نئے صوبے:پارلیمانی کمیشن اور مسلم لیگ(ن)

نئے صوبے:پارلیمانی کمیشن اور مسلم لیگ(ن)
نئے صوبے:پارلیمانی کمیشن اور مسلم لیگ(ن)

  

پاکستان میں موجودہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ اور انتظامی بنیادوں پر تقسیم کی بحث کا آغاز عملی طور پر تو 80 کی دہائی سے ہو گیا تھا۔ جنرل ضیاءمرحوم کے دور حکومت میں شہرہ آفاق انصاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود چار صوبوں کی جگہ تیرہ صوبے تجویز کیے گئے تھے جنرل ضیاءکی حادثاتی موت کے بعد یہ رپورٹ اوراس میں شامل تجاویز بھی اپنی موت آپ مر گئیں۔ 2008ء میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کچھ ہلکی ہلکی آوازوں نے جب جنم لیا تو تمام سیاسی حلقوں نے اسے بے وقت کی راگنی قرار دیا ،سب سے پہلے جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے بارے مطالبات میں تیزی نظر آئی ،لیکن اس وقت جنوبی پنجاب کے تمام منتخب سیاستدانوں نے اسے غیر ضروری مطالبہ قرار دیا میں اس سے قبل بھی ان صفحات پر یہ تحریر کر چکا ہوں کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بڑے سیاستدان.... (جن میں مخدوم جاوید ہاشمی، مخدوم شاہ محمود قریشی، سید یوسف رضا گیلانی اور ذوالفقار کھوسہ شامل ہیں).... پنجاب کی تقسیم اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے حوالے سے کسی بھی مطالبے کو عوامی مطالبہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے سرائیکی چینل پر میں نے ذاتی طور پر ان تمام صاحبان سے انٹرویو کے دوران جب جنوبی پنجاب کے بارے نئے صوبے کے حوالے سے سوال کیا تو کم و بیش تمام کا جواب ایک ہی تھا کہ یہ مطالبہ غیر ضروری اور بے وقت کی راگنی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کی تو بطور وزیر اعظم قومی اسمبلی میں 2009ءتک کی تقاریر کا ریکارڈ گواہ ہے کہ موصوف نے پنجاب کی تقسیم کو غیر ضروری اور پاکستان کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا۔

سیاست کی بے رحمی اور حالات میں تبدیلی کے باعث ماضی میں جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کے مطالبے کو غیر ضروری اور بے وقت کی راگنی قرار دینے والے تمام سیاست دان آج عوامی جذبات کو محسوس کرتے ہوئے اس مطالبہ کو عوامی مطالبہ قرار دے رہے ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبہ کے حوالے سے تحریک چلانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ 2009ءتک پنجاب کی تقسیم کو ملک کے لئے نقصان دہ قرار دینے والے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اب جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کو اپنا سیاسی مشن قرار دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) میں بھی اب پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے پارٹی پالیسی میں تبدیلی کے واضح اشارے محسوس ہو رہے ہیں، لیکن ایک طرف اس حوالے سے سیاسی پارٹیوں اور قائدین میں مثبت تبدیلی نظر آرہی ہے تو دوسری طرف اب نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے معاملات اتنے سادہ اور آسان نہیں رہے۔

جنوبی پنجاب ایک علیحدہ صوبہ عوام کی اکثریت کا مطالبہ ہے اور تھا۔اس حوالے سے جنوبی پنجاب میں بسنے والے تمام افراد چاہے وہ سرائیکی بولنے والے ہیں یا پنجابی اور اردو زبان بولنے والے تمام افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اس علاقے میں بسنے والے تمام افراد کی محرومی اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی نئے صوبے کے قیام سے ہی دور ہو سکتی ہے، لیکن چند دوست نما دشمنوں نے اپنے ذاتی مقاصد اور ذاتی انا کی خاطر اس مشترکہ عوامی مطالبے کو لسانی مسئلہ بنا دیا یہ عناصر گزشتہ چالیس سال سے زبان کی بنیاد پر جنوبی پنجاب میں نفرتیں بانٹنے کے مشن میں مصروف ہیں، اگرچہ عوام نے ان کی نفرتیں بانٹنے کی سازش کو ہمیشہ ناکام بنایا ہر انتخاب میں عوام نے انہیں بری طرح مسترد کیا۔یہ کاغذی لیڈر آج تک بطور کونسلر بھی انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ،لیکن ایک بار پھر یہ شکست خوردہ عناصر اپنے گھناﺅنے کھیل میں مصروف ہیں اور ظلم تو یہ کہ وفاق کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی بھی چھوٹے سیاسی فائدے کے لئے ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

ایک طرف جنوبی پنجاب میں انتظامی یا لسانی تقسیم کی بحث جاری ہے تو دوسری طرف جناب محمد علی درانی نے بہاولپور صوبہ تحریک کے مردہ مطالبہ میں اتنی طاقت پیدا کر دی ہے کہ ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں صوبہ بہاولپور کو آئینی اور قانونی طور پر جائز مطالبہ قرار دے رہی ہیں۔ محمد علی درانی تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے تو آئینی ترمیم کی ضرورت ہے ،جبکہ صوبہ بہاولپور کے لئے صرف ایک انتظامی حکم کی ضرورت ہے اور بقول محمد علی درانی صوبہ بہاولپور کا قیام ہی جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبہ بننے کی ضمانت ہے۔ لسانی بنیاد پر جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبہ قرار دینے والے عناصر صوبہ بہاولپور کے مطالبے کو سرائیکی صوبہ کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ،جبکہ صوبہ بہاولپور کے حامی سرائیکی صوبہ کے حامیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہیں۔

یہ تو صورت حال ہے پنجاب کی ،جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبہ سرحد کے نام میں تبدیلی کے ساتھ ہی ہزارہ صوبہ کے قیام کے حوالے سے ایک بھر پور عوامی تحریک کا آغاز ہوا اس تحریک کو بھر پور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی، یہاں تک کہ اس تحریک میں متعدد انسانی ہلاکتیں بھی اس مطالبے کی بھینٹ چڑھ گئیں ہزارہ صوبہ کی تحریک مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کے لئے ایک امتحان ہے ،کیونکہ صوبہ ہزارہ کا علاقہ روایتی طور پر مسلم لیگ کے حامیوں کا علاقہ ہے اور یہاں سے کامیاب ہونے والے تمام افراد کا تعلق مسلم لیگ کے ہی کسی نہ کسی دھڑے سے ہے، اسی لئے پیپلز پارٹی اور اے این پی ہزارہ صوبہ کے مطالبے کو نہ عوامی مطالبہ مانتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے دونوں جماعتوں میں کوئی سنجیدگی پائی جاتی ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سب سے دلچسپ صورت حال سندھ صوبہ کی ہے سندھ کی دونوں بڑی جماعتیں ، پیپلز پارٹی اور متحدہ پنجاب کی تقسیم کی تو حامی ہیں (متحدہ تو ہزارہ صوبہ کی بھی حمایت کرتی ہے)، مگر سندھ کی تقسیم کو ناممکن قرار دیتی ہیں متحدہ عوامی طور پر سندھ کی تقسیم کے خلاف ہے، مگر کراچی صوبہ تحریک چلانے والوں کو عوام کی آواز بھی قرار دیتی ہے متحدہ سندھ اور کراچی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی کسی بھی تشویش کو غیر نمائندہ آواز قرار دیتی ہے ،جبکہ پنجاب اور ہزارہ کے معالے میں اپنی نمائندگی کی بات کو ٹال جاتی ہے۔

اس سارے سیاسی منظر نامے میں صدر آصف زرداری نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے تحت ایک پارلیمانی کمیشن قائم کروا کر جہاں سیاست میں مزید تلخی پیدا کر دی ہے۔ وہیں مسلم لیگ (ن) جو پہلے ہی عمران خان کی سونامی تحریک سے بچاﺅ کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی تھی کو مزید پریشانی کا شکار کر دیاہے۔ پیپلز پارٹی اوراس کے اتحادیوں کی پہلی کامیابی تو یہ ہو گئی ہے کہ انہوں نے پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے مسلم لیگ( ن) کو دفاعی پالیسی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) بحیثیت سیاسی جماعت اس وقت نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مکمل کنفیوژن کا شکارہے۔ ایک طرف صوبہ ہزارہ میں انہیں عوامی مطالبہ کے ساتھ چلنے کی مجبوری ہے۔ دوسری طرف وہ پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے نفسیاتی دباﺅ کا شکارہیں۔ مجھے ایک بات کی آج تک سمجھ نہیں آرہی کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت جو گزشتہ تقریباً پچیس سال سے پنجاب میں مستقل حکمران ہے ،انہیںیہ کیوں یقین ہو گیا ہے کہ اگر جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بن گیا تو وہاں کے عوام مکمل طور پر ان کے خلاف ہوں گے یا مسلم لیگ (ن) وہاں اپنا سیاسی وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔

 مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں خود ہی جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور کے قیام کے حوالے سے قرار داد متفقہ طور پر منظور کروائی، لیکن وہ اب کیوں فرار کے راستے تلاش کر رہی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے تشکیل کردہ پارلیمانی کمیشن کی تشکیل بدنیتی کی بنیاد پر کی گئی ہے ،لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ( ن) اس کے جواب میں کوئی واضح لائحہ عمل کیوں نہیں بنا سکی کمیشن کی تشکیل میں وفاقی حکومت کی بد نیتی انتہائی واضح ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ وفاقی حکومت اس کمیشن کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی اختیار نہیں کرنا چاہتی، بلکہ اس حوالے سے مزید غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتی ہے، اسی لئے ایک طرف اے این پی ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے حوالے سے سرائیکی صوبہ میں شمولیت کو ناممکن ،جبکہ عبدالغفور حیدری ایک نئی سازش کے تحت ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو بلوچستان کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ ایک طرف انہیں لالچی اتحادی ملے ہیں، جن سے معاملہ کرنا صدر آصف زرداری کے لئے انتہائی آسان ہے دوسری طرف نا اہل اور کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے، جو اپنے چھوٹے سے چھوٹے ذاتی مفاد پر بڑے سے بڑے عوامی مطالبہ کو قربان کر دیتی ہے۔ اس صورت حال میں پارلیمانی کمیشن کی تشکیل سے نئے صوبے بنیں یا نہ زرداری صاحب سیاسی طور پر ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو تنہا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔  ٭

مزید : کالم