ایام گزشتہ

ایام گزشتہ
ایام گزشتہ

  

بدھ کی شام کو امرتسر اور دہلی کی سیر سے واپس آتے ہوئے میں اتنا تھک چکا تھا کہ چکوال جانے کا حوصلہ نہ ہوا۔دہلی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی فلائیٹ حسبِ معمول تین گھنٹے لیٹ تھی ، چنانچہ مَیں نے شہنشاہ جہانگیر کے پسندیدہ شہر لاہورمیں مال روڈ پر واقع ایک ہوٹل کی چھت تلے پناہ لی۔ جمعرات کی صبح جب مَیں یہ کالم لکھ رہاہوں تو نیچے مال روڈ پر کسی جگہ ملکہ ترنم نورجہاںکی مسحور کن آواز میں ایک قومی نغمہ ”اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو“1965ءکی جنگ کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کررہا ہے تویکایک مجھے یادآتا ہے کہ آج یوم ِ دفاع ہے۔ آج ہم اس دن کو مناتے توہیں، مگر سچی بات یہ ہے کہ ماضی کا وہ جوش و جذبہ قدرے ماند پڑ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم کے دل میںبہادری سے لڑنے والے فوجیوں کی عزت کم ہو گئی ہے ، بلکہ اب عوام کو اس جنگ کے بارے میں بہت سے حقائق کا علم ہو چکا ہے، چنانچہ وہ اس کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہیں۔

یہ وہ جنگ ہے جو پاکستان لڑنا نہیں چاہتا تھا، مگر اس میں کود پڑا۔ ہمارے شعلہ بیان قومی رہنما، ذوالفقار علی بھٹو، جو اس وقت وزیر ِ خارجہ تھے، اورمیجر جنرل اختر حسین ملک، جو بارہویں ڈویژن کی کمان کر رہے تھے، اس بات کا ادراک کرنے میں غلطی کرگئے کہ کشمیر میںکوئی بھی مہم جوئی بھارت کو مشتعل کردے گی اور وہ اس کا جواب دینے کے لئے کہیں بھی محاذ کھول سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ جب بھارتی افواج کو کشمیر میں خطرہ محسوس ہوا تو اس نے بین الاقوامی بارڈرعبور کرکے سیالکوٹ سے لاہور تک مختلف مقامات پر جنگ چھیڑ دی۔ اگرچہ اس جنگ کے لئے ہم تیار نہیں تھے، مگر ہمارے جوان بہادری سے لڑے اور بعض مقامات پر تو اُنہوںنے شجاعت کی انمٹ داستانیں رقم کیں۔ سپاہیوںکے علاوہ ہمارے جونیئر افسران اگلے مورچوں میں لڑے اور کچھ بریگیڈئیرز رینک کے افسران نے بھی سپاہیوںکے شانہ بشانہ جنگ کی....(اس جنگ کا انڈین حکومت کا بیان نیٹ پر پڑھا جا سکتا ہے ۔ اس میں اُنہوںنے ہمارے جوانوںکی بہادری کا سچائی کے ساتھ اعتراف کیا ہے).... بری افواج کے علاوہ اس جنگ میں فضائیہ کی کارکردگی بھی بے مثال تھی، تاہم جہاں تک اُس وقت کی اعلیٰ فوجی کمان کا تعلق ہے تواُن کی طرف سے کسی قابل ِ ذکر دفاعی حکمت ِ عملی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہ آیا۔

ہمارے خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان اپنی فاش غلطیوں پر پچھتاتے رہے۔ جنگ کے بعد وہ پہلے جیسے دبنگ انسان نہ رہے، بلکہ ملکی معاملات پر اُن کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ بھٹو صاحب نے، جن کا اس جنگ کو شروع کرنے میں بہت بڑا ہاتھ تھا، اس موقع سے فائدہ اٹھایا ۔ تاشقند معاہدہ ہوا اور بھٹو صاحب نے قوم کو باور کر ا دیا کہ اگر اُس وقت ایوب خان کمزوری نہ دکھاتے تو ہماری افواج میدان جیتنے ہی والی تھیں اور یہ بات سوچنا بھی حماقت تھی۔ چینی لیڈر چواین لائی ( Chou En-lai) نے فیلڈ مارشل کو مشورہ دیا تھا کہ شہر خالی کردو، اگر کر سکتے ہو، اور گوریلا جنگ کرو، تاہم ہمارے قائدین نصیحت سننے کے روادار نہیںہوتے۔ جب عالمی طاقتوںکی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تو ہماری ہائی کمان کی لڑنے کی ہمت تقریباً جواب دے چکی تھی، تاہم تاریخ کے دامن کو دیومالائی داستانوں سے آراستہ کرنا کوئی ہم سے سیکھے!کئی سال تک ہم نے قوم کی برین واشنگ ان خطوط پر کی کہ بھارت پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے حملہ آور ہوا،مگر ہماری بہادر افواج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اُس کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ہمارا یوم دفاع انہی ”یادوں “ کو تازہ کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔

ان دیومالائی داستانوں سے کوئی نقصان نہ ہوتا، اگر ان کے بہت سے منفی نتائج ہمیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لیتے۔ اس سے پہلے ہمارے انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق تھے، مگر اس جنگ نے تمام روابط منقطع کر دئیے اور نفرت اور دشمنی کے شعلوں کو ہوا دی۔ اس کے نتیجے میں ہمیں اپنا دفاعی بجٹ بڑھانا پڑا اور مسلح افواج کے حجم میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔ قومی سلامتی کے تحفظ کا جن بوتل سے ایسا آزاد ہوا کہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔ قوم کی نفسیات بھی ان خطوط پر ڈھل گئی (یا ڈھالی گئی) کہ بھارت دشمن ہے۔ اس کے بعد تمام تر قومی معاملات میں ان ”قواعد “ کا خیال رکھا جانے لگا۔ اس جنگ سے پہلے تک ہماری معاشی حالت بہت بہتر تھی کم از کم ملائیشیا اور جنوبی کوریا جیسی ریاستوںسے ہم بہت آگے تھے، لیکن اُس جنگ نے ہمیں ہماری موجودہ ریلوے کی طرح پٹڑی سے اتار دیا....(اگر اس جنگ سے کوئی فائدہ ہوا تو وہ ملکہِ ترنم کے گائے لافانی نغموں کا وجود میں آنا تھا اور ان کو سننا ابھی تک اچھا لگتا ہے)....1971ءکی جنگ نے دشمنی کے ان جذبات کو مزید ہوا دی۔

 کتنی تعجب خیزبات ہے کہ اپنے دور کا انتہائی دانا اور زیرک سیاست دان دشمنی اور نفرت پر مبنی اس قومی پالیسی کا راستہ متعین کرنے کا باعث بنا۔ یہ بات کون بھولے گا کہ 1970 ءکے انتخابات میں بھٹو صاحب کی پنجاب میں کامیابی کا باعث یہ نعرہ تھا” ہم ہزار سال تک لڑیں گے“اور بھارت دشمنی کے جذبات سے مغلوب یہ پنجاب، نہ کہ سندھ، تھا، جس نے بھٹوصاحب کے اقتدار کی راہ ہموار کی۔اس بات پر دوبارہ غور کیجئے! پنجاب کو بھارتی دشمنی کے رنگ میں رنگنے والا اور اس کے نتیجے میں پورے ملک میں جذباتی فضا قائم کرنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ ایک سیکولر کہلانے ،نہایت اعلیٰ وسکی سے شغل فرمانے اورلبرل نظریات رکھنے والا ایک ذہین سیاست دان تھا۔ لاہور کے ایوانوں میں قومی سلامتی کے نگہبانوں کی دو قومی نظریے کی اکتادینے والی تکرار کون سنتا بھٹو صاحب کے آتشیں، مگر دلنشیں لہجے کی لپک پنجابی ذہن پر اپنا دائمی نقش چھوڑ گئی۔ان کی خطابت کے دو بنیادی پہلو تھے جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنا اورحب الوطنی کے جذبات کو ابھارنا .... اُس وقت کے ابھارے گئے جذبات کہیںاب جا کر سرد ہونا شروع ہوئے ہیں اور اس کی وجہ کسی بصیرت کا نور نہیں.... (ایسی چیزیں ہمارے ہاں ممنوع ہیں)....بلکہ حالات کا جبر ہے، جس کی بے رحم سنگ باری نے ہمارے التباسات کا شیش محل چکنا چور کر دیا ہے۔ اب ہمارے دفاعی ادارے مشرقی سرحد پر جس آزمائش کی بھٹی میں سے گزر رہے ہیں، وہ کسی فردوسی کی داستان گوئی نہیںہے۔ یہاں جس سخت جان اور مکار دشمن کا سامنا ہے، اسے کسی ہندو یا یہودی کی معاونت حاصل نہیں ہمارے درمیان ہی اُس کے حامی موجود ہیں اور بہت بڑی تعداد میںہیں۔

جہاں تک ہماری بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں کا تعلق ہے(چاہے جو وجوہات بھی ہوں)وہ دوٹوک سادہ جنگیں تھیں۔ ہمیں اپنے دشمن کا علم تھا اور میڈم نورجہاں کو اپنے جوانوںکا حوصلہ بڑھانے میں کوئی ابہام نہ تھا، تاہم جس جنگ میں ہم آج مصروف ہیں، وہ اُن جنگوں کے مقابلے میں نہایت پیچیدہ اور دقیق ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو دشمن ہمارے فوجی جوانوںکے گلے کاٹ رہا ہے ، نہ صرف ہم اس کے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہیں، بلکہ ہمیںیہ بھی علم نہیں کہ خطرے کی ماہیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں قوم کی روح، اس کی روحانی سمت ، داﺅ پر لگی ہوئی ہے۔ اگر ہم اس خونی جنگ کو، جس نے ہمارے ذہن کو ابہام میں ڈال رکھا ہے، جیت جاتے ہیں تو قوم نجات کی راہ پر گامزن ہوجائے گی ، ورنہ ہمارا حال وہ ہوجائے گا کہ صومالیہ اور سوڈان کی ”خوشحالی “ پر ہمیں رشک آئے گا....( مثا ل دینے پر ان اقوام سے معذرت صرف بات واضح کرنی مقصود تھی)   

اگر ایک ملک ، جو اپنے بانیوں کی تجویز کردہ رواداری اور برداشت کو دیس نکالا دے چکا ہو، ایک ایسا ملک جہاں مذہبی اور فقہی بنیادوںپر مخالفین کو چن چن کر قتل کیا جائے، ایک ایسا ملک جہاں اقلیتیں محفوظ نہ ہوں نہ چھوٹی بچی اور نہ ہی جوان افرادتو اس ملک کو خود سے کچھ ادق سوالات پوچھنے ہیں!ہر قسم کی ناانصافی بری ہے، مگر مذہب کے نام پر کی جانے والی نا انصافی بدترین ہے۔ ہم کس قسم کے منافق ہیں؟ کیا ہم خلفائے راشدین کی حیات ِ طیبہ پر گامز ن ہیں ؟ ذرا سوچیں کہ اگر کوئی نیک، صالح اور حضرت عمرؓ کی طرح کا انصاف پسند خلیفہ اس وقت پاکستان کا حکمران ہوتا اور اگر اُس کو پتا چلتا کہ ایک چھوٹی سی بچی، جیساکہ رمشا، کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے تو کیا اس وقت (یا کسی وقت کے بھی) وزیرِ داخلہ ملک صاحب کی گردن کندھوںپر سلامت ہوتی؟اور کیا کوتوالِ شہر کی شامت نہ آجاتی کہ وہ بھاگابھاگا جائے اور اس پھولوںجیسی بچی کو اپنی گود میں اٹھاکر اُس کے گھر جائے اور اس کے اہلِ خانہ سے دریافت کرے کہ کیا اُن کے پاس ضروریات زندگی میں سے کسی چیز کی کمی تو نہیں اور اس کے بعد وہ گھٹنوںکے بل جھک کر اﷲ سے گڑگڑا کر معافی مانگے۔کیا یہ خلیفہ ¿ ثانیؓ کا فرمودہ نہیں کہ....”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتابھی بھوکا مرجائے تو قیامت کے دن عمرسے اس کی باز پرس ہوگی“....وہ اسلام جو سرزمین ِ حجاز سے دنیا بھر میں پھیلا، وہ انسانی عظمت اور توقیر کا امین تھا۔ ذرا سوچیںہم نے اس دین ِ متین کو اسلام کے نام پربنی اس ریاست میں کیا بنا دیا ہے؟

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

مزید : کالم