بھٹو کا وژن اور نظام کی اینٹ

بھٹو کا وژن اور نظام کی اینٹ
بھٹو کا وژن اور نظام کی اینٹ

  

یہ غالباً 1975 کا ذکر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا زمانہ تھا۔ ملتان کینٹ کے علاقے گھیر محلہ میں کھر ہاﺅس ہوا کرتا تھا، بھٹو جب بھی ملتان آتے قیام نواب صادق حسین قریشی کے پرانا شجاع آباد روڈ پر واقع وائٹ ہاﺅس میں کرتے اور میٹنگیں کھر ہاﺅس میں بلاتے۔ مَیں ان دنوں ایف اے کا طالب علم تھا اور کینٹ میں رہائش ہونے کی وجہ سے بھٹو کی آمد پر نجانے کیوں کھر ہاﺅس چلا جاتا تھا۔ ان دنوں وزیر اعظم کا پروٹوکول ایسا ہٹو بچو والا نہیں ہوا کرتا تھا۔ اس لئے ہماری رسائی میٹنگ ہال تک ہو جاتی تھی۔ مَیں اب سوچتا ہوں کہ کیا مَیں پیپلز پارٹی کا کارکن تھا، یا میری اس سے دلی وابستگی تھی، اس سوال کا جواب نہیں ملتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ عہد شباب تک پیپلز پارٹی کے لئے نعرے بھی لگائے اور لاٹھیاں بھی کھائیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ایسی ہی میٹنگ میں ملتان کینٹ پیپلز پارٹی کے صدر رشید خان ہمارے ساتھ اندر داخل ہوئے اور چیخ چیخ کر کہنے لگے، ”چیئر مین صاحب! آخر ہمارا پارٹی میں کیا کردار ہے؟ کوئی بات سنتا ہے اور نہ مسائل کے حوالے سے مشورہ لیا جاتا ہے“ ....ایک لمحے کے لئے سناٹا طاری ہوا، کچھ لوگ رشید خان کی طرف بڑھے کہ انہیں باہر نکال دیں، لیکن بھٹو نے انہیں روک دیا۔ سب حیران رہ گئے جب بھٹو صاحب نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک وزیر کو نشست سے اٹھنے کا اشارہ کیا اور وہاں رشید خان کو بٹھا کر کہنے لگے: ”پارٹی کے اصل مالک رشید خان جیسے کارکن ہیں، ان کی بات سنی بھی جائے اور ان سے رہنمائی بھی لی جائے۔ ان سے بہتر کوئی تھنک ٹینک نہیں ہوتا“۔

ذوالفقار علی بھٹو کی اتنی بات کرنی تھی کہ وہاں موجود کارکنوں نے وہ نعرے بازی کی کہ اس کی گونج مجھے اب بھی سنائی دیتی ہے۔ یہ بھٹو کا وژن تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے رویے سے کارکنوں کی جو فصل تیار کی تھی، اس کے اثرات آج کے جیالوں تک بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے باپ کی اس وراثت کو آگے بڑھایا۔ بی بی کارکنوں کی بات غور سے سنتی تھیں اور اہمیت بھی دیتی تھیں، مگر گزشتہ پانچ برسوںمیں یہ سلسلہ بالکل ٹوٹ کر رہ گیا ہے۔ آصف علی زرداری پارٹی کے چیئر مین ہیں، مگر کارکنوں کی ان تک رسائی نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری شریک چیئر مین ہیں اور وہ بھی ناقابل دسترس ہیں۔ رہے وزیر وزراءتو ان کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ اس صورت حال میں جب مَیں کسی پارٹی رہنما کی یہ بڑھک سنتا ہوں کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی، تو حیران رہ جاتا ہوں کہ عوام تو رہے ایک طرف، پارٹی کارکنوں تک سے رابطہ توڑنے والے کس قدر خوش فہمی کا شکار ہیں۔ بھٹو صاحب نے پارٹی کارکنوں کو سب سے بڑا تھنک ٹینک قرار دیا تھا اور انہیں اہمیت بھی دی تھی، اب تو پیپلز پارٹی اس کور کمیٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جو کسی افتاد کے وقت اجلاس کرتی ہے اوراس کی سوچ کا دائرہ صرف اقتدار کو خطرات سے بچانے تک محدود ہوتا ہے۔

مَیں آج کی پیپلز پارٹی کو دیکھتا ہوں تو یہ سوچ کر حیران ہوجاتا ہوں کہ کیا یہ وہی جماعت ہے ، جس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ایک طرف کارکنوں کی آواز پر کان دھرتے تھے اور دوسری طرف انہوں نے ایک مضبوط تھنک ٹینک بھی قائم کر رکھا تھا۔ پیپلز پارٹی کا تھنک ٹینک اس وقت بہت مضبوط تھا، جب یہ قائم ہوئی تھی۔ بھٹو کے ساتھ جے اے رحیم، محمود علی قصوری، عبدالحفیظ پیرزادہ، شیخ رشید اور ملک معراج خالد جیسے لوگ تھے، جنہوں نے روٹی، کپڑے اور مکان کا نظریہ دیا۔ زرعی اصلاحات تجویز کیں اور پارٹی کلچر کو عوامی رنگ دیا، جس کے باعث ایک نوزائیدہ جماعت دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کروڑوں عوام کی نمائندہ بن گئی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے نظریات اور نعروں کا بعد میں جنازہ نکل گیا اور عوام کے حصے میں مایوسی اور محرومی کے سوا کچھ نہ آیا۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی عوام کی آس اور امید تھی، اب دوسری جماعتوں کی طرح پارٹی برائے پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے پاس بھی دوسری جماعتوں کی طرح ملک میں انقلابی تبدیلی لانے کا کوئی فلسفہ ہے اور نہ راستہ۔ تھنک ٹینک کا کام اگر یہ بتانا رہ جائے کہ مختلف مقاصد حاصل کرنے کے لئے شطرنج کی کون سی چال استعمال کرنی چاہیے تو اسے تھنک ٹینک کی بجائے سکیم ٹینک کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

 کارکن جو اس پارٹی کی سٹریٹ پاور تھے اور جن کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا عوامی روپ بہت خیرہ کن تھا، آج اس سے دور کیوں ہو چکے ہیں؟ یہ بات بلامبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ آج کل پیپلز پارٹی میں اتنے کارکن نہیں، جتنے پارٹی کے چھوٹے بڑے عہدوں پر تعینات عہدیدار ہیں۔ جس سیاسی جماعت سے اس کے کارکن روٹھ جائیں، اس سے عوام بھی دور ہو جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو ایک بڑی سیاسی جماعت اس کے کارکنوں ہی نے بنایا تھا، جو کبھی خود سوزی کرتے، کبھی گولیاں کھاتے، کبھی جیل جاتے اور بھٹو ازم کی تھاپ پر والہانہ بھنگڑا ڈالتے تھے۔ آج وہ جنس نایاب ہو چکی ہے۔ کارکنوں کو پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد نے کرائے کے مقتول سمجھ لیا تھا، جنہیں کسی وقت بھی قربانی کے لئے بلایا جا سکتا تھا، حالانکہ یہ سوچ انتہائی احمقانہ تھی۔ کارکن صرف جذبے اور نظریے کے تحت بنتا ہے۔ کسی لالچ یا معاوضے کے لئے نہیں، مگر بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو جذبے اور نظریے دونوں لحاظ سے مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ جب بھی آیا انہیں نہ صرف نظر انداز کیا گیا، بلکہ لوٹے ٹکٹ لے کر میدان میں آئے اور کارکنوں سے کہا گیا کہ پارٹی کی خاطر ان کی حمایت کریں۔ اس وقت جب پارٹی اقتدار میں ہے، کارکنوں کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔ جہاں کہیں پیپلز پارٹی کا کوئی اکٹھ ہوتا ہے اور کوئی بڑا عہدیدار کارکنوں کے سامنے آتا ہے، تو وہ شکایات کے انبار لگا دیتے ہیں، بلکہ دست و گریبان بھی ہو جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی نے فروری 2008ءکے انتخابات میں معمولی برتری کے بعد اقتدار حاصل کرنے کے لئے قدم قدم پر مصلحت سے کام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے چیئر مین آصف علی زرداری کو آج کریڈیبلٹی کے بحران کا سامنا ہے اور محمد نواز شریف ان کے وعدوں پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں، تاہم صدر آصف علی زرداری کے اس کردار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انہوں نے ایک آمر کی موجودگی میں سیاسی شطرنج پر موقع محل کے مطابق حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بالآخر جمہوری حکومتیں بھی قائم کیں اور موقع ملتے ہی آمر کو بھی ایوان اقتدار سے باہر کر دیا، مگر اس کے بعد وہ سیاسی بساط پر اپنی گرفت کچھ زیادہ مضبوط نہ رکھ سکے۔ یہی وہ موقع تھا کہ جب پارٹی کا ایک فعال تھنک ٹینک ایک طرف عوامی سطح پر پارٹی کے گرتے ہوئے امیج کو سہارا دے سکتا تھا، اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے اثر کو عوامی رابطوں کی مضبوطی اور مدلل جوابی مہم کے ذریعے زائل بھی کر سکتا تھا، مگر اس کی بجائے سارا زور سپریم کورٹ کے خلاف مہم پر صرف کیا جانے لگا۔ ہر وزیر و مشیر صدر کی وفا داری کا طوق گلے میں ڈال کر ڈھول بجا رہا ہے، حالانکہ اس دوران تعمیری و مثبت کاموں کے ذریعے اپنا امیج بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے تھی۔ معاشی حالات، لوڈشیڈنگ اور بدامنی نے حکومت کو جس طرح غیر مقبول کیا ہے، اس کے اثرات پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر بھی پڑے ہیں اور وہ عوام کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے بد دل کارکنوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اگلے انتخابات کا معرکہ سر کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے تو میرے نزدیک یہ بھٹو کے اس وژن کی نفی ہے، جس میں کارکن پورے نظام کے لئے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔   ٭

مزید : کالم