نابینا نوجوان پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ، پولیس افسران کی عدالت طلبی

نابینا نوجوان پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ، پولیس افسران کی عدالت طلبی

لاہور (اپنے نمائندے سے )ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ سیشن جج فیروزوالہ نصر علی نسیم نے فیروزوالہ کے ایڈووکیٹ چوہدری محمد یحییٰ خاں کی دائر کردہ رٹ پٹیشن میں بتایا کہ فیروزوالہ کے نواحی گاﺅں بلخے میں آنکھوں سے محروم ، مجبور اور بے کس نوجوان پر پولیس نے ظلم کے پہاڑ ڈال دئیے آنکھوں سے محروم نوجوان کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے ، گھر میں پولیس نفری کے ہمراہ دھاوا بول کر سامان توڑ پھوڑ کرنے عورتوں کو گالی گلوچ کر نے پر ڈی ایس پی فیروزوالہ ، انسپکٹر فیروزوالہ اور تفتیشی آفیسر کو 31 کو ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کر لیا تفصیلات کے مطابق عدالت میں ایڈووکیٹ چوہدری محمد یحییٰ خاں نے پٹیشن میں کہا کہ میرا موکل جاوید عرف منا جو آنکھوں سے محروم اور بے کس نوجوان ہے نابینا سمجھ کر اس کے رشتہ دار اس کی مدد کر رہے ہیں جس سے وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہا ہے 9-8-2012 کا واقعہ ہے کہ میرا سائل اپنی بیوی اور نا بالغان اور چچا زاد بھائی امجد علی بھی گھر میں موجود تھا کہ فیروزوالہ کے انسپکٹر مولوی انصر فاروق مان ، سب انسپکٹر لطیف گجر ، اے ایس آئی غلام رسول، محرر تعینات سی آئی اے فیروزوالہ اعجاز حسین ، سب انسپکٹر محمد اقبال اور دیگر پولیس کی بھاری نفری جن میں سجاد ، بلال ، اشرف، آصف، بشیر ، افتخار ، قمر حسین ا ور ایک درجن کے قریب سی آئی اے سرکل مریدکے ایک درجن کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان آتشیں اسلحہ سے لیس ہو کرمیرے موکل کی غیر موجودگی میںاس کے گھر داخل ہو گئے اور گھر کا مین دروازہ اور لاکھوں کا سامان توڑ دیا اور میرے موکل کی بیوی اور دیگر عورتوں کو گالی گلوچ کیا اور اس کی بیوی پر دستی اسلحہ کے بٹ مار کر بے جا تشددکیااورمیرے موکل جاوید عرف منا کی خالہ زاہدہ پروین کے بارے میں پوچھتے رہے ان سب ملازمین نے ہم مشورہ ہو کر میرے موکل کے گھر ہلا بول کر ٹی وی، برتن ، AC، سیف الماری، چارپائیاں اور دیگر سامان کی توڑ پھور کر دی یہ واقعہ میرے موکل کی مخالفت کی ایما پر ہواکیونکہ 7-8-2011کو میرے موکل جاوید عرف منا کے مخالفین محمد حسین عرف لالہ، ناظم عرف ناجی ، فرمان عرف پھالیہ، باغ علی عرف با غی نے مسلح ہو کر نواحی گاﺅں بلخے میں میرے موکل نابینا جاوید عرف منا کو گولیاں مار شدید زخمی کر دیا تھا پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے باوجود کسی ملزم کو گرفتار نہیںکیا تھا پولیس مذکورہ ملزمان کی مبینہ طور پر پشت پناہی کر رہی ہے اور میرے موکل پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بھی پولیس نے درج کر دیا ہے دو روز قبل بھی میرے موکل کو قتل کرنے کے لیے اس کے گھر پر مسلح افراد نے شدید فائرنگ کی مگر میرا موکل بال بال بچ گیا میرے موکل نے منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے ، اقدام قتل اور دیگر تحفظ کے لیے آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی رینج شیخوپورہ، ڈی پی او شٰیخو پورہ، ڈی ایس پی فیروزوالہ کو اپنی دکھ بھری داستان کی درخواستیں دی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی میرے موکل اور اس کے بیوی بچوں کی جان کو خطرہ ہے سائل نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے اس کو تحفظ فراہم کیا جائے

مزید : میٹروپولیٹن 1