی

لاہور میں آلودگی
لاہور میں آلودگی

  

لاہور میں تقریباً ایک کروڑ سے زائد شہری آلودگی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔مختلف قسم کی سانس وجلد کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ایسے میں شہریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ قومی ماحولیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے متعد د رہائشی علاقوں میں انارکلی اور اچھرہ آلودہ ترین علاقے قرار پاچکے ہیں۔ہوا کی آلودگی کا سب سے زیادہ شکار یہی دو علاقے ہیں۔علاوہ ازیں اُردو بازار،کلمہ چوک، اچھرہ،داتا دربار میں بھی آلودگی سنگین شکل اختیار کرچکی ہے۔ہوا میں شامل ہونے والی مختلف گیسیں جیسا کہ سلفر کاربن اور نائٹروجن کے آکسائیڈ آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ کلمہ چوک اور اچھرہ میں بالترتیب سلفر کے آکسائیڈ اور نائٹروجن کے آکسائیڈ کی زیادتی سے ماحولیاتی آلودگی کا گراف خطرناک حد تک اُوپر چلاگیا ہے۔

موٹر سائیکلوں، رکشوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دُھوئیں سے ہوا میں سیسے کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ،جس کی بدولت انسانی صحت بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ہوا میں شامل اِن مختلف گیسوں کے آکسائیڈ اور مٹی کے ذرات سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔ وہ سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے شروع کئے جانے والے پراجیکٹ” بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم“ کے باعث متعلقہ علاقوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے،یہاں تک کہ جولائی 2012ءمیں محکمہ ماحولیات کا دفتر از خود آلودگی میں گھر گیا تھا۔زیر تعمیرسٹرکوں کے علاوہ آمد ورفت والی سٹرکوں پر بھی جگہ جگہ تعمیراتی میٹریل پھینک کر سٹرکیں بند کی گئی ہیں۔بسوں اور گاڑیوں کی آمد ورفت سے فضا میں ہر طرف دُھول اُڑنے لگتی ہے ،جس سے سانس لینا محال ہوجاتا ہے۔ڈھیروں گردوغبار پھانکنے کے بعد شہری منزل تک پہنچتے ہیں۔

 اِن ٹوٹی ہوئی سٹرکوں کے گٹروں سے گندا پانی اُبل رہا ہے جو ماحول کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ مچھروں کی پیدائش کا کام بھی کررہا ہے۔خصوصاً ایم او کالج کے گردونواح کے علاقے میں اگر بارش ہوجائے تو گزرنا محال ہوجاتا ہے ،کیونکہ گٹروں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارش کے دنوںمیں یہ اُبلنا شروع ہوجاتے ہیں۔فیروز پور روڈ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔حال ہی میں ایس ڈی پی کی طرف سے ملک کی38آلودہ ترین جگہوں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ صنعتوں سے خارج ہونے والا زہریلا پانی زیادہ تر قابل کاشت علاقوں میں خارج کیا جاتا ہے جو دریا میں جانے کے بعد راستے میں آنے والے علاقوں کے کسان اپنے مویشیوں اور صنعتوں کے لئے استعمال کرلیتے ہیں جس سے فصلیں تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اُن کے دودھ میں یہ مضر صحت کیمیکل داخل ہوجانے سے انسانی صحت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

شہر میں ایسی سینکڑوں غیر قانونی فیکٹریاں ہیں جن سے خارج ہونے والے پانی سے ہزاروں شہری مہلک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،حالانکہ اِن فیکٹریوں کو بارہا جرمانہ کیا گیا اور اُن کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔علاوہ ازیں شور کی آلودگی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔انارکلی اور اُردو بازار میں اِس کی شرح بہت زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ لاہور میں آلودگی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ضرورت اِس امر کی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے جلد ازجلد بہتری کے اقدامات کئے جائیں۔سیسے سے پاک پٹرول کا استعمال کیا جائے۔گٹروں کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ ڈینگی لاروے کے پیدا ہونے کا امکان کم ہو۔ڈیزل میں سلفر کے عنصر کو کم کرکے اور گاڑیوں کو سی این جی پر کرکے بھی آلودگی کو کم کرنے میں مد د مل سکتی ہے۔فیکٹریوں سے خارج ہونے والے زہریلے پانی کو کشید کرنے کے پلانٹ لگا کر بھی مسئلہ کافی حد تک حل ہوسکتا ہے۔

ماحول کو بچانے کے لئے گرین اکانومی کی ضرورت ہے۔درخت لگانے کی مہم کے آغاز کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود درختوں کی حفاظت کرنا لازمی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے سال بھر مہم جاری رکھنے کی ضرورت ہے ،نہ کہ ماحولیات کے عالمی دن پر رسم کو منایا جائے۔تمام سٹرکوں، پلاٹس،فٹ پاتھ، عالمی ماحولیاتی دن کی طرح روزانہ صاف کئے جائیں۔زیر تعمیر پراجیکٹ کا کام احتیاط کے ساتھ کرنے کے علاوہ ملبے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی بھی ضرورت ہے۔نیز لوگوں میں اِس سلسلے میں آگہی پھیلائی جائے تو ماحولیاتی آلودگی کافی حد تک کم ہوسکتی ہے۔  ٭

   

مزید : کالم