ہم کہاں کھڑے ہیں

ہم کہاں کھڑے ہیں
ہم کہاں کھڑے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سماجی و اقتصادی حوالے سے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ ایک بہت ہی گنجان آباد اور تیزی سے آگے بڑھتا ہوا اوسط آمدنی والا ملک کہا جا سکتا ہے۔اس ملک کی آبادی 18کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ایسی صورت حال میں سماجی بھلائی، اقتصادی ترقی کے مقابلے میں شاید بہت پیچھے رہ گئی ہے۔سماجی بھلائی کے مقابلے میں غالباً سماجی اداروں کا وجود زیادہ عمل میں آنے لگا ہے، اگر یہ ادارے ہمیشہ ہنگامی بنیادوں پر کام کریں تو شاید ایک پان فروش کی بیوی روٹھ کر میکے نہ جاتی اور پان فروش خودکشی کرکے جان نہ گنواتا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف کاروبار کا نہ چلنا تھا،جس بناءپر 5بچے یتیم ہوگئے۔ایسی صورت حال میں انسانی ہمدردی کی تنظیمیں،قرضے کی سہولت جو آسان شرائط پر ہیں ، ایسے لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں ، جو غربت کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں ۔

جوں جوں پاکستان کی سیاست میں بحران پیدا ہورہا ہے، ملکمسائل کے گرداب میں بُری طرح پھنس چکا ہے۔اس معاشی بحران کی وجہ ہمارے بڑھتے ہوئے جرائم بھی ہیں ، جن میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔بڑھتے ہوئے جرائم ہمارے کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں ۔ ہم اپنے ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کا مقابلہ اکثر دوسرے ممالک سے اس لئے کرتے ہیں کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کی ترقی کے مقابلے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اگر مَیں جنوبی افریقہ کی بات کروں ،جس کی ایک رپورٹ میری نظر سے گزری ،جس میں جنوبی افریقہ کے ایک اخبار ”سٹار“ کے مطابق ایک پولیس رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے ملک میں کل 68واقعات میں سے 107املاک پر حملہ کیا گیا،جبکہ ہمارے ملک میں ہر ہونے والے واقعہ کے نتائج حکومتی املاک کے نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ، بلکہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جاتاہے۔

جس طرح ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو خودکشی اور جرائم میں مبتلا کررکھا ہے، ویسے ہی زمبابوے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ملک کے عوام کو نڈھال کرچھوڑا ہے۔ زمبابوے میں ضرورت زندگی خاص طورپر خوراک کی قیمتیں قوت خرید سے باہر ہیں ۔افراط زر کی حالت یہ ہے کہ زمبابوے میں اب ایک بلین زمبابوئین ڈالر کا نوٹ چھاپا گیا ہے، اگر ہم وطن عزیز کی بات کریں تو زمبابوے کی صورت حال کے پیش نظر ایک افسوسناک خبر تو یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے لیگاٹم (Legatum)انسٹی ٹیوٹ نے خوشحال ملکوں کی فہرست جاری کی ہے،جس کی رو سے پاکستان کا نمبر109بنتا ہے،یعنی اس انڈیکس میں کل ایک سو دس ملک شامل ہیں اور 108ملک پاکستان سے زیادہ خوشحال ہیں ۔ان ایک سو دس ملکوں میں زمبابوے ایسا ملک ہے،جو پاکستان سے بھی گیا گزرا ہے۔یعنی اس فہرست میں زمبابوے کا نمبر 110واں ہے اور وطن عزیز پاکستان زمبابوے سے محض ایک درجہ اوپر ہے۔

10خوشحال ملکوں میں ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سویڈن، کینیڈا ،سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ اور امریکہ شامل ہیں ۔دس بدحال ترین ملکوں میں زمبیا،کیمرون، کینیا،یمن ،نائیجیریا،ایتھوپیا،سنٹرل افریقین ریپبلک، پاکستان اور زمبابوے شامل ہیں ۔ مسلمان ملکوں میں متحدہ عرب امارات پہلے نمبر پر ہے اور فہرست میں اس کا نمبر30 واں ہے۔کویت31ویں نمبر پر ہے اور ملائیشیا 43نمبر پر ہے۔ٹیوٹس48ویں اور سعودی عرب 49ویں نمبر پر ہے۔بھارت کا نمبر بھی 88ہے اور بنگلہ دیش کا نمبر96ہے۔یہاں سے ایک اوربات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بنگلہ دیش بھی خوشحالی میں ہمارے ملک سے بہتر ہے جو کہ پاکستان سے جدا ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔اب تو پاکستانی سرمایہ دار بھی اپنا سرمایہ اور کاروباربنگلہ دیش منتقل کررہے ہیں اور کچھ کاروباری حضرات ازبکستان اور بلتستان میں دلچسپی لے رہے ہیں ، جبکہ پاکستان اور بھارت آپس کے تجارتی امور پر اتفاق کررہے ہیں اور بینک آف انڈیا کی شاخیں پاکستان میں کھولنے پر رضامندی ظاہر کررہے ہیں ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس طرح جنوبی ایشیا میں غربت میں کمی واقعہ ہوگی۔

آج کل ایک اور خبر بھی منظر عام پر ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بھی مسائل کا شکار ہوگئی ہے۔چین کی ملکی معیشت کا حجم 7.74ٹریلین ڈالر ہونے کے باوجود نوجوان اپنی آمدن سے خوش نہیں۔چین کی شرح نمو ایک سال کے عرصے میں 9.2فیصد سے کم ہو کر 7.5فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وہاں پر بھی بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔بہت سے ممالک میں افراطِ زر کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی اور جن ممالک میں کی جاتی ہے ، اس کی وجوہات ہوتی ہیں ، جیسے کہ ایشیا کم اور ان کے مقابلے میں بہت زیادہ رقم موجود ہو۔ہاں بہت زیادہ نوٹ رکھنے کا لطف تو مَیں نے برما اپنے قیام کے دوران اٹھایا نوٹوں سے بھرا بیگ لے کر جب مارکیٹ کا رخ کیا تو اندازہ ہوا کہ ان سارے نوٹوں سے صرف دو ڈریس ہی آتے ہیں اور بیگ خالی ہو جاتا ہے۔بات برما کی ہوئی تو یہ بات تو وہاں بھی دیکھی کہ وہاں کی معاشی حالت پاکستان سے بھی ابتر ہے۔ ہم پاکستانی غریب سے غریب بھی کم از کم پتلی دال تو کھاہی لیتے ہیں ، مگر وہاں کے لوگ سوپ سے بھی پتلی دال استعمال کرتے ہیں ،یعنی شکر ہے ہم برما جیسے ملک سے ہزارہا درجے بہتر حالت میں ہیں ۔ہاں ایک معاملے میں ہم بالکل برما جیسے ہیں ، وہ ہے بجلی کی حالت۔اس ساری صورت حال کو اپنے قارئین کے سامنے لانے کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہمیں معاشی،معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی طور پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ آنے والے وقتوں میں ہمارا نام خوشحال ملکوں کی فہرست میں ہو۔  ٭

مزید : کالم