پی او اے اور ہاکی فیڈریشن کی لڑائی کھیلوں کے نقصان کا باعث بن گئی

پی او اے اور ہاکی فیڈریشن کی لڑائی کھیلوں کے نقصان کا باعث بن گئی

لاہور( افضل افتخار)کھیلوں کی حقیقی معنوں میں ترقی اور فروغ اس وقت ہی ممکن ہے جب تک اداروں میں تصادم نہ ہو جب اداروں میں تصادم ہوتا ہے تو اس سے سب سے زیادہ نقصان کھیل اور اس سے منسلک کھلاڑیوں کو ہوتا ہے پاکستان میں ایک طویل عرصہ سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ ادارے آپس کی جنگ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور انہوں نے ان کی ادائیگی کس طرح کرنی ہے اس کی ایک بڑی وجہ سیاست بھی ہے جب سے کھیلوں میں سیاست کا عمل دخل بڑھ گیا ہے کھیلیں ترقی کی بجائے پستی کی جانب گامزن ہیں ہاکی کا کھیل اس کی زندہ مثال ہے اسی لئے ہم اپنے قومی کھیل میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اس وقت پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ہاکی فیڈریشن کے درمیان جاری الفاظ کی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں ہے کہ اس سے نقصان کس کا ہورہا ہے دونوں ایک دوسرے پر شدید تنقید کررہے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کام کرنے میں ناکام ہیں پی او اے کا کام کھیلوں کی تمام تنظیموں کو ساتھ لیکر چلنا ہے لیکن اس کی موجودگی میں کوئی بھی تنظیم ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہی ہے بلکہ ہر تنظیم ایک دوسرے پر صرف تنقید ہی کررہی ہیں سپورٹس پالیسی کے تحت اگر کام کیا جائے تو نتائج مثبت ہوتے ہیں حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی کھیلوں کی تنظیموں کو سپورٹس پالیسی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس حوالے سے ان تنظیموں کودی گئی مدت بھی ختم ہوچکی ہے۔لیکن اس کے بعد سے اب تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ سب جوں کا توں ہورہا ہے اور یہ کب تک جاری رہتا ہے کوئی نہیں جانتا اس وقت آپس کی لڑائی کا وقت نہیں ہے ہم ہر کھیل میں اس وقت بہت پیچھے ہیں اور ملک میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سب سے اہم ہے لیکن ہم اس کو پس پشت ڈال کر صرف اپنے مفاد کی بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے باہر کی دنیا پر ہمارا امیج اچھا نہیں جارہا اور اس سے ملک میں انٹرنیشنل کھیلوں کی کوششوںکو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہاکی فیڈریشن اور پی او اے اپنے اختلافات بھلا کر ہر ایک کو اپنا کام کرنے دے اوراس حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل در آمد کریں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی