اور اب یوسف رضا بھی!

اور اب یوسف رضا بھی!
اور اب یوسف رضا بھی!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اطلاع ہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اپنے دائرہ تحقیق میں توسیع کر دی اور اب انسپکٹر جنرل موٹر وے ظفر عباس لک کو شامل تفتیش کرنے کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے پوچھ گچھ کا بھی فیصلہ کر لیا ہے اور ان سے بھی سوالات کئے جائیں گے جو ایفیڈرین کیس میں مداخلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے ہوں گے۔ ظفر عباس لک پر تو تفتیش خراب کرنے اور تفتیشی افسروں کو بلاوجہ تبدیل کرنے کے الزام میں جبکہ سابق وزیر اعظم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ظفر عباس لک کو نہ صرف گریڈ اکیس سے گریڈ بائیس میں ترقی دی بلکہ ان کو سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس بھی لگایا ادھر ظفر عباس لک نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کو ناجائز طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس لئے اے این ایف کو اس سے بازرکھا جائے۔

وقت وقت کی بات ہے۔ آج یہ امر سامنے آیا تو اس سے پہلے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر گیلانی کی ضمانتیں منسوخ ہو چکیں، وہ دونوں روپوش ہیں اور ان کے وکیل عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے لئے درخواستیں تیار کر رہے ہیں۔ اے این ایف والوں کی کوشش ہوگی کہ ہر دو کو عدالت میں پیش ہونے سے پہلے گرفتار کر لیا جائے۔ بات اب یوسف رضا گیلانی تک آگئی ہے۔ اس سے ہمیں یہ قول یاد آتا ہے کہ کرو تو ڈرو اور نہ کرو تو بھی ڈرو۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایفیڈرین کے معاملے میں کون قصور وار اور کون بے گناہ ہے۔ اس کیس کا نوٹس سپریم کورٹ نے لیا اور بقول شخصے حکومت یا حکمرانوں کی طرف سے اس معاملے میں مداخلت کے ذریعے بات ختم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، تبدیل کئے جانے والے افسروں کے تبادلے منسوخ کر دئیے گئے اور ظفر عباس لک کو ہٹا دیا گیا۔ اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور باربار کہا کہ یہ سات ارب روپے کا معاملہ ہے اور اس سے بیرونی دنیا میں بھی ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس لئے ذمہ داروں تک پہنچنا از حد ضروری ہے۔ اے این ایف نے تو کوٹہ حاصل کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ اسی حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کو بھی اس میں ملوث گردانا ہے۔ انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کرائی جو 12 ستمبر تک ہے۔ اس سے قبل مخدوم شہاب الدین اور عبدالقادر گیلانی بھی ضمانت پر تھے، جو ان کو دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس سے کرانا پڑیں بلکہ مخدوم شہاب الدین تو کچھ اور ہی کہتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف کارروائی ایسے وقت ہوئی، جب وہ متوقع طور پر وزیراعظم بننے والے تھے۔ اس موقع پر یہ کہا گیا کہ ان کو گرفتار کرنے کے لئے ٹیم مقرر کر دی گئی ہے۔ مخدوم شہاب الدین کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پشاور کا سفر کرنا پڑا اور وہاں سے حفاظتی ضمانت کرا کے واپس آئے اس عرصہ میں قرعہ فال راجہ پرویز اشرف کے نام نکل آیا جو آج وزیراعظم ہیں۔

ہم اس سلسلے میں قطعیت کے ساتھ کچھ کہنے سے قاصر ہیں کہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس اور زیر تفتیش ہے۔ تاہم یہ ضرور سوچتے ہیں کہ عروج و زوال ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اپنی جیل یاترا اور جیل میں لکھی گئی کتاب کا بہت حوالہ دیتے رہے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ پیپلز پارٹی والے جیل سے نہیں ڈرتے تو اب پھر وہ وقت آیا ہے کہ وہ بے خوفی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں، حالانکہ عبدالقادر گیلانی نے خود کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ الزام بے بنیاد ہے جو وعدہ معاف گواہ کی بناءپر ہے۔ یہ وعدہ معاف مان کر مکر کر پھر سے مان گئے اور گواہ بنے ہیں۔ مخدوم شہاب الدین کا مو¿قف تو اور بھی واضح ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات تو خود ان کے کہنے پر شروع ہوئی تھی۔

کوئی اسے مکافات عمل کہہ رہا ہے اور کوئی اسے جیسا کیا ویسا بھرا کا طعنہ دیتا ہے۔ اب دیکھنا تو یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا اور وہ جوابی طور پر کیا رویہ اختیار کرتے ہیںکہ عدالت سے رجوع کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ وہ خود کو پیش کریں اور یہاں تو معاملہ عدالت عظمیٰ کا ہے۔ نوٹس عدالت عظمیٰ نے لیا اور معاملہ بھی عدالت ہی کے زیر سماعت ہے۔ اس حوالے سے عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ جب معاملہ عدالت عظمیٰ خود اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس کے ماتحت عدالت کا رویہ کیسے مختلف ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہو پاتا کہ عدالت عظمیٰ اگر کسی کی گرفتاری کے بارے میں کہہ رہی ہو تو نیچے وائی کوئی عدالت ضمانت لے لے۔ یوسف رضا گیلانی تو توہین عدالت میں سزا یافتہ اور اس کے نتیجے میں پانچ سال تک نمائندگی کے لئے نا اہل ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے اپیل بھی نہیں کی تھی، اس لئے وہ سزا یافتہ تو ہیں، بہرحال پارٹی اور صدرآصف علی زرداری نے ان کا احترام کیا اوران کو ایوان صدر میں رہائش دی، جبکہ انہوں نے اپنی خالی نشست پر اپنے صاحبزادے کو جتوا کر اعلان کیا کہ عوامی فیصلہ ان کے حق میں ہے۔

ہم نے اس سارے مسئلہ میں بحث سے گریز کیا، لیکن حالات اور واقعات سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی صاحب اختیار ہو تو اسے اپنا اختیار احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے کہ بعد میں یہ پریشانی پیدا کرتا ہے۔ ایسا ماضی میں کئی بار ہو چکا اور اب پھر سامنے آ رہا ہے۔ ویسے یہ تو معلوم نہیں کہ اس سارے معاملے کا انجام کیا ہوگا، لیکن پیپلز پارٹی کے اپنے دور اقتدار میں اس کے وزراءاور اراکین اسمبلی کو جس احتساب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب اس کے سائے لمبے ہو کر سابق وزیراعظم تک بھی آگئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی کہیں جوڈیشل ایکٹوازم یا محاذ آرائی کا شاخسانہ تو نہیں۔

 ہم کوئی تنقید یا رائے دینے کی بجائے یہ کہیں گے کہ جو کچھ ہو، وہ شفاف اور حقیقی معنوں میں انصاف پر مبنی ہو اور جن کے خلاف الزام آ رہے ہیں ان کو بھی ان کا مقابلہ سنجیدگی سے کرنا چاہئے۔  ٭

مزید : کالم