موضع کا ہنہ کے پٹواری کی غیر قانونی تعیناتی اور پٹوار خانے کی تالہ بندی کے خلاف مکینوں کا احتجاج

موضع کا ہنہ کے پٹواری کی غیر قانونی تعیناتی اور پٹوار خانے کی تالہ بندی کے ...

لاہور (اپنے نمائندہ سے) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کے حکم سے موضع کاہنہ کا چارج غیر قانونی طور پر سنبھالنے والے پٹواری نے کمشنر لاہور کی جانب سے کئے گئے فیصلے کو بھی ماننے سے صاف انکار کر دیا فیصلے کی آمد سے قبل مقامی شہریوں سے موضع کاہنہ پٹواری خانے کو لگائے جانے والے تالے کو کھولنے کے وعدے سے بھی مکر گیا کاہنہ کی عوام پٹواری کی غیر قانونی تعیناتی اور عید کے بعد مسلسل پٹوار خانہ کی تالہ بندی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی مزید معلوم ہوا ہے کہ موضع کاہنہ میں بندوبستی پٹواری کی تعیناتی کے حوالے سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات نے نا صرف تمام بڑی انتظامی سیٹوں پر بیٹھے اعلیٰ افسران کے فیصلوں اور ہدایات کو ہوا میں اڑا دیا ہے بلکہ ایک پٹواری کی وجہ سے سروس ٹربیونل جیسے بڑے ادارے کے فیصلے کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے محکمہ مال میں لاقانونیت اور قانون شکنی کی مثال قائم کر دی ہے یہی وجہ ہے کہ موضع کاہنہ میںسینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیع سعید کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے بندوبستی پٹواری کو تعینات کر دیا جو کہ اسی علاقہ کے مستقل رہائشی بھی ہے اور ایسے حالات میں تعینات کیا جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے ضلع لاہور کے بندوبست جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات کی اور لاہور بھر کے بندوبستی پٹواریوں سے سرکل چھین لئے گئے اور براہ راسست سینئرممبر بورڈ آف ریونیو بندوبستی پٹواریوں کو بندوبست مکمل کرنے کے ٹاسک دینے لگے اور سیٹلمنٹ آفیسر سمیت دیگر افسران پر یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی بھی بندوبستی پٹواری کو اربن سرکل میں تعینات نہیں کیا جائے گا جب تک ضلع لاہور کا بندوبست مکمل نہیں ہو جاتا ہے اس کے علاوہ جب موضع کاہنہ بغیر کسی وجہ کے تبدیل ہونے والے متاثرہ پٹواری امداد حسین نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کے فیصلے کے خلاف سروس ٹربیونل میں اپیل دائر کی تو سروس ٹربیونل کے جج جسٹس شیر عابد نے بھی ایڈیشنل کلکٹر کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے امداد حسین پٹواری کو دوبارہ میرٹ پر تعینات کرنے کی ذمہ داری کمشنر لاہور پر عائد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا اس کے باوجود بندوبستی پٹواری ذوالفقار علی نے زبردستی امداد حسین سے نا صرف پٹوار خانے کا ریکارڈ چھین اپنی تحویل میں لے لیا بلکہ پٹوار خانے کو تالے لگا کر منظر عام سے بھی غائب ہو گیا جس سے کاہنہ کی عوام کی بڑی تعداد کی زمینوں کی خرید و فروخت بھی بند ہو گئی اور پنجاب حکومت کو بھی لاکھوں روپے کے ریونیو سے محروم ہونا پڑ رہا ہے اور 1 ماہ کے بعد کمشنر لاہور جواد رفیق ملک کی جانب سے بھی سروس ٹربیونل کے فیصلے کو بحال رکھا گیا اور دوبارہ پٹواری امداد حسین کو پٹوار خانے میں بحال کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا مگر ستم بالا ستم یہ کہ کمشنر لاہور کی جانب سے بھی دی جانے والی واضح تحریری ہدایات نے بھی غیر قانونی طور پر تعینات ہونے والے پٹواری پر کوئی اثر نہ ڈالا اور مذکورہ پٹواری نے چارج چھوڑنے سے صاف انکار کرتے ہوئے پٹوار خانے کو تالے بھی لگا دئیے ہیں محکمہ مال کی تاریخ میں پہلی بار ایک پٹواری کی تعیناتی کو انا کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس وقوعہ کے حوالے سے ضلع بھر کے پٹوار خانوں میں اب چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور اس ضمن میں محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کی اہمیت کو جٹلانے والے پٹواری کی مسلسل قانونی کی خلاف ورزی کرنے اور ایک ایسے افسر کی جانب سے پشت پناہی کرنے کی افواہیں سرگرم ہو چکی ہیں جس کے بارے میں مذکورہ پٹواری ذوالفقار علی ہر سطح ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کے زبانی حکم نامہ کے حوالہ دیتے ہوئے مزید خوف ہراس پھیلانے میں مصروف ہے شہریوں نے سینئر ممبر بورڈ آ ف ریونیو، کمشنر لاہور اور سروس ٹربیونل کے فیصلوں کو بھی پش پشت ڈالنے پر چیف سیکرٹری سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1