احتساب بل، جلد منظور کریں!

احتساب بل، جلد منظور کریں!

دو سال کے ڈیڈلاک کے بعد بالآخر حکومت کی طرف سے نئے احتساب بل کاڈرافٹ قومی حزب اختلاف کے حوالے کردیا گیا ہے۔وفاقی وزیرسید خورشید شاہ کی قیادت میں وزیرقانون فاروق نائیک اور نوید قمر پر مشتمل وفد نے سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر اسحاق ڈار سے پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں مذاکرات کئے۔مجوزہ مسودہ قانون حوالے کرتے وقت وفد نے اس خواہش اور امید کااظہار کیا کہ” احتساب سب کا“ کے اصول کے مطابق ایک بااختیار، غیرجانبدار کمیشن کے قیام کے لئے اس قانون کی منظوری اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے مسودہ قانون وصول کرتے ہوئے جواباً کہا کہ اس پر پارٹی لیڈر شپ غور کرکے اپنی رائے دے گی۔

  احتساب کا یہ قانون جس کے تحت قومی احتساب کمیشن قائم کیا جائے گا جو موجودہ قومی احتساب بیورو کی جگہ لے گا اس میں زیادہ سے زیادہ حضرات کو احتساب کے دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔ابھی اس مسودہ قانون پر اتفاق رائے نہیں ہوا کہ اس کی تقریباً تمام شقیں عام ہو گئی ہیں اور پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ (ن) کا اختلاف بھی سامنے آ گیا ہے۔اس سلسلے میں خصوصی طور پر کمیشن کے چیئرمین کے تقرر کا ذکر کیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی کی تجویز تھی کہ کمیشن کا چیئرمین سپریم کورٹ کا حاضر یا ریٹائرڈ جج ہو یا پھر ایسا شخص جو سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت کا حامل ہو، مسلم لیگ (ن) کا اصرار ہے کہ حاضر جج ہی ہونا چاہیے۔پیپلزپارٹی نے اب یہ مان لیا ہے کہ اہلیت کی شق نہ رکھی جائے، لیکن حاضر جج کے ساتھ ریٹائرڈ جج والی شق کو رد نہ کیا جائے۔اسی طرح استثنا کا مسئلہ تھا، وہ بھی ایک حد تک حل ہوتا نظر آتا ہے کہ اس میں چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

احتساب بل قومی اسمبلی میں 2009ءکے اواخر میں اس وقت کے وزیر قانون بابر اعوان نے پیش کیا اور اس پر فوراً ہی اعتراض ہوگیا۔مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف میں اس پر اعتراضات ہوئے ،حتیٰ کہ سندھ سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے بھی اعتراض کیا اور مخالفانہ نوٹ لکھا۔ بعدازاں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا۔کمیٹی کے اجلاس ہوتے رہے، لیکن کبھی بائیکاٹ اور کبھی سخت الفاظ کے استعمال کی وجہ سے ملتوی ہوتے رہے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف الزام لگائے گئے کہ وہ احتساب میں سنجیدہ نہیں، اب بھی قائد حزب اختلاف چودھری نثار نے کہہ دیا ہے کہ یہ ڈھیلا ڈھالا اور نرم مسودہ قانون ہے جو مسلم لیگ(ن) کو منظور نہیں ہوگا۔

تمام تر اختلاف کے باوجود یہ خوش آئند بات ہے کہ دو ڈھائی سال سے سردخانے میں پڑا یہ مسودہ قانون پھر حرکت میں آ گیا ہے اور حکمران جماعت اسے اتفاق رائے سے منظور کرانے کی خواہش مند ہے۔اب گیند مسلم لیگ(ن) کی کورٹ میں ہے۔ احتساب کا معاملہ ہمیشہ ہی اختلافات، اعتراضات اور الزامات کا معاملہ رہا اور نیب کے ادارے پر ایک وقت پیپلزپارٹی معترض تھی تو اب مسلم لیگ(ن) نے اسے بے کار قراردے رکھا ہے، دوسری طرف کرپشن کرپشن کی پکار فضا میں گونج رہی ہے۔ایسے میں احتساب کے لئے کسی باوقار ادارے کا قیام انتہائی لازم ہے جو بااختیار اور غیر جانبدار بھی ہو۔یہ درست ہے کہ اس کا اہتمام مسودہ قانون ہی کے ذریعے ممکن ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لئے تجاویز دینا درست اقدام ہے، لیکن اپنی تمام ترامیم اور تجاویز پر اصرار درست نہیں،بلکہ اس کے لئے کمیٹی میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اگر نیت ہو تو اس میں دیر نہیں لگتی۔

اب بات آگے بڑھی ہے تو یقین کرنا چاہیے کہ مسلم لیگ(ن) اس مسودہ قانون پر غور کرتے وقت سیاسی نہیں قومی مفاد پیش نظر رکھے گی اور بہت جلد اپنی تجاویز سمیت اسے واپس دے دی گی۔یہ بھی توقع رکھنا چاہیے کہ اگر احتساب لازم ہے تو اس مسودہ قانون پر بھی اتفاق رائے لازمی ہوگا،کوئی فریق ضد نہیں کرے گا اور ہر اچھی تجویز اور ترمیم متفقہ طور پر قبول کرلی جائے گی۔کرپشن کی بلند آوازوں میں ایسے ادارے کا قیام عوامی خواہشات کا بھی مظہر ہے کہ احتساب ہو، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوتاکہ کرپشن کے جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے۔ جو معاشرے میں دہائی مچائے ہوئے ہے۔

مزید : اداریہ