حضرتِ ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرشِ راہ

حضرتِ ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرشِ راہ
حضرتِ ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرشِ راہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو جمعہ کا مبارک دن ہے۔اس دن ہم گناہ گار مسلمانوں پر اللہ کریم کا خاص لطف و احسان ہوتا ہے۔ہم اس کے حضورگڑ گڑا کر سجدہ ریز ہوتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں کہ دنیا کے مسلمانوں کا مستقبل بالعموم اور مسلمانانِ پاکستان کا بالخصوص ،روشن و تابناک ہو۔اس کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے کہ کوئی قابل ہو تو ہم اسے شانِ کئی سے نوازیں۔مگر کوئی ”قابل“ اگر کہیں دستیاب نہ ہو تو یہ رحمتِ ایزدی کیا کرے؟وہ تین درجن سے زائد مسلمان ملکوں کے اربابِ بست و کشاد کے دروازوں پر دستک تو دیتی ہے اور بار بار دیتی ہے۔لیکن ان ارباب کے دروازے مستقبل طور پر ”بست“ ہیں،وہ”کشاد“ کو گناہ نہیں ،گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور صدیوں سے سمجھ رہے ہیں .... تو پھر اللہ کی رحمت کہاں جائے۔ناچار وہ دوسرے دروازے ڈھونڈتی ہے ،جو کبھی بند نہیں ہوتے، ہمیشہ”کشادہ“ رہتے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کے روز بھی ہم نے دعا مانگی تھی،جو خلافِ معمول پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ نوید ہے کہ شری ایس ایم کرشنا، بھارت کے وزیرخارجہ ازراہ بندہ نوازی پاکستان کے دو روزہ دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔موصوف دو باتوں کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ایک یہ کہ ”امن کی آشا“ کے سالانہ حال احوال کو ریویو کریں اور دوسرے شری من موہن جی کے پاکستان میں اس ورددِ مسعود کے امکانات کا جائزہ لیں جومستقبل کی کسی شدھ گھڑی ہمارے حال ِ زار پر ترس کھا کر ہماری وہ آشاپوری کریں ،جس کے لئے ہم ان کے درشنوں کے منتظر ہیں۔

پاکستان کے صدر اور وزیراعظم دونوں گاہے ماہے ان سے استدعا کرتے رہتے ہیں کہ وہ سرزمین پاک پر ضرور بالضرور صرف چند لمحوں کے لئے ہی سہی، قدم رنجہ فرمائیں۔پاکستان کی ساری عوام ان کی راہوں میں گل پاشی کرنے کے لئے سبدِ گل ہاتھوں میں تھامے کھڑی ہے۔ہماری اس عوام کے ترجمان یعنی ہمارے صدر اور وزیراعظم کئی بار آنکھوں میں برخورداری اور پیار بھر کر شری من موہن کے دیدار کی درخواست کر چکے ہیں۔وہ کئی بار اپنے عوام کی اس آشا کا پیغام ان کو پہنچا چکے ہیں جو ان کی اپنی ہندی زبان میں ان کے کسی بھگت کبیر نے ایک شبد کی صورت میں ڈھال رکھا ہے:

نین میں آجا ساجنا پلک ڈھانپ تو ہے لوں

نہ میں دیکھوں اور کو، نہ تو ہے دیکھن دوں

نجانے من موہن پاکستان کی اس آشا کے اس ٹکڑے سے کیوں ڈرے بیٹھے ہیں کہ ”نہ تو ہے دیکھن دوں“ کا اصل مطلب کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہم منصب جب بھی ان کو اپنے ہاں مہمان بننے کی دعوت دیتے ہیں تو شری من موہن سنگھ کا ایک ہی جواب ہوتا ہے....”ہم اس وقت آئیں گے،جب حالات موزوں ہوں گے“.... ایک طویل عرصے سے موزونیء حالات کے وہ بھی منتظر ہیں اور ہم پاکستانی بھی۔کیا شری من موہن کے ہاں حالات کی موزونی کا مطلب ”ممبئی اٹیک“ کا ایجاب و قبول ہے؟

پاکستان نے ممبئی اٹیک کی پلاننگ کی تھی یا نہیں کی تھی، وہ اس جرم میں ملوث تھا یا نہیں تھا، اس سے شری جی کو کچھ غرض نہیں، وہ تو صرف ایک بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ جب تک یہ ”خط“ نہیں لکھا جائے گا، ہمارے درشن ایک سپنا ہی رہیں گے۔

بھارت کے وزیرخارجہ جن امور پر پاکستان سے بات چیت کرنے آئے ہیں، وہ ہرگز نئے نہیں ہیں۔سال ہا سال سے ہم ان کو سن رہے ہیں....مثلاً سیاچن ، سرکریک، دریائی پانی اور جموں اور کشمیر وغیرہ وہ مسائل ہیں ،جو ابھی تک لاینحل ہیں....ہاں دوچار مسئلے اور بھی ہیں، جن میں بھارت اپنی مرضی کے حل چاہتا ہے، مثلاً دو طرفہ تجارت، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات، منشیات کا کنٹرول، لائن آف کنٹرول کو پاک بھارت مستقل سرحد بنانے کا مسئلہ ....وغیرہ وغیرہ۔

ان میں دوطرفہ تجارت اور ویزے کے اجراءمیں سہولتوں کے علاوہ سارے مسائل وہی ہیں کہ جو چھ عشرے پہلے تھے....شری کرشنا ان کو کیا ریویو کریں گے؟ ان کا موقف کسے معلوم نہیں اور پاکستان کا موقف کس بھارتی کی نگاہ سے اوجھل ہے؟پاکستان، بھارت کو ”پسندیدہ ترین ملک“ کا درجہ دینے کے لئے تیار ہے، بس ایک آنچ کی کسر باقی ہے، جو انشاءاللہ اگلے برس کے اوائل میں پوری ہو جائے گی اور پھر دیکھنا دونوں طرف ”ہُن“ برسنے لگے گا، ہمارے ہوں یا نہ ہوں، بھارت کے وارے نیارے ہو جائیں گے،جموں و کشمیر، دریائی پانی، سیاچن اور سرکریک جیسے ”فضول“ مسائل میں کوئی پیشرفت ہو یا نہ ہو، باہمی تجارت کوتو فروغ مل جائے گا....پاکستان، آلو پیاز سے لے کر بجلی اور ریلوے انجن تک بھارت سے درآمد کرسکے گا....ہاں البتہ برآمد کیا کرے گا، اس کا فیصلہ اس ملاقات میں متوقع نہیں ۔اس کے لئے چھ عشرے اور درکار ہوں گے....

میں اپنے بھارت کے ”خیرخواہ“ دوستوں کو ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ جو کچھ ہم بھارت سے درآمد کرتے ہیں،جس دن وہی کچھ بھارت کو برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور جو کچھ بھارت، ہم سے منگواتا ہے،وہی کچھ اگر پاکستان بھارت سے منگوانے لگے گاتو وہ دن بھارت کا یومِ حساب ہوگا اور ہمارا یوم تشکر.... بھارت نے اگر پاکستان کو”پسندیدہ ترین ممالک“ کی صف میں شمارکررکھا ہے تو یہ اس کا ہم پر بہت بڑا ”کرم“ ہے....لیکن قارئین محترم! مجھے تو بات آلو پیاز سے آگے بڑھتی نظر نہیں آتی....پہلے کمپوزٹ ڈائیلاگ کا غلغلہ اتنے سالوں تک بلند رہا اور اب آشا کی راگنی کا ورد شروع ہو چکا ہے۔آپ بھارت اور اسرائیل کی تجارت کا باہمی سکیل ملاحظہ کریں، چین ا ور بھارت کے مابین تجارت کے توازن کا جائزہ لیں اور پھر اپنے گریبان میں بھی جھانکیں تو اس کے بعد ہی آپ کو معلوم ہوسکے گا کہ ”ہم کہاں کھڑے ہیں“.... مجھے شری کرشنا کی آمد کا طمطراق اور اپنی خجالت(یعنی پاکستان کی موزونی ءحالات) کا موازنہ کرنے کے لئے حضرت اقبال کا وہ فارسی شعر یاد آ رہا ہے،جس میں وہ کہتے ہیں:”برہمن کی بیٹی کے حسن کا کیا ذکر کروں؟....وہ لالہ رخ بھی ہے اور سمن بر بھی ہے۔اس کے حسنِ عالم سوز کا نظارا کرنا ہو تو اس پر صرف ایک نگاہ ڈال لو اور پھر اپنے آپ پر نگاہ ڈالو اور دیکھو کہ آپ کا کیا حال ہوتا ہے“:

دختر کے برہمنے، لالہ رُخے، سمن برے

چشم بہ روئے اوکشا، باز بہ خویشتن نگر

آج اور کل دو دنوں تک شری کرشنا جیسے ”برہمن زادے“ پر آپ کی نظر پڑے گی تو ان کا میڈیا کے ساتھ جو انٹرایکشن ہوگا، وہ بھی آپ کے سامنے آ جائے گا....امیدواثق ہے کہ وہ کوشش کریں گے کہ ہمیں یاد دہانی کروائیں کہ آپ نے ”ممبئی حملے“ والے کیس کا کیا کیا ہے؟....آپ نے ایل او سی پر اپنے دہشت گردوں کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟وغیرہ وغیرہ اور جب ہمارا میڈیا جموں و کشمیر، پانی، سیاچن وغیرہ کا تذکرہ کرے گا، تو ان کا جواب وہی ہوگا جو وہ کئی بار دے چکے ہیں۔

میڈیا ان سے یہ پوچھے کہ ان مسائل میں سے ترجیح کس کو حاصل ہے؟....اگر ممبئی حملے کو پاکستان کی ”کارستانی“بھی مان لیاجائے تو شری کرشنا سے پوچھنا چاہیے کہ اس”ممبئی حملے“ کی اصل وجہ اور بنیاد کیا ہے؟....شری جی! آپ درخت کے پتے کیوں کاٹتے ہیں؟شاخیں کیوں تراشنا چاہتے ہیں؟آپ اس کا تنا اور جڑیں کیوں نہیں کاٹتے؟....کشمیرکا مسئلہ جو پاک بھارت مسائل کی ”رُوٹ کاز“ ہے اور واحد”روٹ کاز“ ہے، اس کی طرف کیوں نہیں آتے؟....اگر ہمارا میڈیا، ان سے یہ سوال بیک زبان ہو کر پوچھے گا تو پھر ان کا جواب سن لینا....اگر انہوں نے وہی جواب دینا ہے جو وہ بارہادے چکے ہیں تو پھران کے ورودِ مسعود کا فائدہ؟

حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ

پر کوئی اتنا تو سمجھا دے کہ سمجھائیں گے کیا؟

مزید : کالم