کیا مظلوم و مجبور کشمیری دعا کے مستحق بھی نہیں رہے؟

کیا مظلوم و مجبور کشمیری دعا کے مستحق بھی نہیں رہے؟
کیا مظلوم و مجبور کشمیری دعا کے مستحق بھی نہیں رہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حرمین شریفین میں نماز تراویح اور قیام لیل کے دوران حرمین شریفین کے امام، جس آہ و زاری ،رندھی آواز اور گلوگیر انداز میں دعا کراتے ہیں، وہ اتنی اثر انگیز ہوتی ہے کہ دل گرفتگی ہوتی ہے۔ آہوں اور سسکیوں میں مانگی گئی یہ دعائیں یقیناً عبادات کا حاصل ہیں۔ احساس گناہ آنسوو¿ں کی صورت میں آنکھوں سے چھلکتا اور آرزو¿ں میں ڈھلتا ہے۔ آسمان سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ دل کی دنیا دھلتی ہے دامن گناہ صاف ہوتے ہیں اور انسان کے گناہوں کا احساس ہلکا ہوتا ہے۔ امام حرمین شریفین خود روتے ہیں، لاکھوں کو رُلاتے ہیں، اللہ کے قرب اور نئی زندگی کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔ ان کی دعائیں جامع ہوتی ہیں اور گناہگاریہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری فریاد عرشِ معلیٰ پر سُنی جا رہی ہے۔ امام حضرات کا انداز اتنا عاجزانہ ہوتا ہے کہ ندامت کے آنسو بے اختیار نکلتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ خالق و مخلوق میں کوئی پردہ حائل نہیں ....”سمع اللہ لمن حمدہ“.... کا احساس اُجاگر ہوتا ہے۔

قنوت نازلہ اور دعاو¿ں کے دوران آئمہ خادم حرمین شریفین کی صحت و سلامتی اور ان کی خدمات جلیلہ کی قبولیت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی جو خدمت سعود خاندان کر رہا ہے، وہ مثالی ہے۔ بے لوث ہے اور قابل تعریف ہے۔ وہ واقعی اس دعا کے حقدار ہیں۔ ان دعاو¿ں کے دوران بیت المقدس کی آزادی، فلسطین کی آزادی، شام کے مظلوم مسلمانوں کے لئے خصوصی دعا ، چند سال پہلے افغانستان کے لئے دعا ، برما کے مسلمانوں کے لئے دعا اور یہود کی سازشوں کی ناکامی کے لئے دعا کی جاتی ہے، یقیناً پوری دنیا کے مظلوم مسلمان دعا کے مستحق ہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے حرمین شریفین سایہءخداوندی تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ مظلوم و مجبور کشمیریوں کے لئے پہلے دعا کی جاتی تھی، اب وہ اس دعا سے بھی محروم کئے گئے ہیں۔ کیا وہ مظلوم دعا کے مستحق بھی نہیں رہے؟....

 یہود کی سازشوں میں ہنود بھی برابر کے شریک ہیں۔ بلاشبہ! اس نوبت تک لانے میں پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی اور ہندوستان کی کامیابی پالیسی کا تعلق ہے۔ جب بھارت کے یوم جمہوریہ میں شاہ عبداللہ مہمان خصوصی ہوں گے تو کشمیریوں کے لئے دعا کہاں سے ہوگی؟.... آزاد کشمیر کی حکومت اور پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفاتی مہم کے ذریعے سعودی حکمرانوں کو مظلوم کشمیریوں کے بارے میں آگاہی دیں۔ ایک عام مسلمان سوچتا ہے کہ کیا مظلوم کشمیری اب دعا کے مستحق بھی نہیں رہے؟.... حکمرانو! قرآن کو تو مظلوم کی مدد کے لئے مسلمانوں پکارتا ہے! اللہ کے دربار میں جا کر کیا جواب دو گے؟

مزید : کالم